<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
  <channel>
    <title>Riaz Akber</title>
    <description>Human. Poet. Scientist.</description>
    <link>https://riazakber.com/</link>
    <atom:link href="https://riazakber.com/feed.xml" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 05:18:47 +0000</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 11 Mar 2026 05:18:47 +0000</lastBuildDate>
    <generator>Jekyll v4.4.1</generator>
    
      <item>
        <title>When the Algorithm Took Over</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;سب سمجھتے تھے کہ ناصر شیخ صاحب کے کاروباری کل پرزوں میں سے اندراکانت اگروال اگر منہا ہو گئے تو گاڑی مشکل سے چلے گی۔ جے پور کے بگرو انڈسٹریل ایریا میں شیخ صاحب کے دو گودام تھے۔ یہاں کنڈلا پورٹ اور مندرا پورٹ سے آئے ہوئے کنٹینر کھلتے۔ سامان کی جانچ ہوتی اور پھر گتے کے چھوٹے ڈبوں میں ڈھنگ سے بند کرنے کے بعد اسے مارکیٹ میں نکال دیا جاتا۔ ذرا تفصیل میں جائیں تو کاروبار میں سے اندازاً صرف ایک چوتھائی کا دارومدار بڑی ریٹیلر کمپنیوں کے لئے پیکیجنگ جیسے سیدھے کام پر تھا۔ زیادہ آمدنی پورٹ پر کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے ضبط کئے ہوئے مال کی نیلامی میں بولی لگانے اور حاصل ہونے پر اسے آگے مارکیٹ میں فروخت کرنے سے ہوتی۔ اندراکانت دراصل اسی کام کے ماہر تھے۔ کون سا مال اٹھانا ہے؟ نیلامی کی بولی کہاں تک لگائی جائے؟ آگے کھپت دیس کے کن بازاروں کے کون سے دکانداروں میں ہوگی؟ پلک جھپکتے میں وہ ان سوالوں کا تجزیہ کر کے عمل میں مصروف ہو جاتے۔ شاید ان کے ذہن کی ساخت ہی ایسی تھی جو کئی معاملات کو بیک وقت سوچنے پر نہیں تھکتی۔ ہفتے کے پانچ دن صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ان کا فون کھلا رہتا، سب باتیں زبانی ہوتیں اور وہ بھولے بغیر گودام مینیجر کو مال پیک کرکے سپلائی کرنے کی ہدایات دیتے۔ اس کے علاوہ اندراکانت مہینے میں دو بار کنڈلا اور مندرا کسٹم نیلامی پر بولی لگانے کے لئے بھی جاتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسری طرف گوداموں کے رکھ رکھاؤ کا کام براہِ راست شیخ صاحب کے زیرِ نگرانی تھا۔ اس کے علاوہ وہ پیسے کے لین دین، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، چھٹی، اور اوور ٹائم کا حساب کتاب بھی رکھتے۔ مجموعی طور پر وہ ایک بزرگانہ سی مشفقانہ سرپرستی کے انداز والے ایسے کم گو انسان تھے جو سٹاف سے ان کی کارکردگی سے زیادہ گھر بار کی خیر خیریت پوچھنے کو اپنی کاروباری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ہاں کبھی کبھار جب کسی سودے میں اونچ نیچ آ جاتی تو بتا بھی دیتے، مگر کام ایسا چل رہا تھا کہ سہ ماہی کے حساب میں شاید ہی کبھی خسارے کا سامنا ہوا ہو۔ شیخ صاحب اور ان کی دیکھا دیکھی گودام کا سب سٹاف بھی اندراکانت کا سواگت &apos;آئیے بھائی&apos; کہہ کر کرتا۔ یہ &apos;آئیے&apos; کا لفظ شیخ صاحب نے اس کے نام کے پہلے حرفوں &apos;آئی&apos; اور &apos;اے&apos; سے تراشا تھا۔ اندراکانت مالک کے گھر جانے سے پہلے گودام چھوڑنے کو اپنی نوکری کے اصول کے خلاف مانتے تھے۔ ادھر شیخ صاحب کو بھی اندراکانت پر بہت اعتماد تھا۔ اکثر شام کو کام کے بعد پکارتے،&lt;br /&gt;&apos;آئیے بھائی ۔۔۔ ہو جائے کوئی چائے وائے&apos;۔&lt;br /&gt;پھر دونوں گودام سے کچھ دور ایک دکان پر دودھ الائچی کی چائے اور ساتھ کبھی سموسے یا مٹھائی پر کچھ کاروبار، کچھ سٹاف، اور باقی ادھر ادھر کی باتیں کر کے اپنے گھروں کو روانہ ہوتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آئیے بھائی کو گودام میں ہنسی خوشی کام کرتے پچیس برس سے کچھ اوپر ہو گئے تھے جب انہوں نے جیسے اچانک ہی جے پور چھوڑ کر دلی میں جا کر رہنے کا فیصلہ کیا۔ شاید وہ نہ ہی جاتے مگر حالات بدل رہے تھے۔ ان کے بیٹے نے یہیں جے پور سے میڈیکل کی ڈگری لی تھی مگر پکی ملازمت اسے دلی میں ملی تھی۔ آئیے بھائی کی بیوی بھی کچھ بیمار رہنے لگی تھیں اور، بقول ان کے، بیٹے کا اصرار تھا کہ آتے بڑھاپے میں علاج معالجے اور نگہداشت کے لئے اس کے قریب ہی کہیں منتقل ہو جائیں۔ لیکن نوکری چھوڑنے کے اس فیصلے کے پیچھے ایک دوسری بڑی وجہ بھی تھی جو وہ کسی سے کہہ نہیں پا رہے تھے۔ اور وہ تھی گودام کے انتظامی ماحول میں آتی ہوئی تبدیلیاں۔ دراصل شیخ صاحب کے بچے بھی بڑے ہو رہے تھے اور گودام کے کاروبار میں ان کے عمل دخل کا بڑھنا وقت کا تقاضا تھا۔ مگر اس کے ساتھ کاروباری حکمتِ عملی کے طور طریقوں کا انوکھے ہو جانا، یہ بات آئیے بھائی کی سمجھ سے بالا تھی۔ انہیں کچھ یقین سا تھا کہ اس اکیسویں صدی میں لوگ مشینی ہوتے جا رہے ہیں۔ صنعتی کارکردگی کے اصولوں میں روپیہ اور وسائل کی بچت کو پہلے سوچتے ہیں اور انسانوں کو بعد میں۔ ان کے نزدیک یہ پاپ تھا اور اپنے کام میں یہ بات انہیں گوارا نہیں تھی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آئیے بھائی کی سوچ کو تقویت دینے والی باتیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھیں۔ مثلاً دو سال پہلے تک شیخ صاحب کا دفتر گودام کے باہر کے گیٹ سے جڑے ہوئے کمرے میں تھا۔ اکثر صبح شفٹ شروع ہونے کے ساتھ ہی وہ کھڑکی میں آ کھڑے ہوتے۔ کسی کے سر پہ ہاتھ رکھتے، کسی کا کندھا تھپتپاتے اور ان کے پاس کھڑا ٹائم کیپر سٹاف کے نام کے آگے حاضری کا وقت نوٹ کرتا جاتا۔ عید ہو یا دیوالی دونوں موقعوں ہر ایک کے لئے ایک جوڑا سلوانے کے کپڑے شیخ صاحب اسی کھڑکی سے ہاتھ بڑھا کر پکڑاتے اور دعا دیتے۔ مگر اب وہ بات نہیں تھی۔ سٹاف کے آنے جانے کا دروازہ اب ایک کارڈ کو مشین سے چھونے پر کھلتا اور حاضری کے اوقات وہیں سے خود بخود کمپیوٹر میں درج ہو جاتے۔ اسی طرح تہوار پر ہاتھ سے جوڑے اور دعا دینے کی بجائے ایک دن کی فالتو تنخواہ بینک میں جانے لگی تھی۔ اس سے بڑی بات یہ کہ نیلامی کے سامان کا دھندا اب آئیے بھائی کی بجائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑا ایک ماڈل چلانے لگا تھا۔ پورے ملک کے بازاروں میں دکانداروں کے نام پتے، بکاؤ مال کی کمی بیشی اور مانگ، کسٹم کی نیلامیوں کی تفصیلات سب کسی طرح سے اے-آئ اور اس ماڈل کو معلوم ہو جاتیں۔ وہ چند لمحوں میں حساب کتاب کر کے کمپیوٹر کی اسکرین پر خریدے جانے والے مال کی فہرست دکھا دیتا، اور یہ بھی بتا دیتا کہ کس مال پر حد سے حد کتنی بولی لگانی ہے۔ آئیے بھائی کو اب ہر پندھرواڑے کنڈلا یا مندرا پورٹ کے سفر کی ضرورت تھی نہ دکانداروں کو فون کرنے اور گودام مینیجر کو پیکنگ کی ہدایات جاری کرنے کی۔ کاروبار میں سب کچھ آن لائن ہو گیا تھا۔ سو ایسے میں وہ اپنے آپ کو مشین کا ایک فالتو پرزہ سمجھنے میں حق بجانب ہی تھے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آئیے بھائی کا ملازمت چھوڑ کر جانا اداسی کی بات تھی۔ ایک بڑی تقریب میں دعائوں اور کچھ آنسوئوں کے درمیان انہیں رخصت کیا گیا۔  مگر اتنا کچھ مشینی ہو جانے کے باوجود بھی ایک عجیب بات یہ ہوئی ہے کہ کاروبار چل رہا ہے اور سٹاف بھی خوش ہے۔ لنچ کا بریک آدھے گھنٹے سے بڑھ کر ایک گھنٹہ ہو گیا ہے۔ کامن روم میں کھانے کی میز کرسیوں کے ساتھ اب ایک ٹی وی اور ٹیبل ٹینس کی میز بھی آ گئی ہیں اور باہر لان میں والی بال کا نیٹ۔ ہر تین مہینے بعد دو گھنٹے کا ایک سوشل شو ہوتا ہے جس میں کبھی کوئی سنگر آتا ہے، اور کبھی سرکس کا کرتب، اور ساتھ میں کسی موضوع پر آدھے گھنٹے کا سنجیدہ لیکچر۔ جیسے پچھلا لیکچر گھروں میں سبزیاں اگانے کے بارے میں تھا اور اس سے پہلے کا حفاظتی ٹیکوں سے متعلق۔ پھر شیخ صاحب کے بچوں میں سے کوئی پندرہ منٹ میں گوداموں سے متعلق کوئی بات بتا دیتا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسری عجیب بات یہ ہے کہ کاروبار کے اس طرح چمکنے کے ساتھ شیخ صاحب خود کچھ بجھ سے گئے ہیں۔ سٹاف سے ان کا ذاتی میل ملاپ اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ مذہبی تو وہ پہلے ہی تھے مگر اب ہر سال دو مرتبہ چالیس روز کے لئے خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر چِلّے کے لئے چلے جاتے ہیں۔ اور وہاں دلی میں ہر شام وہ اور آئیے بھائی مل کر دودھ اور الائچی والی چائے کس دکان پر پیتے ہیں، یہ کسی کو نہیں بتاتے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;सब समझते थे कि नासिर शेख साहब के व्यापारिक पुर्ज़ों में से अगर इन्द्रकांत अग्रवाल निकल जाएँ तो गाड़ी मुश्किल से चलेगी। जयपुर के बगरू इंडस्ट्रियल एरिया में शेख साहब के दो गोदाम थे। यहाँ कंडला पोर्ट और मुंद्रा पोर्ट से आए हुए कंटेनर खुलते थे। सामान की जाँच होती और फिर गत्ते के छोटे डिब्बों में ठीक तरह से पैक करके बाज़ार में भेज दिया जाता।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ज़रा विस्तार से देखें तो व्यापार का लगभग एक चौथाई हिस्सा बड़ी रिटेलर कंपनियों के लिए पैकेजिंग जैसे सीधे काम पर निर्भर था। असली आमदनी पोर्ट पर कस्टम विभाग द्वारा नीलाम किए गए माल की बोली लगाने और हासिल होने पर उसे आगे बाज़ार में बेचने से होती थी। इन्द्रकांत दरअसल इसी काम के माहिर थे। कौन-सा माल उठाना है? बोली कहाँ तक लगानी है? आगे देश के किन बाज़ारों के किन दुकानदारों में उसकी खपत होगी? पलक झपकते ही वह इन सवालों का विश्लेषण कर लेते और फिर काम में लग जाते। शायद उनके दिमाग़ की बनावट ही ऐसी थी कि वह एक साथ कई बातों पर सोचने से नहीं थकता था। हफ़्ते के पाँच दिन सुबह सात बजे से शाम पाँच बजे तक उनका फ़ोन खुला रहता। सारी बातें ज़ुबानी होतीं और वह बिना भूले गोदाम मैनेजर को माल पैक करके सप्लाई करने के निर्देश दे देते। इसके अलावा इन्द्रकांत महीने में दो बार कंडला और मुंद्रा की कस्टम नीलाम में बोली लगाने भी जाते।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;दूसरी तरफ़ गोदामों की देख-रेख का काम सीधे शेख साहब की निगरानी में था। इसके अलावा वह पैसों के लेन-देन, तनख़्वाहों की समय पर अदायगी, छुट्टी और ओवरटाइम का हिसाब भी रखते थे। कुल मिलाकर वह कम बोलने वाले, मगर बुज़ुर्गाना और हमदर्दी भरे अंदाज़ के इंसान थे। उनके लिए स्टाफ़ की कारगुज़ारी से ज़्यादा उनके घर-बार की ख़ैरियत पूछना भी एक कारोबारी ज़िम्मेदारी थी। हाँ, कभी-कभार जब किसी सौदे में ऊँच-नीच हो जाती तो वह बता भी देते, मगर काम ऐसा चल रहा था कि तिमाही हिसाब में शायद ही कभी घाटे का सामना हुआ हो। शेख साहब और उनकी देखा-देखी गोदाम का पूरा स्टाफ़ भी इन्द्रकांत का स्वागत “आईए भाई” कहकर करता। “आईए” शब्द शेख साहब ने उनके नाम के पहले अक्षरों “आई” और “ए” से गढ़ा था।&lt;br /&gt;इन्द्रकांत मालिक के घर जाने से पहले गोदाम छोड़ना अपने उसूल के ख़िलाफ़ समझते थे। उधर शेख साहब को भी इन्द्रकांत पर पूरा भरोसा था। अक्सर शाम को काम के बाद आवाज़ देते,&lt;br /&gt;“आईए भाई… हो जाए कोई चाय-वाय।”&lt;br /&gt;फिर दोनों गोदाम से कुछ दूर एक दुकान पर दूध और इलायची वाली चाय पीते। साथ कभी समोसे या मिठाई भी होती। वहीं बैठकर कुछ व्यापार की बातें होतीं, कुछ स्टाफ़ की और कुछ इधर-उधर की, और फिर दोनों अपने-अपने घरों को रवाना हो जाते।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;आईए भाई को गोदाम में हँसी-ख़ुशी काम करते पच्चीस बरस से कुछ ज़्यादा हो गए थे, जब उन्होंने जैसे अचानक ही जयपुर छोड़कर दिल्ली जाकर रहने का फ़ैसला कर लिया। शायद वह न भी जाते, मगर हालात बदल रहे थे। उनके बेटे ने यहीं जयपुर से मेडिकल की डिग्री ली थी, मगर पक्की नौकरी उसे दिल्ली में मिली थी। आईए भाई की बीवी भी कुछ बीमार रहने लगी थीं और उनके बेटे का ज़ोर था कि बढ़ती उम्र में इलाज और देखभाल के लिए वे उसके पास ही आ जाएँ। लेकिन नौकरी छोड़ने के इस फ़ैसले के पीछे एक और वजह भी थी जिसे वह किसी से कह नहीं पा रहे थे। वह थी गोदाम के माहौल में आ रही धीरे-धीरे बदलती हुई बातें। दरअसल शेख साहब के बच्चे बड़े हो रहे थे और व्यापार में उनका दख़ल बढ़ना वक़्त की माँग थी। मगर इसके साथ व्यापार की नई रणनीतियाँ और तौर-तरीक़े आईए भाई की समझ से कुछ परे लगते थे। उन्हें महसूस होने लगा था कि इक्कीसवीं सदी में लोग कुछ ज़्यादा ही मशीन जैसे होते जा रहे हैं। औद्योगिक कार्यक्षमता के उसूलों में पैसे और संसाधनों की बचत पहले सोची जाती है और इंसानों को बाद में। उनके नज़दीक यह बात कुछ पाप जैसी थी और अपने काम में वह इसे मंज़ूर नहीं कर पा रहे थे।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;आईए भाई की इस सोच को मज़बूत करने वाली बातें भी छिपी हुई नहीं थीं। दो साल पहले तक शेख साहब का दफ़्तर गोदाम के गेट के पास वाले कमरे में था।  सुबह शिफ़्ट शुरू होते ही वह खिड़की पर आ खड़े होते। किसी के सिर पर हाथ रखते, किसी का कंधा थपथपाते और उनके पास खड़ा टाइमकीपर स्टाफ़ के नाम के आगे उपस्थिति का समय लिखता जाता। ईद हो या दिवाली, दोनों मौक़ों पर हर कर्मचारी को नए कपड़े सिलवाने के लिए कपड़े का जोड़ा शेख साहब उसी खिड़की से हाथ बढ़ाकर देते और दुआ भी देते। मगर अब वह बात नहीं रही थी। स्टाफ़ के आने-जाने का दरवाज़ा अब एक कार्ड को मशीन से छुआते ही खुल जाता और उपस्थिति का समय वहीं से अपने-आप कंप्यूटर में दर्ज हो जाता। &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;इससे भी बड़ी बात यह थी कि नीलाम के माल का व्यापार अब आईए भाई की जगह आर्टिफ़िशियल इंटेलिजेंस से जुड़ा एक मॉडल चलाने लगा था। पूरे देश के बाज़ारों में दुकानदारों के नाम-पते, बिकाऊ माल की कमी-बेशी और माँग, कस्टम की नीलाम की जानकारी सब किसी तरह ए-आई को मिल जाती। वह कुछ ही पलों में हिसाब लगाकर कंप्यूटर की स्क्रीन पर खरीदे जाने वाले माल की सूची दिखा देता और यह भी बता देता कि किस माल पर ज़्यादा से ज़्यादा कितनी बोली लगानी है। अब आईए भाई को हर पंद्रह दिन में कंडला या मुंद्रा जाने की ज़रूरत नहीं रही थी, न दुकानदारों को फ़ोन करने की और न गोदाम मैनेजर को पैकिंग के निर्देश देने की। व्यापार लगभग पूरा का पूरा ऑनलाइन हो गया था। ऐसे में उन्हें अपने-आप को मशीन का एक फ़ालतू पुर्ज़ा समझना ग़लत भी नहीं लगता था। &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;आईए भाई का नौकरी छोड़कर जाना उदासी की बात थी। एक बड़ी विदाई सभा में दुआओं और कुछ आँसुओं के बीच उन्हें विदा किया गया। मगर अजीब बात यह हुई कि इतना सब कुछ मशीनों पर आ जाने के बावजूद व्यापार चलता रहा और स्टाफ़ भी ख़ुश दिखाई देता था। लंच का ब्रेक आधे घंटे से बढ़कर एक घंटा हो गया था। कॉमन रूम में खाने की मेज़-कुर्सियों के साथ अब एक टेलीविज़न और टेबल टेनिस की मेज़ भी आ गई थी। बाहर लॉन में वॉलीबॉल का नेट लगा था। हर तीन महीने बाद दो घंटे का एक सामाजिक कार्यक्रम भी होने लगा था जिसमें कभी कोई गायक आता, कभी सर्कस का करतब दिखाया जाता, और साथ ही किसी विषय पर आधे घंटे का एक गंभीर व्याख्यान भी होता। जैसे पिछली बार का व्याख्यान घरों में सब्ज़ियाँ उगाने के बारे में था और उससे पहले का टीकाकरण के विषय में। उसके बाद शेख साहब के बच्चों में से कोई पंद्रह मिनट में गोदामों से जुड़ी कोई बात समझा देता।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;दूसरी अजीब बात यह थी कि व्यापार के इस तरह चमकने के साथ शेख साहब ख़ुद कुछ बुझ-से गए थे। स्टाफ़ से उनका निजी मेल-मिलाप अब बहुत कम रह गया था। धार्मिक तो वह पहले भी थे, मगर अब साल में दो बार चालीस दिनों के लिए दिल्ली में ख़्वाजा निज़ामुद्दीन औलिया की दरगाह पर चिल्ले के लिए जाने लगे थे। और दिल्ली में हर शाम वह और आईए भाई मिलकर दूध और इलायची वाली चाय किसी दुकान पर पीते हैं — मगर कौन-सी दुकान है, यह किसी को नहीं बताते।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;Everyone believed that if Indrakant Agrawal were removed from the moving parts of Nasir Sheikh’s business, the whole machine would struggle to run. In the Bagru Industrial Area of Jaipur, Sheikh Sahib owned two warehouses. Containers arriving from Kandla Port and Mundra Port were opened here. Goods were inspected, then carefully packed into small cardboard boxes and released into the market.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;If one looked closely, roughly a quarter of the business depended on simple packaging work for large retail companies. The real profits came from bidding on goods confiscated by the customs department at ports and then selling them onward in the market. Indrakant was the true expert of this trade. Which goods should be purchased? How high should the auction bid go? In which markets of the country would these goods eventually find buyers? In the blink of an eye he would analyse these questions and move into action. Perhaps his mind was built in such a way that it never tired of thinking about several matters at once. Five days a week, from seven in the morning until five in the evening, his phone remained open. Everything was handled verbally. Without forgetting a single detail, he would instruct the warehouse manager which goods should be packed and where they should be dispatched. Besides this, twice every month Indrakant travelled to Kandla and Mundra to place bids at customs auctions.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Meanwhile the maintenance and administration of the warehouses remained directly under Sheikh Sahib’s supervision. He also handled financial transactions, timely payment of salaries, leave, and overtime accounts. Overall he was a quiet man with a somewhat elder-like, affectionate style of leadership. For him, asking about the wellbeing of his staff’s families was as much a business responsibility as monitoring their performance. Occasionally he would point out mistakes in a deal, but the business ran so smoothly that quarterly accounts rarely showed a loss.&lt;br /&gt;Sheikh Sahib, and following his example the entire warehouse staff, welcomed Indrakant by calling out, “Aaiye Bhai!” The word Aaiye had been coined by Sheikh Sahib from the initials of his name — IA. Indrakant believed it was against his principles to leave the warehouse before the owner left for home. And Sheikh Sahib trusted him deeply. Many evenings after work he would call out,&lt;br /&gt;“Aaiye Bhai… shall we have some tea?”&lt;br /&gt;Then the two of them would walk to a small shop a short distance from the warehouse, where over milk tea flavoured with cardamom — sometimes accompanied by samosas or sweets — they talked about business, staff matters, and all sorts of other things before heading home.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;It had been more than twenty-five years of cheerful work in the warehouse when, quite suddenly, Aaiye Bhai decided to leave Jaipur and move to Delhi. Perhaps he might not have left, but circumstances were changing. His son had completed a medical degree in Jaipur but had secured a permanent position in Delhi. His wife had also begun to fall ill frequently, and according to Aaiye Bhai, his son insisted that in advancing age they should live closer to him for treatment and care. Yet there was another reason behind his decision to resign — one he could not bring himself to say aloud. Changes were quietly taking place in the warehouse environment. Sheikh Sahib’s children were growing up, and their involvement in the business was only natural. But along with that, the methods of business strategy were becoming unfamiliar to him. He increasingly felt that in the twenty-first century people were becoming mechanical. The principles of industrial efficiency seemed to prioritise saving money and resources first — and human beings later. To him, this felt almost sinful, and it was something he could not accept in his work.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The signs that reinforced his thinking were not hidden. Until two years earlier Sheikh Sahib’s office had been a small room attached to the warehouse gate. Every morning as the shift began he would stand by the window, placing a hand on someone’s head, patting another on the shoulder, while the timekeeper beside him recorded the arrival time of each worker. On Eid and Diwali alike, Sheikh Sahib would extend his hand through that same window and give every worker a pair of cloth pieces for new clothes, along with his blessings. But things were no longer the same. The staff entrance now opened when a card was touched to a machine, and attendance was automatically recorded in a computer. During festivals, instead of personally handing out cloth and blessings, an extra day’s wage was transferred to the workers’ bank accounts.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Even more significant was that the business of auction purchases was now run not by Aaiye Bhai but by a model connected to artificial intelligence. Somehow the AI system obtained information about shopkeepers across the country — their addresses, shortages and demand for goods, and details of customs auctions. Within moments it analysed everything and displayed on the computer screen a list of preferred goods to be purchased, along with the maximum bidding limit for each item. Aaiye Bhai no longer needed to travel every fortnight to Kandla or Mundra, nor to call shopkeepers or instruct the warehouse manager about packaging. The entire business had moved online. In such circumstances he felt justified in seeing himself as nothing more than an unnecessary spare part of a machine.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Aaiye Bhai&apos;s departure was a sad moment. At a large farewell gathering, amid prayers and a few tears, he was bid goodbye. Yet strangely enough, despite so much mechanisation, the business continued to run smoothly and the staff seemed happy. The lunch break had increased from half an hour to a full hour. In the common room, alongside the dining tables and chairs, there was now a television and a table tennis table. Outside in the lawn stood a volleyball net. Every three months a two-hour social program was held — sometimes featuring a singer, sometimes a circus performer, followed by a half-hour talk on some useful topic. The last lecture had been about growing vegetables at home; before that it had been about vaccination. Afterwards one of Sheikh Sahib’s children would spend fifteen minutes speaking about matters related to the warehouses.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Another strange thing was that while the business seemed to flourish, Sheikh Sahib himself appeared somewhat dimmed. His personal interaction with staff had become rare. He had always been religious, but now twice every year he spent forty days in spiritual retreat at the shrine of Khwaja Nizamuddin Auliya in Delhi. And during those forty days in the same city, every evening, he and Aaiye Bhai will drink milk tea flavoured with cardamom at some shop — though which shop it is, they never told anyone. &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;br /&gt;Canberra, Australia&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/03/08/when-the-algorithm-took-over.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/03/08/when-the-algorithm-took-over.html</guid>
        
        <category>short story - afsana</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Slavery - A Question Left to the Sea</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;گھنگھریالے چھوٹے بال، گہرا سانولا رنگ، آنکھوں میں چمک اور دراز قد۔ صفیہ بلوچ کراچی کی اس یونیورسٹی کی سب لڑکیوں سے مختلف تھی۔ &lt;br /&gt;&apos;میں مکرانی ہوں&apos;&lt;br /&gt;وہ سب کو بتاتی۔ مگر جانتی تھی کہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اسی تاریخ کو جھٹلا رہی ہے جس میں ڈگری لینا چاہتی ہے۔ وہ تاریخ پڑھنا چاہتی تھی۔ ایسا مضمون جس کا ایک باب شاید صرف پانچ نسلیں پہلے اس کے اجداد نے اپنے خون سے لکھا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&apos;کیا خوف ہے؟ کیا منافقت ہے؟&apos;  وہ اکثر سوچتی۔ میں کہہ کیوں نہیں سکتی کہ میں بلوچی نہیں ہوں، میں مکرانی نہیں ہوں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ کون ہوں میں؟ کیا میں زنجباری ہوں؟ معلوم نہیں۔ &lt;br /&gt;اسی الجھن میں وہ اکثر ساحل پر جاتی، پنڈلیوں کو پانی میں بھگو کر جھکتی، ہاتھوں کی لکیروں میں پانی بھرتی، پھر دور کے ساحلوں کی طرف منہ کر کے پوچھتی ۔۔۔۔ &lt;br /&gt;&apos;تم بتائو مجھے، تمہیں تو سب معلوم ہے نا، تم نے تو وہ کشتیاں دیکھی تھیں۔ کہاں کہاں سے گزری تھیں وہ میرے ڈی این اے کو لے کر۔ &lt;br /&gt;دیکھو یہ لسبیلہ اور ادھر گوادر ہے۔ وہ پانسی، اور آگے ارمارا۔&lt;br /&gt;دور وہاں مسقط اور ادھر سٹون ٹاون۔&lt;br /&gt;بولو پانی ۔۔۔۔ بولو نا&apos;۔&lt;br /&gt;مگر آتی جاتی لہریں صفیہ بلوچ کی بات ٹال کر گزر جاتیں۔ اس کی آنکھوں سے گرے ہوئے کتنے آنسوئوں کا قرض سمندر پر واجب ہو گیا ہے، لہروں کو اسکی پرواہ نہیں تھی۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تاریخ کے ایم.اے میں گولڈ میڈل لینے کے بعد پی۔ایچ۔ڈی میں داخلے کے لئے انٹرویو دینے کا دن صفیہ کی زندگی میں بہت دنوں کے بعد آیا تھا۔ رات بھر وہ نقشے کو سامنے رکھ کر گزشتہ چار صدیوں میں انسانوں کو پکڑنے کے علاقوں کو دیکھ کر روتی رہی تھی۔ &lt;br /&gt;کہاں سے آیا ہے میرا ڈی این اے، اور کیسے اسے زنجیریں ڈالیں گئیں؟ ۔۔۔ تنزانیہ، ملاوی،  موزمبیق یا شاید کینیا؟ پکڑ کر کس منڈی میں لائے؟ شاید زنجبار میں سٹون ٹائون، یا سعودی عرب میں جدہ، اومان میں مسقط؟ پھر بحرِ ہند اور بحیرہ عرب سے گزر کر مون سون ہوائوں کے سہارے چلتی وہ چھوٹی سی بادبانی کشتی پاکستان کے کس پورٹ پر رکی؟ کوئی تو بتائو پلیز؟ مگر میں خود ریسرچ کروں گی۔ ملک ملک جائوں گی۔ غلامی کی تاریخ لکھوں گی۔ اپنے لئے ۔۔۔۔۔ اپنے جیسے سب کے لئے۔ یہی اس کا عزم تھا۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا۔&lt;br /&gt;&apos;نام؟&apos;&lt;br /&gt;&apos;صفیہ بلوچ&apos;&lt;br /&gt;&apos;مکرانی ہیں آپ؟&apos;&lt;br /&gt;&apos;نہیں&apos;&lt;br /&gt;&apos;ریسرچ کا ٹاپک&apos;&lt;br /&gt;&apos;ملکِ یمین&apos;&lt;br /&gt;&apos;کیا؟!&apos;&lt;br /&gt;&apos;جی ملکِ یمین ... جن کے مالک تمہارے داہنے ہاتھ ہوئے۔ میرے اجداد کو شاید دو صدیاں پہلے اسی تصور کے تحت مشرقی افریقہ سے غلام بنا کر لایا گیا تھا۔ انسانوں کی منڈیوں میں فروخت ہو کر وہ یہاں پہنچے۔ مجھے ان کی تاریخ پر ریسرچ کرنی ہے۔&apos;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;آج یونیورسٹی کے انٹرویو بورڈ کا فیصلہ صفیہ کو مل گیا ہے۔ بورڈ نے اس کے گزشتہ تعلیمی ریکارڈ کو سراہا ہے۔ آئیندہ ریسرچ کے لئے اسے ایک انتہائی قابل فرد قرار دیا ہے۔ داخلہ کے لئے شرط یہ رکھی گئی ہے کہ وہ &apos;ملکِ یمین&apos; کی بجائے اپنی پی۔ایچ۔ڈی کے لئے کوئی زیادہ دلچسپ اور موزوں موضوع منتخب کرے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;صفیہ کو ایسے لگ رہا ہے جیسے اس کے سوال کا جواب ابھی بھی سمندر کے پاس ہی رہ گیا ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;ग़ुलामी&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;घुँघराले छोटे बाल, गहरा साँवला रंग, आँखों में चमक और लंबा कद। सफ़िया बलोच कराची की इस यूनिवर्सिटी की बाकी लड़कियों से अलग थी।&lt;br /&gt;“मैं मकरानी हूँ।”&lt;br /&gt;वह सबको बताती। मगर जानती थी कि झूठ बोल रही है। उसी इतिहास को झुठला रही है जिसमें वह डिग्री लेना चाहती थी। वह इतिहास पढ़ना चाहती थी — ऐसा विषय जिसका एक बाब शायद सिर्फ़ पाँच नस्लें पहले उसके अजदाद ने अपने ख़ून से लिखा था।&lt;br /&gt;“क्या ख़ौफ़ है? क्या मुनाफ़िक़त है?”&lt;br /&gt;वह अक्सर सोचती।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;मैं क्यों नहीं कह सकती कि मैं बलोची नहीं हूँ, मैं मकरानी नहीं हूँ… मैं… मैं… कौन हूँ मैं? क्या मैं ज़ंजिबारी हूँ? मालूम नहीं। इसी उलझन में वह अक्सर साहिल पर जाती, पिंडलियों को पानी में भिगोकर झुकती, हाथों की लकीरों में पानी भरती, फिर दूर के किनारों की तरफ़ मुँह करके पूछती—&lt;br /&gt;“तुम बताओ मुझे। तुम्हें तो सब मालूम है ना? तुमने तो वो कश्तियाँ देखी थीं। कहाँ-कहाँ से गुज़री थीं वो मेरे डीएनए को लेकर।&lt;br /&gt;देखो यह लसबेला है और उधर ग्वादर। वह पसनी, और आगे ओरमारा।&lt;br /&gt;दूर वहाँ मस्कट और उधर स्टोन टाउन।&lt;br /&gt;बोलो पानी… बोलो ना।”&lt;br /&gt;मगर आती-जाती लहरें सफ़िया बलोच की बात टाल कर गुज़र जातीं। उसकी आँखों से गिरे हुए कितने आँसुओं का क़र्ज़ समंदर पर वाजिब हो गया था, मगर लहरों को उसकी परवाह नहीं थी।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;इतिहास में एम.ए. का गोल्ड मेडल लेने के बाद पीएचडी में दाख़िले के इंटरव्यू का दिन सफ़िया की ज़िंदगी में बहुत दिनों बाद आया था। रात भर वह नक्शे को सामने रखकर पिछली चार सदियों में इंसानों को पकड़ने के इलाक़ों को देखती और रोती रही थी।&lt;br /&gt;कहाँ से आया है मेरा डीएनए, और कैसे उसे ज़ंजीरें पहनाई गईं?&lt;br /&gt;तंज़ानिया, मलावी, मोज़ाम्बिक या शायद केन्या?&lt;br /&gt;पकड़ कर किस मंडी में लाए गए? शायद ज़ांज़ीबार के स्टोन टाउन में, या सऊदी अरब के जेद्दा में, ओमान के मस्कट में?&lt;br /&gt;फिर हिंद महासागर और अरब सागर से गुज़र कर मानसूनी हवाओं के सहारे चलती वह छोटी सी पाल वाली कश्ती पाकिस्तान के किस बंदरगाह पर रुकी?&lt;br /&gt;कोई तो बताओ, प्लीज़।&lt;br /&gt;मगर मैं ख़ुद रिसर्च करूँगी। मुल्क-मुल्क जाऊँगी। ग़ुलामी की तारीख़ लिखूँगी। अपने लिए… अपने जैसे सब लोगों के लिए। यही उसका अज़्म था।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;इंटरव्यू में उससे पूछा गया—&lt;br /&gt;“नाम?”&lt;br /&gt;“सफ़िया बलोच।”&lt;br /&gt;“मकरानी हैं आप?”&lt;br /&gt;“नहीं।”&lt;br /&gt;“रिसर्च का टॉपिक?”&lt;br /&gt;&quot;मिल्क-ए-यमीन&quot;&lt;br /&gt;“क्या?!”&lt;br /&gt;“जी, मिल्क-ए-यमीन... जिनके मालिक तुम्हारे दाहिने हाथ हुए। मेरे अजदाद को शायद दो सदियाँ पहले इसी तसव्वुर के तहत मशरिक़ी अफ़्रीका से ग़ुलाम बना कर लाया गया था। इंसानों की मंडियों में बिक कर वे यहाँ पहुँचे। मुझे उनकी तारीख़ पर रिसर्च करनी है।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;आज यूनिवर्सिटी के इंटरव्यू बोर्ड का फ़ैसला सफ़िया को मिल गया है। बोर्ड ने उसके पिछले तालीमी रिकॉर्ड की तारीफ़ की है। आने वाली रिसर्च के लिए उसे एक बेहद क़ाबिल फ़र्द क़रार दिया है।&lt;br /&gt;दाख़िले के लिए शर्त यह रखी गई है कि वह &quot;मिल्क-ए-यमीन“ की बजाय अपनी पीएचडी के लिए कोई ज़्यादा दिलचस्प और मुनासिब मौज़ू चुन ले।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;सफ़िया को ऐसा लग रहा है जैसे उसके सवाल का जवाब अभी भी समंदर के पास ही रह गया है।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;Tight curls, a deep dusky complexion, bright eyes, and a tall frame. Safia Baloch looked different from all the other girls at this university in Karachi.&lt;br /&gt;“I am Makrani,”&lt;br /&gt;she would tell everyone.&lt;br /&gt;Yet she knew she was lying — denying the very history in which she wished to earn her degree. She wanted to study history, a discipline whose one chapter, perhaps only five generations ago, had been written by her ancestors in their own blood.&lt;br /&gt;“What fear is this? What hypocrisy?”&lt;br /&gt;she often wondered.&lt;br /&gt;Why can I not say it? I am not Balochi. I am not Makrani… I… I… who am I?&lt;br /&gt;Am I Zanzibari? I do not know.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;In this confusion she often walked to the shore. She would dip her calves in the water, bend down, gather the sea in the lines of her palms, and facing distant coasts would ask:&lt;br /&gt;“Tell me. You must know everything. You saw those boats, didn’t you? Where all did they travel carrying my DNA?&lt;br /&gt;Look — this is Lasbela, and there Gwadar. That is Pasni, and beyond it Ormara.&lt;br /&gt;Far away lies Muscat, and there… Stone Town.&lt;br /&gt;Speak, water… please speak.”&lt;br /&gt;But the waves came and went, passing Safia Baloch’s questions in silence. How many tears of hers had now become a debt upon the sea — yet the waves cared little.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;After winning a gold medal in her MA in History, the day of the PhD interview had finally arrived. All night she had sat with a map before her, tracing the regions where human beings had been captured over the last four centuries, and wept.&lt;br /&gt;Where did my DNA come from, and how were chains fastened upon it?&lt;br /&gt;Tanzania? Malawi? Mozambique? Perhaps Kenya?&lt;br /&gt;In which market were they brought and sold? Perhaps in Zanzibar’s Stone Town, or in Jeddah in Arabia, or Muscat in Oman?&lt;br /&gt;Then across the Indian Ocean and the Arabian Sea, riding the monsoon winds, in a small sailing boat — at which port of Pakistan did they finally arrive?&lt;br /&gt;Someone tell me… please.&lt;br /&gt;But I will research it myself. I will travel from country to country. I will write the history of slavery — for myself, and for all those like me. That was her resolve.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;At the interview she was asked:&lt;br /&gt;“Name?”&lt;br /&gt;“Safia Baloch.”&lt;br /&gt;“Are you Makrani?”&lt;br /&gt;“No.”&lt;br /&gt;“Research topic?”&lt;br /&gt;“Milk-al-Yamin.”&lt;br /&gt;“What?!”&lt;br /&gt;“Yes. Milk-al-Yamin — those whom your right hands possess. My ancestors were perhaps brought from East Africa two centuries ago under that very notion of ownership. Sold in human markets, they eventually reached here. I want to research their history.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Today Safia has received the decision of the university interview board. They have praised her academic record and declared her a highly capable candidate for future research.&lt;br /&gt;However, admission will be granted on the condition that she choose a more “interesting and suitable” subject for her PhD instead of Milk-al-Yamin.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Safia feels as though the answer to her question still remains with the sea.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/03/08/slavery-a-question-left-to-the-sea.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/03/08/slavery-a-question-left-to-the-sea.html</guid>
        
        <category>short story (afsancha)</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Who Are We?</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;خدیجہ ہائی اسکول کے پہلے دن ایسے پہنچی جیسے کسی نئی دنیا میں داخل ہو رہی ہو۔&lt;br /&gt;نیا لیپ ٹاپ، موٹی کتابیں، الگ الگ مضامین کے الگ کمرے۔ ہر کمرے میں ایک ماہر — اور ہر ماہر کے پاس ایک انوکھا سچ۔&lt;br /&gt;وہ ہر کلاس میں پوری توجہ سے بیٹھی اور اہم باتیں نوٹ کرتی گئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پہلا پیریڈ — بیالوجی&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;سلائیڈ پر ایک ننگا بچہ — گھاس پر رکھا ہوا، جیسے زمین نے خود اسے جنم دیا ہو۔ ایمیزون کے جنگل کے قریب ایک خانہ بدوش ماں کا بیٹا۔&lt;br /&gt;اگلی سلائیڈ پر سونے کے پنگھوڑے میں جھولتا ہوا بچہ — یورپ کا شہزادہ۔&lt;br /&gt;استاد نے کہا:&lt;br /&gt;“ان دونوں کے جینز میں فرق ایک فیصد سے بھی کم ہو سکتا ہے — شاید صرف 0.1 فیصد۔ باقی سب ایک جیسا۔”&lt;br /&gt;پیدا ہونا، سانس لینا، دل کا دھڑکنا، ہڈیاں، اعصاب — سب انسانوں میں بنیادی طور پر ایک جیسے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خدیجہ نے اپنی کاپی میں لکھا:&lt;br /&gt;انسان حیاتیاتی طور پر بہت زیادہ یکساں ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوسرا پیریڈ — بشریات&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&quot;زمین تقریباً ساڑھے چار ارب سال پرانی ہے۔&lt;br /&gt;زندگی کے ابتدائی آثار ساڑھے تین ارب سال پہلے ملتے ہیں۔&lt;br /&gt;ڈائنوسار آئے اور معدوم ہو گئے، مگر ممالیہ باقی رہے۔&lt;br /&gt;ہم انسان تقریباً تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں ظاہر ہوئے۔&lt;br /&gt;ساٹھ ہزار سال پہلے ہم نے وہاں سے نکل کر دنیا کے مختلف حصوں میں بسنا شروع کیا۔&lt;br /&gt;دس ہزار سال پہلے ہماری تعداد تقریباً پچاس لاکھ تھی، اور آج آٹھ ارب ہے۔&lt;br /&gt;زمین وہی ہے — مگر انسان بہت بڑھ گئے ہیں۔&lt;br /&gt;اب ہم ایک سو پچانوے ملکوں میں تقسیم ہیں، اپنی اپنی سرحدوں، پاسپورٹوں، نظاموں، جنگوں اور سمجھوتوں کے ساتھ۔&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خدیجہ نے لکھا:&lt;br /&gt;انسانی آغاز اور تاریخ مشترک ہے، پھر معاشرے مختلف ہو گئے۔&lt;br /&gt;مگر متضاد اور متصادم کیوں؟ &lt;br /&gt;کون ہمیں لڑا رہا ہے، اور کس لیے؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تیسرا پیریڈ — معاشیات&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;استاد نے سمجھایا:&lt;br /&gt;“کسی ملک کی مجموعی پیداوار کو جی ڈی پی کہتے ہیں۔ اگر اسے آبادی پر تقسیم کریں تو فی کس آمدنی نکلتی ہے۔&lt;br /&gt;کچھ ملکوں میں فی کس آمدنی ہزاروں ڈالر سالانہ ہے، اور کچھ میں چند سو ڈالر۔&lt;br /&gt;اسی لیے کہیں علاج، تعلیم اور خوراک آسانی سے میسر ہیں، اور کہیں بنیادی ضروریات بھی مشکل سے ملتی ہیں۔”&lt;br /&gt;مگر استاد نے یہ بھی کہا:&lt;br /&gt;“اوسط اعداد ہمیشہ پوری تصویر نہیں دکھاتے۔ ہر ملک کے اندر بھی وسائل برابر تقسیم نہیں ہوتے۔”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خدیجہ نے لکھا:&lt;br /&gt;دولت کی تقسیم کہیں بھی یکساں نہیں ہوتی۔ &lt;br /&gt;امارت اور غربت کا فرق رہ جاتا ہے۔&lt;br /&gt;اور غریب ملکوں کے غریبوں کا کیا ہوگا؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;چوتھا پیریڈ — دینیات&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;استاد نے کہا:&lt;br /&gt;“ہر مذہب اپنے پیروکاروں کے لیے سچائی اور رہنمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔&lt;br /&gt;لوگ اپنے عقیدے کو حق سمجھ کر اس پر قائم رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;تاریخ میں لوگوں نے اپنے ایمان کی خاطر قربانیاں بھی دی ہیں — اور اب بھی دے رہے ہیں۔”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;خدیجہ نے لکھا:&lt;br /&gt;عقیدہ انسان کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔&lt;br /&gt;مگر مذہب کے نام پر یہ خونریزی کیوں؟&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پانچواں پیریڈ — لنچ کی میز&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;دوست نے پوچھا:&lt;br /&gt;“پہلا دن کیسا رہا؟”&lt;br /&gt;خدیجہ نے آہستہ سے کہا:&lt;br /&gt;“دلچسپ… مگر سوچنے والا۔&lt;br /&gt;اگر ہم حیاتیاتی طور پر اتنے ملتے جلتے ہیں، اور ہماری ابتدا بھی مشترک ہے، تو پھر ہماری سرحدیں، معیشتیں اور عقیدے اتنے مختلف کیسے ہو گئے؟”&lt;br /&gt;دوست مسکرائی:&lt;br /&gt;“شاید یہی سمجھنا تعلیم کا اصل مقصد ہے۔”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگلے دن سکول کے نوٹس بورڈ پر کسی نے ایک سادہ سا جملہ لکھ دیا تھا:&lt;br /&gt;“یہاں سیکھنا صرف معلومات لینا نہیں، بلکہ بہتر سوال پیدا کرنا بھی ہے۔”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کلاس میں خدیجہ نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔ ایک نئی فائل بنائی۔ عنوان لکھا:&lt;br /&gt;ہم کون ہیں؟&lt;br /&gt;پچھلے ڈیسک پر بیٹھی اس کی دوست نے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;br /&gt;کینبرا، آسٹریلیا&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;ख़दीजा हाई स्कूल के पहले दिन ऐसे पहुँची जैसे किसी नई दुनिया में प्रवेश कर रही हो।&lt;br /&gt;नया लैपटॉप, मोटी किताबें, अलग-अलग विषयों के अलग कमरे। हर कमरे में एक विशेषज्ञ — और हर विशेषज्ञ के पास एक अनोखा सच।&lt;br /&gt;वह हर कक्षा में पूरी तन्मयता से बैठी और महत्वपूर्ण बातें नोट करती गई।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;पहला पीरियड — बायोलॉजी&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;स्लाइड पर एक नग्न शिशु — घास पर रखा हुआ, जैसे धरती ने स्वयं उसे जन्म दिया हो।&lt;br /&gt;अमेज़न के जंगल के पास एक खानाबदोश माँ का बेटा।&lt;br /&gt;अगली स्लाइड पर सोने के झूले में झूलता हुआ शिशु — यूरोप का राजकुमार।&lt;br /&gt;अध्यापक ने कहा:&lt;br /&gt;“इन दोनों के जीन में अंतर एक प्रतिशत से भी कम हो सकता है — शायद केवल 0.1 प्रतिशत। बाकी सब एक जैसा।”&lt;br /&gt;जन्म लेना, साँस लेना, हृदय का धड़कना, हड्डियाँ, तंत्रिकाएँ — मनुष्यों में सब मूलतः समान हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ख़दीजा ने अपनी कॉपी में लिखा:&lt;br /&gt;मनुष्य जैविक रूप से अत्यंत समान हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;दूसरा पीरियड — मानवशास्त्र&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“पृथ्वी लगभग साढ़े चार अरब वर्ष पुरानी है।&lt;br /&gt;जीवन के प्रारंभिक संकेत साढ़े तीन अरब वर्ष पहले मिलते हैं।&lt;br /&gt;डायनासोर आए और विलुप्त हो गए, पर स्तनधारी बचे रहे।&lt;br /&gt;हम मनुष्य लगभग तीन लाख वर्ष पहले अफ्रीका में प्रकट हुए।&lt;br /&gt;साठ हज़ार वर्ष पहले हमने वहाँ से निकलकर दुनिया के विभिन्न भागों में बसना शुरू किया।&lt;br /&gt;दस हज़ार वर्ष पहले हमारी संख्या लगभग पचास लाख थी — और आज आठ अरब है।&lt;br /&gt;पृथ्वी वही है — पर मनुष्य बहुत बढ़ गए हैं।&lt;br /&gt;अब हम एक सौ पचानवे देशों में विभाजित हैं, अपनी-अपनी सीमाओं, पासपोर्टों, व्यवस्थाओं, युद्धों और समझौतों के साथ।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ख़दीजा ने लिखा:&lt;br /&gt;मानव आरंभ और इतिहास साझा है, फिर समाज अलग कैसे हो गए?&lt;br /&gt;और इतने विरोधी और टकरावपूर्ण क्यों? &lt;br /&gt;कौन हमें लड़ाता है, और किसलिए?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;तीसरा पीरियड — अर्थशास्त्र&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अध्यापक ने समझाया:&lt;br /&gt;“किसी देश की कुल उत्पादन क्षमता को जीडीपी कहते हैं। यदि उसे आबादी से विभाजित करें तो प्रति व्यक्ति आय निकलती है।&lt;br /&gt;कुछ देशों में यह हज़ारों डॉलर सालाना है, और कुछ में केवल कुछ सौ डॉलर।&lt;br /&gt;इसीलिए कहीं इलाज, शिक्षा और भोजन सहज उपलब्ध हैं, और कहीं मूलभूत आवश्यकताएँ भी कठिनाई से मिलती हैं।”&lt;br /&gt;फिर उन्होंने जोड़ा:&lt;br /&gt;“औसत आँकड़े पूरी तस्वीर नहीं दिखाते। हर देश के भीतर भी संसाधन बराबर नहीं बँटे होते।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ख़दीजा ने लिखा:&lt;br /&gt;धन का वितरण कहीं भी समान नहीं होता। &lt;br /&gt;समृद्धि और गरीबी का अंतर बना रहता है।&lt;br /&gt;और गरीब देशों के गरीबों का क्या होगा?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;चौथा पीरियड — धर्मशास्त्र&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अध्यापक ने कहा:&lt;br /&gt;“हर धर्म अपने अनुयायियों के लिए सत्य और मार्गदर्शन का स्रोत होता है।&lt;br /&gt;लोग अपने विश्वास को सत्य मानकर उस पर टिके रहते हैं।&lt;br /&gt;इतिहास में लोगों ने अपने आस्था के लिए बलिदान दिए हैं — और आज भी दे रहे हैं।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ख़दीजा ने लिखा:&lt;br /&gt;आस्था मनुष्य की पहचान का महत्वपूर्ण हिस्सा है।&lt;br /&gt;पर धर्म के नाम पर यह रक्तपात क्यों?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;पाँचवाँ पीरियड — लंच की मेज़&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;दोस्त ने पूछा:&lt;br /&gt;“पहला दिन कैसा रहा?”&lt;br /&gt;ख़दीजा ने धीरे से कहा:&lt;br /&gt;“दिलचस्प… पर सोचने वाला।&lt;br /&gt;अगर हम जैविक रूप से इतने समान हैं और हमारी शुरुआत भी साझा है, तो हमारी सीमाएँ, अर्थव्यवस्थाएँ और विश्वास इतने अलग कैसे हो गए?”&lt;br /&gt;दोस्त मुस्कुराई:&lt;br /&gt;“शायद यही समझना शिक्षा का असली उद्देश्य है।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अगले दिन स्कूल के नोटिस बोर्ड पर किसी ने एक साधारण वाक्य लिख दिया था:&lt;br /&gt;“यहाँ सीखना केवल जानकारी लेना नहीं, बल्कि बेहतर प्रश्न पैदा करना भी है।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;कक्षा में ख़दीजा ने अपना लैपटॉप खोला। एक नई फ़ाइल बनाई। शीर्षक लिखा:&lt;br /&gt;हम कौन हैं?&lt;br /&gt;पीछे की डेस्क पर बैठी उसकी मित्र ने देखा और सहमति में सिर हिला दिया।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;br /&gt;कैनबरा, ऑस्ट्रेलिया&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;On her first day of high school, Khadija arrived as if stepping into a new world.&lt;br /&gt;A new laptop, thick textbooks, separate rooms for separate subjects. In each room, an expert — and with every expert, a different truth.&lt;br /&gt;She sat through each class attentively, noting down what seemed important.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;First Period — Biology&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;On the slide, a naked infant — lying on grass, as if the earth itself had given birth to him. The son of a nomadic mother near the Amazon rainforest.&lt;br /&gt;The next slide showed a baby rocking in a golden cradle — a prince of Europe.&lt;br /&gt;The teacher said,&lt;br /&gt;“The genetic difference between these two may be less than one percent — perhaps only 0.1 percent. The rest is the same.&lt;br /&gt;Birth, breath, heartbeat, bones, nerves — fundamentally, humans are alike.&quot;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Khadija wrote in her notebook:&lt;br /&gt;Biologically, human beings are remarkably similar.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Second Period — Anthropology&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“The Earth is about four and a half billion years old.&lt;br /&gt;The earliest signs of life date back three and a half billion years.&lt;br /&gt;Dinosaurs came and disappeared, but mammals survived.&lt;br /&gt;We humans emerged in Africa roughly three hundred thousand years ago.&lt;br /&gt;Sixty thousand years ago, we began migrating to different parts of the world.&lt;br /&gt;Ten thousand years ago, our population was about five million — today it is eight billion.&lt;br /&gt;The Earth is the same — but humans have multiplied.&lt;br /&gt;Now we are divided into one hundred and ninety-five countries, with our borders, passports, systems, wars, and treaties.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Khadija wrote:&lt;br /&gt;Human origins and history are shared — so why did societies grow apart?&lt;br /&gt;Why so conflicting, so divided? &lt;br /&gt;Who makes us fight, and for what?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Third Period — Economics&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The teacher explained,&lt;br /&gt;“A country’s total production is called GDP. If divided by population, it gives per capita income.&lt;br /&gt;In some countries it is thousands of dollars per year; in others, only a few hundred.&lt;br /&gt;That is why healthcare, education, and food are easily available in some places, while basic needs remain scarce in others.”&lt;br /&gt;He added,&lt;br /&gt;“Averages never tell the whole story. Even within countries, resources are unevenly distributed.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Khadija wrote:&lt;br /&gt;Wealth is nowhere equally shared. &lt;br /&gt;The gap between prosperity and poverty remains.&lt;br /&gt;And what of the poor in poor countries?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Fourth Period — Religious Studies&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The teacher said,&lt;br /&gt;“Every religion serves as a source of truth and guidance for its followers.&lt;br /&gt;People hold firmly to what they believe to be right.&lt;br /&gt;Throughout history, people have sacrificed for their faith — and they still do.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Khadija wrote:&lt;br /&gt;Faith is an essential part of human identity.&lt;br /&gt;But why this bloodshed in the name of religion?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Fifth Period — At the Lunch Table&lt;br /&gt;A friend asked,&lt;br /&gt;“How was the first day?”&lt;br /&gt;Khadija replied softly,&lt;br /&gt;“Interesting… but unsettling.&lt;br /&gt;If we are so biologically alike, and our beginnings are shared, how did our borders, economies, and beliefs become so different?”&lt;br /&gt;Her friend smiled.&lt;br /&gt;“Perhaps understanding that is the true purpose of education.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The next day, someone had written a simple sentence on the school notice board:&lt;br /&gt;‘Learning here is not just about receiving information, but about generating better questions.’&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;In class, Khadija opened her laptop and created a new file. She typed the title:&lt;br /&gt;Who are we?&lt;br /&gt;The friend seated behind her glanced at the screen and nodded in quiet agreement.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;br /&gt;Canberra, Australia&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Sat, 21 Feb 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/02/21/who-are-we.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/02/21/who-are-we.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Daughter of History</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;شانتی نے زندگی کا ایک بڑا جصہ اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہوئے گزارا کہ وہ اپنی پیدائش کو خوش قسمتی گردانے یا بدقسمتی۔ &lt;br /&gt;اس کی امی ان چند لاکھ خواتین میں سے ایک تھیں جو دیش میں افراتفری کے دوران اپنی خواہش کے خلاف جنسی ہوس کا شکار ہو کر حاملہ ہوئیں اور وہ خود ان پچاس ساٹھ ہزار بچوں میں سے ایک جن کی مائوں کا اس طرح حاملہ ہونے کے بعد کسی وجہ سے اسقاط نہ ہوا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر جب وہ آسٹریلیا آئی تو مجھے اس کا نام بھی کچھ عجیب سا لگا ۔۔۔ شانتی اللہ دتہ۔ &lt;br /&gt;شانتی کی امی نے اس نام کی جو وجہ بتائی تھی وہ عزیز رہنے کے ساتھ ساتھ عمر کے مختلف مرحلوں میں خود اسے پریشان بھی کرتی رہی۔ ہوا کچھ اس طرح کہ اس کی امی ہندو تھیں مگر انہیں ریپ کرنے والے سمندر پار مغرب کے وہ مسلمان جن کے نام بھی انہیں معلوم نہیں تھے۔ یہ جاننا بھی ناممکن تھا کہ ان میں سے کون شانتی کی بیالوجی کا ذمہ دار ہے۔ سو &apos;اللہ دتہ&apos; کا نام شانتی کی امی نے اس شخص کے لئے خود ساخت کیا تھا۔ اب سوچیں تو وہ بے چاری اور کرتیں بھی کیا؟ ہر دفتر اور سکول میں ذاتی نام کے آگے خاندانی نام کے لازمی خانے کو خالی چھوڑنا بھی تو آسان نہیں تھا۔ ویسے اس کی امی کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ نیا خاندانی نام انہوں نے اپنے دیش میں گزرنے والے ایک بڑے واقعے کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے چنا ہے، یا اپنے ذاتی دکھ کو عنوان دینے کے لئے۔ بس اچانک ذہن میں جو آیا سو لکھ دیا۔ شانتی کی پیدائش کے وقت وہ مشکل سے تئیس برس کی تو تھیں اور ابھی ایک سال پہلے تاریخ کے مضمون میں ایم۔اے کی ڈگری مکمل کی تھی۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شانتی کی طرح کے اکثر بچوں اور ان کی مائوں کو ان کے خاندانوں نے خاموشی سے اپنی اوٹ میں کچھ اس طرح سے چھپا لیا تھا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ پھر بھی ایک بڑی تعداد دیش کے یتیم خانوں میں بھی تھی اور ان میں سے کچھ کو دوسرے متمول ملکوں کے گھرانوں نے گود لے لیا تھا۔ اس سب کے برعکس شانتی کی امی اسے لے کر ایک نئے شہر میں آ گئیں اور ایک کالج میں بطور لیکچرر ملازمت کر لی۔ گویا اس لحاظ سے بھی شانتی کی زندگی میں ایک استثنا تھا کہ اس کی امی نے اس کی پیدائش کی بات کو کبھی کسی سے نہیں چھپایا۔ اس کے بچپن میں وہ یہی کہتی رہیں کہ بگھوان کی دین ہی تو ہے میری بیٹی۔ سو کیا ہوا اگر دیودَتَہ کی بجائے اللہ دِتًہ ہو گیا۔ شانتی کے سکول میں کچھ بچے ہندو تھے اور زیادہ مسلمان۔ وہاں پر اٹھائی جانے والی گفتگو کے جواب میں اس کی امی نے اپنی بیٹی کو ایک جملہ رٹا دیا تھا جسے وہ حسبِ ضرورت اپنے بھولپن کے فخر میں استعمال کرتی۔ اور سننے والوں کو اس کے ٹوٹے ہوئے دودھ کے دانتوں کے درمیان توتلی زبان سے ادا ہوتے ہوئے یہ لفظ بھلے بھی لگتے۔  &lt;br /&gt;&apos;امی اتیہاشر میئے&apos; &lt;br /&gt;(میں تاریخ کی بیٹی ہوں)۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; شانتی نے بارھویں جماعت پاس کرنے کے بعد جب میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تو ایک دن اپنی امی سے پوچھا تھا۔&lt;br /&gt;&apos;جب مجھے جنما تو کیا درد ہوا تھا ماں؟&apos;&lt;br /&gt;&apos;ہاں ہوا تھا۔ سب کو ہوتا ہے۔ معلوم ہے کیوں؟&apos; اس کی امی نے کہا تھا۔&lt;br /&gt;&apos;کیوں؟&apos; &lt;br /&gt;&apos;یہ اپنے پائوں پر سیدھا کھڑا رہنے اور چلنے کی قیمت ہے جو ہر ماں اپنے بچے کے پیدا ہونے پر ادا کرتی ہے۔ ہم انسان چوپائے نہیں ہیں۔ ہماری کولہے کی ہڈیوں کے بیچ فاصلہ کم ہے۔ درد تو ہوگا۔ اب تُو سیدھی کھڑی رہنا شانتی۔ رکنا نہیں۔ چلتی جانا۔ وچن دے مجھ کو۔ وعدہ۔&apos;&lt;br /&gt;&apos;وعدہ ۔ ماں&apos;۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پانچ سال میں ایک ہزار آٹھ سو چھبیس دن اور اتنی ہی راتیں بھی ہوتی ہیں۔ شانتی اللہ دتہ اور اس کی امی نے وہ روز ایک ایک گن کر گزارے۔ اب وہ ایک کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر تھی اور اس کی امی ایک کالج میں تاریخ کی پروفیسر۔ ایک درد بھرا پر عزم آغاز ۔۔۔ ایک کامیاب انجام۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس دنیا میں انسانوں کا میل بھی اتفاقات کا کھیل ہے۔ اب آپ سوچیں کہ شانتی اگر سپیشلسٹ پڑھائی کے لئے آسٹریلیا نہ آتی تو نہ ہم ملتے اور نہ ہی مجھے اس کی کہانی کا علم ہوتا۔ بڑی بڑی سرمئی سی آنکھوں والی شفاف گندمی جلد کی خاتون، جسکی دھیمی آواز اور کم گوئی کسی ہچکچاہٹ کی بجائے گفتگو کی گہرائی کا پتہ دیتی تھی۔ یونیورسٹی میں ہم ایک ہی میڈیکل سکول میں تھے اور بہت اچھے دوست بھی بنے۔ مگر اس سے آگے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا سو خواہش کے باوجود بھی میں نے نہیں پوچھا۔ وہ گائنوکولوجی کا سپیشلسٹ بننا چاہتی تھی، اور بنی۔ &lt;br /&gt;&apos;کنواری گائینوکولوجسٹ&apos; &lt;br /&gt;میں کبھی کبھار اس کو چھیڑتا اور وہ دھیما سا ہنس دیتی۔ &lt;br /&gt;&apos;میں ماں بننا چاہتی ہوں&apos; پھر ایک دن اچانک اس نے کہا۔ &lt;br /&gt;&apos;کیا میں؟!&apos; میں نے پوچھا۔ &lt;br /&gt;&apos;نہیں ۔ کوئی نامعلوم جس کا ریکارڈ نہ ہو۔&apos; &lt;br /&gt;&apos;پاگل مت بنو۔ کیا گزرتی ہے تم تو جانتی ہو؟&apos;&lt;br /&gt;&apos;ہاں۔ مگر میری ماں پر کیا گزری وہ جاننا چاہتی ہوں ۔ جانتے ہو نا ۔۔۔ امی اتیہاشر میئے&apos;۔&lt;br /&gt;جب وہ واپس اپنے دیش گئی تو اس کا ٹیسٹ پوزیٹو تھا۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بیس سال بیت گئے ہیں۔ ہمارا رابطہ بدستور ہے اور دوستی اسی طرح گہری۔ اب تو اس کا بیٹا سریش اللہ دتہ بھی بڑا ہو گیا ہے۔ کچھ مہینےہوئے ہیں یہیں آسٹریلیا میں میرے شہر میں انجینیرنگ پڑھنے کے لئے آیا ہے۔ ہر دوسرے ویک اینڈ پر ہم ملتے ہیں۔ اور اج اکھٹے ایک فلائٹ پر شانتی اور اس کی امی کے شہر راجشاہی جا رہے ہیں ۔۔۔۔ مگر بہت اداس۔ کچھ روز پہلے شانتی کی امی فوت ہو گئی ہیں۔ ان کی زندگی میں نہ ملنے کا مجھے افسوس ہے۔ مگر اب شانتی اور سریش کے ساتھ مل کر ان کی راکھ کو پدمہ دریا میں بہانے پر تو موجود ہوں گا۔ ایک اچھی بات بھی ہوئی ہے، اور وہ یہ کہ اب سے چند ہفتے پہلے اپنی امی کی زندگی میں ہی، بیٹے کو وہاں پڑھا کر اور پھر اپنے خرچے پر یہاں انجینیرنگ یونیورسٹی میں داخل کروانے کے بعد، شانتی نے خود ہی مجھ سے باقی کی زندگی ایک ساتھ گزارنے کا پوچھ لیا تھا۔ سریش کو ہم نے ابھی نہیں بتایا۔ اب جلدی کیا ہے، ایک آدھ سال اور اسے مجھ سے مانوس ہونے دیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہاں پچھلے ایک دو روز سے میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ میرے جیون میں آنے والی اس شانتی کی بیالوجی کا ذمہ دار وہ مرد بھی اب تک شاید مر چکا ہوگا یا شاید اگلے کچھ برس میں مر جائے۔ پھر اس کے بعد ہماری کائناتوں سے بہت ورے ۔۔۔ دور کہیں وہ اللہ ۔۔۔۔ اس اللہ دتہ سے کیا سلوک کرے گا؟ مجھے نہیں معلوم۔ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ برسوں پہلے اپنے پائوں پر سیدھے کھڑے ہونے اور چلتے رہنے کا جو وچن شانتی نے اپنی امی کو دیا تھا، وہ پورا کر دیا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;br /&gt;کینبرا - آسٹریلیا&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;शांति ने अपनी ज़िंदगी का एक बड़ा हिस्सा यह सोचते हुए बिताया कि वह अपने जन्म को सौभाग्य माने या दुर्भाग्य।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;उसकी माँ उन कुछ लाख स्त्रियों में से एक थीं जो देश में अराजकता के दिनों में अपनी इच्छा के विरुद्ध यौन हिंसा का शिकार होकर गर्भवती हुईं। और वह स्वयं उन पचास–साठ हज़ार बच्चों में से एक थी जिनकी माताओं का इस प्रकार गर्भवती होने के बाद किसी कारणवश गर्भपात न हुआ।&lt;br /&gt;जब वह ऑस्ट्रेलिया आई तो उसका नाम मुझे कुछ अजीब लगा — शांति अल्लाह दित्ता।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;उसकी माँ ने इस नाम की जो वजह बताई थी, वह प्रिय भी थी और जीवन के विभिन्न चरणों में शांति को विचलित भी करती रही। बात कुछ यूँ थी कि उसकी माँ हिंदू थीं, पर जिन लोगों ने उनका बलात्कार किया वे समुद्र पार पश्चिम से आए मुसलमान थे — जिनके नाम तक उन्हें ज्ञात नहीं थे। यह जानना असंभव था कि उनमें से कौन शांति की जैविक उत्पत्ति का कारण था। इसलिए “अल्लाह दित्ता” नाम शांति की माँ ने स्वयं गढ़ लिया था। अब सोचें तो वह बेचारी और करती भी क्या? हर दफ़्तर और स्कूल में व्यक्तिगत नाम के आगे पारिवारिक नाम का अनिवार्य ख़ाना खाली छोड़ना आसान नहीं होता। शायद उन्हें स्वयं भी नहीं पता था कि यह नया उपनाम उन्होंने अपने देश में घटे एक बड़े ऐतिहासिक हादसे की स्मृति को जीवित रखने के लिए चुना था या अपने निजी दुख को एक शीर्षक देने के लिए। बस उस समय जो मन में आया, लिख दिया। शांति के जन्म के समय वह मुश्किल से तेईस वर्ष की थीं और एक वर्ष पहले ही इतिहास विषय में एम.ए. पूरा किया था।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;शांति जैसे अधिकांश बच्चों और उनकी माताओं को उनके परिवारों ने चुपचाप अपनी ओट में छुपा लिया — जैसे कुछ हुआ ही न हो। फिर भी बड़ी संख्या में बच्चे अनाथालयों में भी थे, और उनमें से कुछ को संपन्न देशों के परिवारों ने गोद ले लिया। इसके विपरीत, शांति की माँ उसे लेकर एक नए शहर आ गईं और एक कॉलेज में व्याख्याता बन गईं। इस दृष्टि से भी शांति का जीवन एक अपवाद था कि उसकी माँ ने उसके जन्म की सच्चाई कभी नहीं छिपाई।&lt;br /&gt;बचपन में वह कहतीं —&lt;br /&gt;“भगवान की देन है मेरी बेटी। तो क्या हुआ यदि देवदत्ता की जगह अल्लाह दित्ता हो गया?”&lt;br /&gt;स्कूल में कुछ बच्चे हिंदू थे और अधिकतर मुसलमान। वहाँ उठने वाली चर्चाओं के उत्तर में उसकी माँ ने उसे एक वाक्य रटा दिया था जिसे वह अपने भोले गर्व में आवश्यकता अनुसार दोहराती — और सुनने वालों को उसके टूटे दूध के दाँतों के बीच से निकलती तोतली आवाज़ में यह शब्द भले लगते:&lt;br /&gt;“आमी इतिहासेर मेये।”&lt;br /&gt;(मैं इतिहास की बेटी हूँ।)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;बारहवीं कक्षा के बाद जब उसने मेडिकल कॉलेज में प्रवेश लिया तो एक दिन उसने माँ से पूछा:&lt;br /&gt;“जब मैं पैदा हुई तो क्या बहुत दर्द हुआ था, माँ?”&lt;br /&gt;“हाँ हुआ था। सबको होता है। मालूम है क्यों?” माँ ने कहा।&lt;br /&gt;“क्यों?”&lt;br /&gt;“अपने पैरों पर सीधा खड़े होने और चलने की कीमत है यह, जो हर माँ अपने बच्चे के जन्म पर चुकाती है। हम इंसान चौपाये नहीं हैं। हमारी कूल्हे की हड्डियों के बीच दूरी कम है। दर्द तो होगा। अब तू सीधी खड़ी रहना शांति। रुकना नहीं। चलती जाना। वचन दे मुझे।”&lt;br /&gt;“वचन, माँ।”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;पाँच वर्षों में एक हज़ार आठ सौ छब्बीस दिन और उतनी ही रातें होती हैं। शांति अल्लाह दित्ता और उसकी माँ ने वे दिन एक-एक गिनकर गुज़ारे। अब वह एक योग्य मेडिकल डॉक्टर थी और उसकी माँ कॉलेज में इतिहास की प्रोफ़ेसर। एक पीड़ादायक पर दृढ़ शुरुआत — एक सफल परिणति।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;दुनिया में इंसानों का मिलना भी संयोगों का खेल है। यदि शांति विशेषज्ञ पढ़ाई के लिए ऑस्ट्रेलिया न आती तो न हमारी मुलाक़ात होती और न मुझे उसकी कहानी मालूम होती। बड़ी धूसर आँखों और साफ़ गेहुँआ रंग वाली वह स्त्री — जिसकी धीमी आवाज़ और कम बोलना किसी झिझक का नहीं बल्कि गहराई का संकेत था। हम एक ही मेडिकल स्कूल में थे और अच्छे मित्र बने। पर उससे आगे उसका कोई इरादा नहीं था, इसलिए इच्छा होते हुए भी मैंने कुछ नहीं पूछा।&lt;br /&gt;वह स्त्रीरोग विशेषज्ञ बनना चाहती थी — और बनी।&lt;br /&gt;“कुँवारी गायनाकॉलोजिस्ट,”&lt;br /&gt;मैं कभी-कभी छेड़ता और वह धीमे से मुस्कुरा देती।&lt;br /&gt;एक दिन अचानक उसने कहा,&lt;br /&gt;“मैं माँ बनना चाहती हूँ।”&lt;br /&gt;“क्या मैं?” मैंने पूछा।&lt;br /&gt;“नहीं। कोई अज्ञात — जिसका कोई रिकॉर्ड न हो।”&lt;br /&gt;“पागल मत बनो। तुम जानती हो क्या गुज़रती है।”&lt;br /&gt;“हाँ। मगर मेरी माँ पर क्या गुज़री — वह जानना चाहती हूँ। जानते हो ना… आमी इतिहासेर मेये।”&lt;br /&gt;जब वह अपने देश लौटी तो उसका परीक्षण सकारात्मक था।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;बीस वर्ष बीत चुके हैं। संपर्क अब भी है और मित्रता उतनी ही गहरी। उसका बेटा सुरेश अल्लाह दित्ता अब बड़ा हो गया है। कुछ महीने पहले यहीं ऑस्ट्रेलिया में मेरे शहर में इंजीनियरिंग पढ़ने आया है। हर दूसरे सप्ताहांत हम मिलते हैं।&lt;br /&gt;और आज हम एक ही उड़ान से शांति और उसकी माँ के शहर राजशाही जा रहे हैं — पर बहुत उदास। कुछ दिन पहले उसकी माँ का देहांत हो गया। जीवन में उनसे न मिल पाने का मुझे अफ़सोस है। पर अब शांति और सुरेश के साथ उनकी राख पद्मा नदी में विसर्जित करने तो रहूँगा।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;एक और अच्छी बात हुई है। कुछ सप्ताह पहले, अपनी माँ के जीवनकाल में ही, बेटे को पढ़ाकर और अपने खर्चे पर यहाँ इंजीनियरिंग विश्वविद्यालय में दाख़िला दिलवाने के बाद, शांति ने स्वयं मुझसे शेष जीवन साथ बिताने का प्रस्ताव रखा। सुरेश को हमने अभी नहीं बताया। जल्दी क्या है? एक-दो साल उसे मुझसे परिचित होने दें।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;पिछले कुछ दिनों से मैं यह भी सोच रहा हूँ कि शांति के जीवन में आने वाली उसकी जैविक उत्पत्ति का उत्तरदायी वह पुरुष भी शायद अब मर चुका होगा — या कुछ वर्षों में मर जाएगा। फिर उसके बाद हमारी इन ब्रह्मांडों से बहुत दूर… कहीं वह अल्लाह… उस “अल्लाह दित्ता” के साथ क्या करेगा? मुझे नहीं मालूम। पर इतना जानता हूँ कि वर्षों पहले अपने पैरों पर सीधा खड़े रहने और चलते जाने का जो वचन शांति ने अपनी माँ को दिया था — वह उसने निभा दिया है।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;br /&gt;कैनबरा - ऑस्ट्रेलिया&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;Shanti spent a large part of her life asking herself whether she should consider her birth a blessing or a misfortune.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Her mother had been among a few hundred thousand women who, during the chaos in their country, were assaulted against their will and became pregnant. Shanti herself was one among the fifty or sixty thousand children whose mothers, for whatever reason, could not undergo abortion after such pregnancies.&lt;br /&gt;When she came to Australia, even her name struck me as unusual — Shanti Allah Ditta.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The reason her mother had given for that name was both tender and unsettling at different stages of Shanti’s life. Her mother was Hindu. The men who violated her were Muslim soldiers from across the western sea — men whose names she never knew. It was impossible to determine which one was biologically responsible for Shanti’s existence. So “Allah Ditta” was a surname her mother invented herself. What else could she have done? Leaving the mandatory “family name” column blank on every school and official form was hardly simple.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Perhaps she herself did not fully know whether she chose that new surname to preserve the memory of a great historical upheaval in her country — or merely to give a title to her own private grief. At the time of Shanti’s birth she was barely twenty-three, having completed a Master’s degree in History just a year earlier. Many mothers and children like Shanti were quietly absorbed back into families as though nothing had happened. Others filled orphanages; some were adopted into affluent foreign households. In contrast, Shanti’s mother moved to a new city with her daughter and took a lecturer’s position at a college. In that too, Shanti’s life was an exception — her mother never concealed the circumstances of her birth.&lt;br /&gt;“She is God’s gift,” she would say. “So what if instead of Dev Datta she became Allah Ditta?”&lt;br /&gt;At school, where some children were Hindu and most were Muslim, her mother taught her a sentence to repeat whenever questions arose. In her lisping childhood pride, between broken milk teeth, she would declare:&lt;br /&gt;“Ami itihasher meye.”&lt;br /&gt;(I am the daughter of history.)&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;After completing twelfth grade and entering medical college, Shanti once asked her mother:&lt;br /&gt;“Did it hurt when you gave birth to me?”&lt;br /&gt;“Yes. It did. It hurts for everyone. Do you know why?”&lt;br /&gt;“Why?”&lt;br /&gt;“It is the price every mother pays for her child to stand upright and walk. We humans are not four-legged creatures. Our hips are narrow. Of course it hurts. Now you must stand straight, Shanti. Do not stop. Keep walking. Promise me.”&lt;br /&gt;“I promise, Ma.”&lt;br /&gt;Five years contain 1,826 days — and as many nights. Shanti Allah Ditta and her mother counted them one by one. She became a qualified medical doctor; her mother, a professor of history. A painful yet resolute beginning — a successful culmination.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Human meetings, too, are accidents of circumstance. Had Shanti not come to Australia for specialist training, we would never have met, and I would never have known her story. Large grey eyes, luminous wheat-coloured skin; a quiet voice and measured speech that suggested depth rather than hesitation. We studied in the same medical school and became close friends. She had no intention of going further, so despite desire, I never asked.&lt;br /&gt;She wished to specialise in gynecology — and she did.&lt;br /&gt;“An unmarried gynecologist,” I would tease.&lt;br /&gt;She would smile softly.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“One day,” she said suddenly, “I want to become a mother.”&lt;br /&gt;“With me?” I asked.&lt;br /&gt;“No. To someone unknown. Someone without a record.”&lt;br /&gt;“Don’t be reckless. You know what women endure.”&lt;br /&gt;“Yes,” she replied. “But I want to understand what my mother endured. You know… I am the daughter of history.”&lt;br /&gt;When she returned to her country, her test was positive.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Twenty years have passed. Our contact remains; our friendship, just as deep. Her son, Suresh Allah Ditta, is grown now. A few months ago he came to my Australian city to study engineering. We meet every other weekend.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Today we are on the same flight to Rajshahi — Shanti’s hometown — but with heavy hearts. Her mother passed away a few days ago. I regret not meeting her while she lived, but I will be present with Shanti and Suresh as we consign her ashes to the Padma River.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;There is another development. A few weeks before her mother’s death — after educating her son and securing his admission to an engineering university here at her own expense — Shanti asked whether we might spend the rest of our lives together. We have not told Suresh yet. There is no hurry. Let him grow accustomed to me for a year or two more.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;In the past day or two I have also wondered whether the man biologically responsible for Shanti’s existence is already dead — or will die in the coming years. Beyond our small human universes… what will Allah do with that “Allah Ditta”? I do not know. But I do know this: the promise Shanti made long ago — to stand upright and keep walking — she has fulfilled.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;br /&gt;Canberra - Australia&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Thu, 19 Feb 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/02/19/daughter-of-history.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/02/19/daughter-of-history.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Sparrows and Vacuum Cleaners</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;گھر کی منڈیر پر چہچہاتی چڑیاں بہت بچپن سے میری صبح کا الارم رہی ہیں۔ مگر چند سال ہو گئے ہیں جب سے شہر میں چڑیوں کی آبادی اس حد تک گری ہے کہ میری روزانہ معمولات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ دوسری طرف میرا وکالت کا پیشہ اچھی تیاری اور حاضر دماغی کا طلبگار ہے۔ کچہریوں میں ساکھ بگڑتے دیر نہیں لگتی - نتیجہ کم شہرت، کم آمدنی۔ اس تناظر میں اگر آپ چاہیں تو اسے میری خود غرضی کہہ لیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ خود میں نے ہی شہر کی چڑیوں کو عدالت میں انسانوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر اکسایا تھا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مقدمے کی بنیاد اس بات پر تھی کہ انسان اپنے رہن سہن کے طور طریقے بدلنے کے فیصلے شہر میں بسنے والی دیگر مخلوقات سے مشورہ کے بغیر اور اکثر ان کے مفاد کے خلاف یک طرفہ طور پر کر رہے ہیں۔ زیرِ بحث معاملہ گھروں اور سڑکوں کی صفائی کے لئے تنکوں سے بنے ہوئے جھاڑو ترک کر کے مشینی ویکیوم کلینر کے استعمال کا تھا۔ پورے شہر میں جھاڑوئوں سے ٹوٹ کر ادھر ادھر گرے ہوئے تنکے ہی چڑیوں کے گھروں کا تعمیراتی سامان تھا۔ کچھ عرصہ تک پرانے تنکوں کے دوبارہ استعمال سے کام نکالا گیا لیکن بالآخر وہ بھرھرے پو کر ناکارہ ہوگئے۔ نئے تنکوں کے ناپید ہونے کی وجہ سے گھونسلوں، انڈوں، اور پھر چڑیوں کی نئی نسلوں کی افزائش میں کمی آئی اور اب وہ شاذ کے طور پر ہی دکھائی دیتی ہیں۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;جہاں تک میری سوچ تھی، یہ کیس مضبوط تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ وکالت میں دشمن کی  بات سے بھی کام چلے تو لو۔ سو اسی خیال سے میں نے عدالت کی اجازت سے بلیوں کی گواہی بھی کاروائی میں شامل کروا لی تھی۔ معاملہ صاف اور سیدھا سادا تھا۔ بلیوں کی خوراک کا بہت سا انحصار چڑیوں کے شکار پر تھا۔ اب چڑیاں ہی نہ ہوں تو بلیوں کے پیٹ پیٹھ کی ہڈیوں سے جا لگنے کے امکان کو کون رد سکتا ہے ۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;کیس کی اہمیت کے پیشِ نظر تین جج صاحبان کا ایک بنچ سماعت پر تعینات تھا۔ پھر چڑیاں بنام انسان کے کورٹ کیس کا شہر کے اخباروں میں بہت چرچا ہوا۔ میڈیا کی اس دلچسپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی سماعت کے روز عدالت کا کمرہ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اپیل کنندہ کے سینیر قانونی نمائندہ کی حیثیت سے مجھے کیس کا تعارف اچھے الفاظ میں پیش کرنے کا موقعہ ملا۔ مختصراً درخواست یہ تھی کہ چڑہوں کے گھونسلوں کی خاطر تنکوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے شہر میں ویکیوم کلینر کی جگہ جھاڑو کے استعمال کو از سرِ نو جاری کیا جائے۔ مدعا علیہ شہریان کی جانب کے وکلا نے اپنے گواہان کی فہرست پیش کرنے کے علاوہ چند اور مطالبات بھی عدالت کے سامنے رکھے جن میں سے ایک مضحکہ خیز مطالبہ یہ بھی تھا کہ اپنے کیس پر اعتماد کے اظہار کے طور پر اپیل کنندہ چڑیوں کی نمائیندہ ہماری ٹیم کے چاروں وکلا اپنے گھریلو استعمال کے تمام ویکیوم کلینر مقدمے کا فیصلہ ہونے کی مدت تک عدالت میں جمع کروائیں۔ عدالت کے استفسار پر ہم نے اس مطالبے کو تسلیم کیا۔ اور مقدمہ چند ہفتے بعد آئیندہ سماعت کے لئے ملتوی ہو گیا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مجھے یاد ہے کہ اس ابتدائی کاروائی کے بعد شام کو اپنی وکالت کی شہرت کے فاخرانہ انداز کو سمیٹے گھر میں داخل ہوا تھا۔ مگر یہ رنگ دیر تک رہا نہیں۔ میرے اپنے گھر والوں میں سے کوئی بھی گرد کشی کے لئے ویکیوم کلینر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوا۔ بہتیری منت سماجت کی کہ عدالتی حکم ہے، اگر تعمیل نہ ہوئی تو اپنا کیس خود ہی کمزور کرنے والی بات ہے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اپنی ٹیم کے دوسرے وکلا سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سب کے ہاں کم و بیش یہی حالات ہیں۔ سو طے یہ پایا کہ گھروں کا مال گھروں ہی میں رہنے دیا جائے اور مّیں آئیندہ ہفتے کسی وقت کباڑئیے کی دوکان سے قابلِ مرمت ویکیوم کلینر سستے داموں خرید کر عدالت کے دفتر میں جمع کروا دوں۔ ان چار قدرے گرد آلود خستہ حال آلات کی وصولی کے وقت عدالتی اہلکار کیا واقعی زیرِ لب مسکرائے یا شاید میرے دل کے چور نے یہ محسوس کیا، کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اصل ستم تو اس آتے جاتے صحافی کا ہے جس نے کباڑی کی دوکان سے صرف ایک ہی نہیں بلکہ چار ویکیوم کلینر خریدتے اور اپنی کار میں رکھواتے کی میری تصویریں لیں چھپ کر لیں اور اگلے روز اخبار میں چھاپ دیں۔ بہت سبکی ہوئی اور بعد میں ہفتوں سوچتا رہا کہ اسے دوش دوں یا خود کو۔ اتنے مشہور کورٹ کیس کے پبلک میں عام ہو جانے کے بعد میں یہ کیوں بھول گیا تھا کہ شہر کا میڈیا میری نقل و حرکت پر بھی دلچسپی سے نظر رکھ رہا ہوگا۔ تاہم شکر ہے کہ عدالت نے بردباری سے کام لے کر اس سارے واقعے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اگلی عدالتی تاریخ پر استغاثہ کی جانب سے نمائندہ بلیوں کو بطور گواہ حاضر ہونا تھا۔ دبلی بلیاں بھیجنے کی میری تاکید کے باوجود وہ پانچ جو عدالت میں بطور گواہ آئیں سبھی فربہ اور تنومند تھیں۔ عدالت نے حسبِ دستور ان سے سچ اور صرف سچ کہنے کا حلف لیا۔ اس کے بعد سوال و جواب اور جراح کے دوران بلیوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں شہر کی چڑیاں برسوں تک ان کا روائیتی شکار رہیں اور یہ بھی کہ چڑیوں کی آبادی میں کمی کے باعث ان پر خوراک کی قلت کے دن ضرور آئے تھے۔ مگر اس صورتِ حال کے نتیجے میں انہیں نئے وسائل کی تلاش کی تحریک بھی ہوئی۔ اور اب انسانوں کی رد کی ہوئی خوراک کے ڈھیر ان کے کھانے کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس شہر کے انسان مرغن غذائوں کی طرف مائل ہیں جس کے نتیجے میں بھوک کی بجائے اب خوش خوراکی کی فربہی ان کا مسئلہ بن گئی ہے۔ بلیوں کا یہ انکشاف عدالت میں موجود افراد کے لئے حیران کن تھا اور ہماری ٹیم کے لئے پریشان کن بھی۔ ہمارا وار ناکام گیا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;عدالت کی بقیہ کاروائی سے ہمیں زیادہ کامیابی کی توقع نہیں تھی۔ مثلاً شہر کے بلدیاتی اداروں اور مرکزی حکومت کے نمائندوں نے بھی چڑیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کی جانب سے صفائی ستھرائی کے مختلف آلات کے انتخاب پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اور اس سلسلے میں متبادل ڈرائع کو مارکیٹ میں مہیا رکھنا ان کے فراضِ منصبی میں تھا۔ سو جو چاہے جھاڑو استعمال کرے اور جو چاہے ویکیوم کلینر۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب اگر ویکیوم کلینر کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی تو انکے موجودہ تاجروں کو ادا کئے جانے والے تاوان کی وجہ سے بجٹ کی دوسری مدات جیسے ہسپتالوں، سکولوں، اور سڑکوں کی دیکھ بھال اور آئیندہ تعمیر  کم از کم دس سال تک شدید متآثر ہوگی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انتہائی غیر متوقع طور پر ہمارے کیس پر سب سے کاری ضرب خود جھاڑو بنانے والی کمپنیوں کے نمائیندے نے لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جھاڑو انڈسٹری کی بحالی کی کوششوں کا خیر مقدم کریں گے مگر بڑھتی ہوئی شہری آبادیاں، جوار اور باجرے کی کم ہوتی ہوئی زرعی فصلوں کی ڈنڈیاں،  اور جنگلوں میں خودرو برائون گھاس کی کمی اس کام کو ناکافی کر دیں گی۔ ہاں جھاڑو انڈسٹری پلاسٹک کے تیلوں کے استعمال پر رضامند ہو سکتی ہے بشرطیکہ ابتدائی ریسرچ کے لئے حکومتی گرانٹ مہیا کی جائے اور بعد استعمال پلاسٹک کی آلودگی کو سنبھالنے کی ذمہ داری جھاڑو انڈسٹری پر لاگو نہ ہو۔ حکومتی اداروں کی گرانٹ تو درکنار، خود چڑیاں بھی اپنے نوزائیدہ بچوں کی بڑھوتی کے لئے پرانے ٹوٹے ہوئے پلاسٹک کے تنکوں کے گھونسلوں پر رضامند نہ ہوئیں۔ انہیں اپنی آئیندہ نسلوں پر مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کے اثر کا اندیشہ تھا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہم مقدمہ ہار گئے۔ ہماری طرح کے انسان، عدالت کے جج صاحبان، اس شہر میں چڑیوں کو &lt;br /&gt;آئیندہ نسلوں کی آبادی کی کوئی ضمانت فراہم نہ کر سکے۔ فیصلہ میں یہ ضرور لکھا گیا کہ انہیں قریبی جنگلات میں گھونسلے بنانے کی کھلی اجازت ہے۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ انسانی ضروریات کے لئے جنگل کے درختوں کی کٹائی پر گھونسلوں سے نقل مکانی کے انتظامات چڑیوں کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔ اپنی اڑان کے حفاظتی اقدامات خود کرنے کے بعد وہ بخوشی شہر میں آ جا بھی سکتی ہیں۔ کوئی شہری کس چڑیا کے بس، ٹرک، یا کار سے ٹکرا کر زخمی ہونے یا مرنے پر جوابدہ نہیں ہوگا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;میں نے وکالت چھوڑ کر ویکیوم کلینر بیچنے کی دوکان کھول لی ہے۔ میرا وہ ذاتی مسئلہ جو چڑیوں کی طرف سے یہ کیس بنانے کا سبب بنا تھا، اسے بھی میرے بچوں نے حل کر دیا ہے۔ اب میرے کمرے میں کھڑکی کے پاس پلاسٹک کے پھولوں سے سجا ایک گلدان رکھا ہے۔ سورج کی پہلی کرنوں کے پڑنے کے ساتھ ہی اس کے اندر سے کئی چڑیوں کے چہکنے کی ریکارڈ شدہ آوازیں آتی ہیں۔ ہاں کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ شاید کہیں کوئی ایسی عدالت بھی ہوگی جہاں ایک روز مجھے، میرے مخالف وکیلوں، اور جج صاحبان کو اکھٹا ایک کٹہرے میں پیش ہونا پڑے گا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;  ریاض اکبر&lt;br /&gt;کینبرا۔ آسٹریلیا&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;घर की मुंडेर पर चहचहाती चिड़ियाँ बचपन से मेरी सुबह की घंटी रही हैं। लेकिन कुछ सालों से शहर में चिड़ियों की संख्या इतनी घट गई है कि मेरी रोज़ की लय ही बिगड़ गई। और उधर मेरा पेशा—वकालत—तैयारी और तेज दिमाग़ चाहता है। कचहरी में नाम खराब होते देर नहीं लगती—नतीजा: कम पहचान, कम कमाई। आप चाहें तो इसे मेरी खुदगर्ज़ी कह लें, पर सच यह है कि शहर की चिड़ियों को इंसानों के खिलाफ अदालत में मुक़दमा करने के लिए मैंने ही उकसाया था।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;मुक़दमे की बात सीधी थी: इंसान अपने जीने के तरीके बदलते जाते हैं, और शहर में साथ रहने वाली दूसरी जिंदगियों से न पूछते हैं, न उनके नुकसान का हिसाब रखते हैं। इस बार मामला था—झाड़ू छोड़कर वैक्यूम क्लीनर अपनाने का। झाड़ू से टूटकर बिखरे तिनके ही चिड़ियों के घोंसलों का सामान होते थे। कुछ दिन पुराने तिनकों से काम चला, फिर वे भुरभुरे होकर बेकार हो गए। नए तिनके नहीं मिले तो घोंसले कम हुए, अंडे कम हुए, और नई पीढ़ी भी। अब चिड़ियाँ कभी-कभार ही दिखती हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;मेरे हिसाब से केस मजबूत था। और आप जानते हैं, वकालत में दुश्मन की दलील भी काम की हो तो उठा लेते हैं। इसी सोच से मैंने अदालत से इजाज़त लेकर बिल्लियों को भी गवाह बना लिया। बात साफ थी—बिल्लियों का खाना काफी हद तक चिड़ियों पर टिका था। चिड़ियाँ ही न रहें तो बिल्लियों की हालत क्या होगी, अंदाज़ा लगाना मुश्किल नहीं। &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;मामले की अहमियत देखते हुए तीन जजों की बेंच बनी। ‘चिड़ियाँ बनाम इंसान’ की खबर अख़बारों में छपी तो शहर में हलचल मच गई। पहली सुनवाई के दिन अदालत खचाखच भरी थी। हमारी तरफ से मैंने यह मांग रखी कि चिड़ियों के लिए तिनकों का इंतज़ाम फिर से हो—और इसके लिए वैक्यूम की जगह झाड़ू का इस्तेमाल वापस लाया जाए। बचाव पक्ष ने एक अजीब शर्त रखी—अगर हमें अपने केस पर इतना भरोसा है तो हम सब अपने घरों के वैक्यूम क्लीनर फैसला आने तक अदालत में जमा कर दें। अदालत ने पूछा, हमने मान लिया। अगली तारीख पड़ गई।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;शाम को मैं अपनी पेशेवर शान समेटे घर लौटा—पर शान ज्यादा देर टिक न सकी। घर में कोई भी वैक्यूम छोड़ने को तैयार नहीं था। बहुत समझाया कि अदालत का मामला है, पर कोई नहीं माना। बाकी वकीलों के घरों में भी यही हाल था। आख़िर तय हुआ कि घर के वैक्यूम घर में ही रहें, और मैं कबाड़ी की दुकान से चार पुराने मशीन खरीदकर अदालत में जमा कर दूँ। जब वे चार धूल भरे वैक्यूम जमा कर रहा था तो अदालत का बाबू सच में मुस्कुराया या मुझे ही लगा—कह नहीं सकता। असली मुसीबत उस पत्रकार ने खड़ी की जिसने मुझे कबाड़ी की दुकान से चार वैक्यूम खरीदते हुए कैमरे में पकड़ लिया। अगले दिन अख़बार में तस्वीर छपी। बड़ी बेइज़्ज़ती हुई। कई दिनों तक सोचता रहा—गलती उसकी थी या मेरी?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अगली सुनवाई पर बिल्लियाँ गवाही देने आईं। मैंने कहा था—दुबली बिल्लियाँ भेजना। पर जो आईं, सब मोटी-ताज़ी। उन्होंने माना कि पहले चिड़ियाँ उनका शिकार थीं, और चिड़ियाँ कम हुईं तो कुछ समय खाने की दिक्कत भी आई। मगर फिर उन्होंने नया रास्ता निकाल लिया—अब इंसानों के फेंके हुए खाने पर उनका गुज़ारा है। दिक्कत भूख की नहीं, ज़्यादा खाने की है। अदालत में लोग चौंके; हमारी टीम परेशान। हमारी चाल उलटी पड़ गई।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;सरकारी अफसरों ने हमदर्दी जताई, पर पाबंदी लगाने से साफ इनकार कर दिया। बोले—जिसे झाड़ू रखना है रखे, जिसे वैक्यूम रखना है रखे। अगर वैक्यूम पर रोक लगी तो व्यापारियों को मुआवज़ा देना पड़ेगा, और उसका असर अस्पतालों, स्कूलों और सड़कों के बजट पर पड़ेगा।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;फिर सबसे बड़ा झटका वहीं से आया जहाँ से उम्मीद थी। झाड़ू बनाने वाली कंपनियों ने कहा—झाड़ू बनाना अच्छा है, पर ज्वार-बाजरे के डंठल और जंगल की घास बढ़ती आबादी के सामने कम पड़ेंगे। चाहें तो प्लास्टिक से झाड़ू बना सकते हैं—बस सरकार शोध का खर्च उठाए और प्लास्टिक के कचरे की जिम्मेदारी हम पर न डाले। चिड़ियों ने भी प्लास्टिक के तिनकों से घोंसले बनाने से इनकार कर दिया—उन्हें अपने बच्चों पर माइक्रोप्लास्टिक का डर था।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;हम मुक़दमा हार गए।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;फैसले में लिखा गया कि चिड़ियाँ पास के जंगलों में घोंसले बना सकती हैं—पर पेड़ कटें तो हटने की जिम्मेदारी उनकी होगी। सड़क पर किसी गाड़ी से टकराकर अगर कोई चिड़िया मरे, तो कोई इंसान जिम्मेदार नहीं होगा।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;मैंने वकालत छोड़ दी और वैक्यूम क्लीनर की दुकान खोल ली। मेरा निजी मसला, जिसने यह मुक़दमा शुरू करवाया था, बच्चों ने हल कर दिया। अब मेरे कमरे की खिड़की के पास प्लास्टिक के फूलों वाला एक गुलदस्ता रखा है। सुबह की पहली धूप पड़ते ही उसके भीतर से चिड़ियों की रिकॉर्ड की हुई चहचहाहट सुनाई देती है।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;और कभी-कभी मैं सोचता हूँ—क्या कहीं कोई ऐसी अदालत भी होगी जहाँ एक दिन हम सब—मैं, मेरे विरोधी वकील, और जज—एक ही कटघरे में खड़े हों?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर &lt;br /&gt;कैनबरा, ऑस्ट्रेलिया&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;The sparrows chirping on the parapet of our house have been my morning alarm for as long as I can remember. But over the past few years their numbers in the city have dropped so sharply that my daily rhythm has fallen apart. And my profession—law—demands preparation and alertness. In court, a reputation can unravel quickly. The result is simple: less recognition, less income.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;In this conext, call it selfish if you like, but the truth is that I was the one who persuaded the city’s sparrows to take humans to court. The case rested on a straightforward idea: humans keep changing the way they live without consulting the other creatures who share the city—and often at their expense. This time the issue was domestic cleaning. Straw brooms had quietly disappeared, replaced by vacuum cleaners. The loose bits of straw that once broke off and scattered across the city had been prime building material for sparrows’ nests. For a while the birds managed by reusing old straw. Eventually it grew brittle. New straw was nowhere to be found. Nests dwindled. Eggs dwindled. So did the next generation. Now sparrows are seen only occasionally.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;As far as I was concerned, the case was strong. In law, even the opponent’s argument can be useful if handled properly. So, with the court’s permission, I called cats as witnesses. The logic was simple: cats had long depended on sparrows for food. Without sparrows, how long before their ribs began to show?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The matter attracted attention. A three-judge bench was appointed. Newspapers ran headlines: Sparrows vs. Humans. On the first hearing, the courtroom was packed. As senior counsel for the birds, I requested that broom use be revived so that straw might once again become available for nests. The defense proposed something unusual. If we were so confident in our case, they said, our legal team should deposit our household vacuum cleaners with the court until judgment. The judge looked at us. We agreed. The hearing was adjourned.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;That evening I returned home wrapped in professional pride. It lasted only minutes. No one in my household was willing to give up the vacuum cleaner. I argued that this was a matter of principle. No one was persuaded. The other lawyers of my team faced the same problem. We decided the household appliances would remain at home, and I quietly bought four second-hand vacuum cleaners from a junk shop and deposited them instead. A journalist happened to be passing by. The next morning, photographs of me loading those four machines into my car in front of the junk shop appeared in the paper. It was not my finest hour.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;At the next hearing, five cats took the stand. Despite my instructions to produce underfed specimens, they were all well-fed. Under oath they admitted that sparrows had once been regular prey. Yes, there had been difficult days when the birds grew scarce. But necessity, they explained, had encouraged innovation. They now survived comfortably on human leftovers. Their problem was no longer hunger, but excess. The courtroom murmured. Our argument faltered.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Municipal officials expressed sympathy but declined to regulate cleaning appliances, considering it against the freedom of choice. A ban on vacuum cleaners, they argued, would require compensation to traders and disrupt budgets—hospitals, schools, roads.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Then came the final blow—from broom manufacturers themselves. They welcomed the sentiment but explained that straw from millet stalks and wild grasses would be insufficient for a growing city. Plastic bristles were possible, provided research grants were given for feasibility tests and environmental responsibility waived. Even the sparrows refused plastic nests. They feared microplastics for their young.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;We lost the case.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The judgment permitted sparrows to build nests in nearby forests—provided they managed relocation during logging themselves. No citizen would be liable if a sparrow collided with a bus or truck.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Disappointed with my prrformance, I left the law and opened a vacuum cleaner shop. Business is good. Also, the original problem that pushed me into litigation has been solved by my children. On the windowsill in my room now stands a vase of plastic flowers. When the first sunlight touches it in the morning, recorded sparrow calls begin to play.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Sometimes I wonder though, whether somewhere there exists another court — one where, one day, I, my learned opponents, and the judges might stand together in the dock.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;br /&gt;Canberra, Australia&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Wed, 11 Feb 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/02/11/sparrows-and-vacuum-cleaners.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/02/11/sparrows-and-vacuum-cleaners.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>God</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;خدا&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بنکاک سے کچھ دور ایک یونیورسٹی میں دو ہفتے کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔ انہی میں سے ایک روز روشنیوں کا تہوار تھا. شام گئے کیلے کے پتوں پر مٹی کے دئے روشن رکھے بہت سے سٹوڈنٹس قریب کے ایک دریا تک آئے۔  پانی میں دور تک ان کی یہ سیکڑوں کشتیاں یوں ٹمٹماتی جاتی تھیں جیسے تاروں بھری کوئی رات زمین پر اتر آئی ہو۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایک سٹوڈنٹ میرے بنچ کے پاس سے ہو کر پنڈلیوں تک پانی میں گئیں۔ اپنا دیا تھامے ہوئے جانے کیا کیا دعائیں مانگیں اور پھر اسے لہروں کے سپرد کر کے دیر تک دونوں ہاتھ باندھے دیکھتی رہیں۔ میں نے تو صرف ان کی واپسی پر آنکھوں سے بہتے آنسو کے نشان دیکھے۔ مجھے خیال آیا کہ کیا میرے ذہن کے خدا کے تصور کو یہ اختیار ہے کہ اس بچی کے ذہن کے خدا کے تصور کو باطل قرار دے؟ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یہ خیال میرا وہ دیا ہے جسے اپنے ہاتھوں سے کشتی پر روشن رکھ کر آج تک چل رہا ہوں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;बैंकॉक से कुछ दूर एक विश्वविद्यालय में दो सप्ताह बिताने का अवसर मिला। उन्हीं दिनों में एक शाम प्रकाशों का त्योहार था। सांझ ढलते ही केले के पत्तों पर जलते मिट्टी के दीप लिए अनेक छात्र पास की एक नदी के किनारे आए। पानी में दूर तक उनकी सैकड़ों छोटी नावें ऐसे टिमटिमाती चली जाती थीं, जैसे तारों भरी कोई रात धरती पर उतर आई हो।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;एक छात्रा मेरी बेंच के पास से होती हुई पिंडलियों तक पानी में उतरी। अपने दीप को थामे हुए, जाने क्या-क्या प्रार्थनाएँ कीं। फिर उसे लहरों के हवाले कर दिया और देर तक दोनों हाथ जोड़कर देखती रही। लौटते समय मैंने उसकी आँखों से बहते आँसुओं के निशान ही देखे।&lt;br /&gt;तभी मेरे मन में यह विचार आया:&lt;br /&gt; क्या मेरे मन में बसे ईश्वर की कल्पना को यह अधिकार है कि वह उस बच्ची के मन में बसे ईश्वर की कल्पना को असत्य ठहरा दे?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;यह विचार मेरा वह दीप है, जिसे मैंने अपने हाथों से एक छोटी-सी नाव पर जलाया था — और जिसे मैं आज तक अपने साथ लिए चला आ रहा हूँ।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;I happened to spend two weeks at a university not far from Bangkok.&lt;br /&gt; One evening during that time, it was the festival of lights. As dusk fell, many students, carrying small clay lamps lit on banana leaves, gathered by a nearby river. Far into the water, hundreds of these little boats shimmered, as if a star-filled night had descended upon the earth.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;One student passed close to my bench and stepped into the water up to her calves. Holding her lamp, who knows what prayers she whispered. Then she set it upon the waves and stood for a long while with her hands folded in prayer. I noticed only the traces of tears flowing from her eyes when she returned.&lt;br /&gt;It occurred to me then:&lt;br /&gt; does my own idea of God have the authority to declare her idea of God false?&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;This thought is my lamp — one I lit with my own hands upon a small boat, and have been carrying with me ever since.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/02/03/god.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/02/03/god.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Dried Fig</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;تمہیں پتہ ہے نا کہ سوکھی انجیر میں کیلسیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ مگر پہلے ایسے نہیں تھا۔ معلوم ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ بندو کی وجہ سے۔ ارے سمجھے نہیں۔ میں بتاتی ہوں۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&apos;بندو کی ماں لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی تھی اور باپ گھر میں کھانسے اور گالیاں دینے کا۔ دس بارہ سال  پہلے ان کے حالات اجھے تھے۔ تب بندو پنگھوڑے میں رہتا یا ماں کی گود میں اور باپ بس اڈے کے پاس اپنی پھلوں کی دکان پر۔ وہ ایک محنتی انسان تھا، منڈی سے اچھا پھل لاتا اور کوالٹی کے لحاظ سے چھانٹی کر کے فروخت کرتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آتے جاتے مسافروں کے علاوہ قریب کے محلوں کے لوگ بھی خریداری کے لئے اس کی دوکان پر آتے۔  پھر ایک روز سڑک کے کنارے کسی مسافر کے پھینکے ہوئے پھل کے چھلکے سے پھسلا اور ایک چلتی بس کے پہئے کے نیچے اپنی پنڈلیوں کی ہڈیاں چٹخا بیٹھا۔ اب گھر میں کچھ قدم چلنے کی سہار کے علاوہ بھی اس نے بیساکھیوں کے کچھ اور استعمال سیکھ لئے تھے، جن میں قریب کھونٹی پر ٹنگے بنیان تولیے اتارنا، ذرا دور میز پر دھرے ریڈیو کا بٹن دبانا، اور بندو کی پٹائی شامل تھی۔ ماں اس کے حادثے کا سبب بس اڈے کے دوسرے دکانداروں کی بد نظر اور جادو ٹونا بتاتی۔ وہ یہ بھی کہتی کہ پہلے وہ دھیمے مزاج کا خوش طبع انسان تھا مگر اس حادثے نے اسے غصیل اور چڑچڑا کر دیا۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;باپ کی طرف سے بندو پر عائد کردہ الزامات میں اسکا پیدائش کے لئے غلط وقت کا انتخاب بھی شامل تھا۔ یعنی اگر وہ اپنی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہو چکا ہوتا تو باپ کی دوکان پر کام سیکھ لیتا اور تھوڑا بہت ہاتھ بٹا سکتا۔ اگر دیر سے پیدا ہوتا تو اپاہج باپ کی موت کے انتظار کی مدت کچھ کم ہوجاتی۔ ماں نے اس کے باپ کو کئی بار سمجھایا بھی کہ ان کی شادی سے بھی پہلے بندو کیسے پیدا ہوتا؟ اور یہ کہ وہ اپنی موت کا اتنی بے چینی سے انتظار نہ کرے کیونکہ جب وہ آئے گی سو آئے گی۔ مگر یہ دونوں بے تکے خیال اس کے ذہن میں ان ڈھیٹ کرائے داروں کی طرح بس گئے تھے جو گھر چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ دبلا پتلا بندو قد نکال رہا تھا اور اس کے ساتھ نامعلوم کیوں اسے کمر کو موڑ کر اور سر کو جھکا کر بیٹھنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ اسی نسبت سے اسکا باپ اسے سوکھی انجیر کہہ کر بلاتا۔ باپ کی دیکھا دیکھی گلی اور سکول کے بچوں نے  بھی بندو کو اسی نام سے چھیڑنا شروع کر دیا تھا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ایسے ہی گزرتے ہوئے دنوں میں سے وہ بھی ایک دن کی سویر تھی جب ماں حسب معمول کام پر نکلنے کے لئے تیار ہوئی۔ پچھلے روز نویں جماعت کے امتحان کے نتیجے کی پرچیاں ملی تھیں اور بندو کمرے کے ایک کونے میں اسی کاغذ پر نظریں جمائے سمٹا سکڑا خاموش بیٹھا تھا۔ ایسے میں باپ نے اسے بلایا۔ &lt;br /&gt;&apos;ٹکٹکی بانھ کر کیا دیکھ رہا ہے تُو رے؟&apos;&lt;br /&gt;&apos;نتیجہ ہے ابا۔ فائینل امتحان کا۔&apos;&lt;br /&gt;&apos;فیل ہو گیا نا۔ تبھی تو میں کہتا تھا کہ میرے ساتھ پھل کی دوکان کر لیتا تو اچھا تھا۔ لا دکھا مجھے پرچی۔ نالائق اولاد۔ سوکھی انجیر&apos;۔ &lt;br /&gt;بندو نے باپ کو ایک نظر دیکھا۔ بیساکھی پر اس کی گرفت کا انداز بندو کی پٹائی شروع ہونے کا اشارا تھا۔ وہ اٹھا اور نتیجے کی پرچی باپ کے ہاتھوں میں تھما کر سر جھکائے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اکثر مضامین میں نوے فی صد سے زیادہ نمبر لے کر وہ پاس ہوا تھا۔ باپ نے پرچی ایک دو بار دیکھی پھر خاموشی سے اسے واپس بندو کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بیساکھیوں کے سہارے وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچا اور پچھلے آٹھ سال میں پہلی بار دہلیز پار کر کے گلی میں نکل آیا۔ اسے دیکھ کر ماں بھی باہر آئی۔&lt;br /&gt;&apos;کہاں جا رہا ہے رے؟&apos;&lt;br /&gt;&apos;منڈی۔ اب کی بار یہیں محلے میں پھلوں کی دوکان لگائوں گا۔&apos;&lt;br /&gt;&apos;میں ساتھ چلوں۔&apos;&lt;br /&gt;&apos;نہیں۔ تو اپنے کام پہ جا۔ جب تک دوکان نہیں چلتی بندو کی دسویں جماعت کی کتاب کاپیوں&lt;br /&gt; کا کچھ کر دے۔ آگے کی میں خود سنبھالوں گا۔&apos;&lt;br /&gt;ماں جانے لگی تو باپ پھر بولا۔&lt;br /&gt;&apos;سن۔ اکیلی انجیر دھاگے میں جھولتی اچھی نہیں لگتی۔ ایک دو اور پروئے گی کیا؟&apos;&lt;br /&gt;ماں نے جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہونٹوں پر ایک شرمیلی مسکراہٹ۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;بندو نے یہ سب کچھ نہیں سنا تھا۔ وہ کمرے میں سمٹا سکڑا یہ سوچ رہا تھا کہ بڑے ہو کر ڈاکٹر بنے گا۔ ٹوٹی ہڈیاں جوڑنے والا ڈاکٹر۔ کہتے ہیں کہ اناپورنا دیوی ماں نے یہ سب منظر دیکھا اور اسی سمے سوکھی انجیر میں کیلسیم کی مقدار سب پھلوں سے زیادہ بڑھا دی۔ ہڈیوں کے لئے اچھی ہوتی ہے، اس لئے۔&apos;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہاں تو کیسی لگی تمہیں یہ کہانی؟ اب چلتی ہوں۔ مگر جانے سے پہلے ایک بات اور۔ وہ جو دنیا میں مانے ہوئے ہڈیاں جوڑنے کے سرجن ہیں، اپنے شہر کے ڈاکٹر برجیش لال، بھگوان کے لئے انہیں مت کہنا کہ ان کے بچپن کا سوکھی انجیر والا نام میں نے تمہیں بتایا ہے۔  &lt;br /&gt; &lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;br /&gt;کینبرا ۔ آسٹریلیا&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;तुम जानते हो न कि सूखी अंजीर में कैल्शियम की मात्रा बहुत होती है। लेकिन पहले ऐसा नहीं था।&lt;br /&gt;जानते हो यह बदलाव क्यों आया?&lt;br /&gt;बंदू की वजह से।&lt;br /&gt;अरे, समझे नहीं? मैं बताती हूँ।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&apos; बंदू की माँ लोगों के घरों में सफ़ाई का काम करती थी और उसका पिता घर में खाँसता और गालियाँ देता रहता था। दस-बारह साल पहले हालात बेहतर थे। तब बंदू या तो पालने में रहता था या माँ की गोद में, और पिता बस अड्डे के पास अपनी फल की दुकान चलाता था। वह मेहनती आदमी था—मंडी से अच्छा फल लाता, गुणवत्ता के हिसाब से छाँटता और बेचता। शायद इसी कारण आते-जाते मुसाफ़िरों के अलावा पास-पड़ोस के लोग भी उसी दुकान से ख़रीदारी करते थे। फिर एक दिन सड़क किनारे किसी मुसाफ़िर के फेंके हुए फल के छिलके पर फिसल गया और चलती बस के पहिये के नीचे उसकी पिंडलियों की हड्डियाँ चकनाचूर हो गईं। अब घर में कुछ कदम चलने के सहारे के अलावा उसने बैसाखियों के और भी इस्तेमाल सीख लिए थे—पास की खूंटी से बनियान-तौलिया उतारना, थोड़ी दूर रखे रेडियो का बटन दबाना, और बंदू की पिटाई करना। माँ उस हादसे का कारण बस अड्डे के दूसरे दुकानदारों की बुरी नज़र और जादू-टोना बताती थी। वह कहती थी कि पहले वह शांत स्वभाव और खुशमिज़ाज आदमी था, लेकिन इस दुर्घटना ने उसे ग़ुस्सैल और चिड़चिड़ा बना दिया।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;पिता द्वारा बंदू पर लगाए गए आरोपों में यह भी शामिल था कि उसने पैदा होने का समय ग़लत चुना। अगर वह कुछ पहले पैदा हो जाता तो दुकान में हाथ बँटा सकता था। अगर देर से पैदा होता तो अपाहिज पिता की मौत के इंतज़ार की अवधि कुछ कम हो जाती। माँ ने कई बार समझाया कि शादी से पहले बंदू कैसे पैदा हो सकता था, और यह भी कि मौत का इतना बेसब्री से इंतज़ार न करे—जब आएगी, आ ही जाएगी। मगर ये बेढंगे ख़याल उसके दिमाग़ में ऐसे जम गए थे जैसे ज़िद्दी किरायेदार जो घर छोड़ने को तैयार नहीं होते।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;दुबला-पतला बंदू कद निकाल रहा था, लेकिन न जाने क्यों उसकी आदत बन गई थी कि कमर मोड़कर और सिर झुकाकर बैठा रहे। इसी वजह से पिता उसे “सूखी अंजीर” कहकर बुलाने लगा। उसकी देखा-देखी गली और स्कूल के बच्चों ने भी उसे इसी नाम से चिढ़ाना शुरू कर दिया।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ऐसे ही दिनों में एक सुबह आई, जब माँ रोज़ की तरह काम पर जाने की तैयारी कर रही थी। पिछले दिन नौवीं कक्षा के परीक्षा परिणाम आए थे। बंदू कमरे के एक कोने में सिमटा-सिकुड़ा उसी काग़ज़ को घूरता बैठा था। पिता ने उसे बुलाया।&lt;br /&gt;“ऐसे टकटकी बाँधकर क्या देख रहा है?” &lt;br /&gt;“नतीजा है, अब्बा। फ़ाइनल परीक्षा का।” &lt;br /&gt;“फेल हो गया न? तभी तो कहता था कि मेरे साथ दुकान कर लेता। ला, दिखा परची। नालायक औलाद। सूखी अंजीर।”&lt;br /&gt;बंदू ने पिता की ओर देखा। बैसाखी की कसती पकड़ इस बात का संकेत थी कि मार शुरू होने वाली है। वह उठा, परची पिता के हाथ में दी और सिर झुकाए सामने खड़ा हो गया। ज़्यादातर विषयों में वह नब्बे प्रतिशत से अधिक अंकों के साथ पास हुआ था।&lt;br /&gt;पिता ने परची एक-दो बार देखी और चुपचाप वापस बंदू के हाथ में थमा दी। बैसाखियों के सहारे वह धीरे-धीरे घर के दरवाज़े तक पहुँचा और आठ साल बाद पहली बार देहरी लाँघकर गली में निकला। उसे देखकर माँ भी बाहर आ गई।&lt;br /&gt;“कहाँ जा रहे हो?” &lt;br /&gt;“मंडी। इस बार यहीं मोहल्ले में फल की दुकान लगाऊँगा।” &lt;br /&gt;“मैं साथ चलूँ?” &lt;br /&gt;“नहीं। तू अपने काम पर जा। जब तक दुकान नहीं चलती, बंदू की दसवीं की किताब-कापियों का इंतज़ाम कर दे। आगे का मैं देख लूँगा।”&lt;br /&gt;माँ जाने लगी तो पिता फिर बोला—&lt;br /&gt;“सुन। अकेली अंजीर धागे में झूलती अच्छी नहीं लगती। एक-दो और पिरोएगी क्या?”&lt;br /&gt;माँ ने कुछ नहीं कहा। आँखों में आँसू थे और होंठों पर एक शर्मीली मुस्कान।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;बंदू ने यह सब नहीं सुना। वह कमरे में सिमटा-सिकुड़ा सोच रहा था कि बड़ा होकर डॉक्टर बनेगा—टूटी हड्डियाँ जोड़ने वाला डॉक्टर। कहते हैं कि अन्नपूर्णा देवी माँ ने यह सब देखा और उसी क्षण सूखी अंजीर में कैल्शियम की मात्रा सभी फलों से ज़्यादा बढ़ा दी। आखिर हड्डियों के लिए अच्छी होती है न।&apos;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;तो बताओ, कहानी कैसी लगी? &lt;br /&gt;अब चलती हूँ। &lt;br /&gt;मगर जाने से पहले एक बात और—&lt;br /&gt;शहर के सबसे मशहूर हड्डी जोड़ने वाले सर्जन, डॉक्टर बृजेश लाल, भगवान के लिए उनसे यह मत कहना कि उनके बचपन का “सूखी अंजीर” वाला नाम मैंने तुम्हें बताया है।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;br /&gt;कैनबरा - ऑस्ट्रेलिया&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;You know, don’t you, that dried figs contain a lot of calcium. But it wasn’t always so. Do you know why this change came about?&lt;br /&gt;Because of Bandu.&lt;br /&gt;No, you don’t get it? I’ll tell you.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&apos;Bandu’s mother cleaned other people’s houses, while his father stayed at home coughing and hurling abuses. Ten or twelve years ago, things were better. Bandu then lived either in a cradle or in his mother’s lap, and his father ran a fruit stall near the bus stand. He was a hardworking man—bringing good fruit from the wholesale market, sorting it carefully, and selling only the best. Perhaps that was why not just passing travellers, but people from nearby neighbourhoods too, bought fruit from his stall.&lt;br /&gt;Then one day he slipped on a fruit peel thrown by some traveller at the roadside, and before he could recover, a moving bus crushed the bones of his lower legs. Now, besides learning to walk a few steps with support, he had discovered other uses for his crutches: pulling down vests and towels hanging on nearby hooks, pressing the radio button on the table across the room—and beating Bandu.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The mother blamed the accident on the evil eye and black magic of rival shopkeepers near the bus stand. She said that he used to be a gentle, good-humoured man, but the accident had turned him angry and irritable.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Among the accusations the father laid upon Bandu was the charge that he had chosen the wrong time to be born. Had he been born a little earlier, he could have helped at the fruit stall. Had he been born later, the wait for his crippled father’s death would have been shorter. The mother explained to him many times that Bandu could not have been born before their marriage, and that he should not wait so impatiently for death—it would come when it came. But these senseless ideas lodged in his mind like stubborn tenants who refuse to vacate a house.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Thin and slight, Bandu was growing taller, yet for reasons unknown he had developed the habit of sitting with his back bent and head bowed. Because of this, his father began calling him “Dried Fig.” Following his lead, children in the lane and at school took to teasing Bandu by the same name.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;One morning, like so many others, his mother was getting ready to leave for work. The previous day, the results of the ninth-grade examinations had been announced. Bandu sat silently in a corner of the room, hunched over, staring at the slip of paper.&lt;br /&gt;His father called out to him.&lt;br /&gt;“What are you staring at like that, you rascal?” &lt;br /&gt;“It’s the result, Abba. The final exam.” &lt;br /&gt;“You’ve failed, haven’t you? That’s why I kept saying you should’ve worked at the fruit stall with me. Show me the paper. Worthless child. Dried fig.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Bandu glanced at his father. The tightening grip on the crutch was a sign that a beating was about to begin. He stood up, handed over the result slip, and stood before him with his head lowered. He had passed with more than ninety percent in most subjects.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The father read the paper once, then again, and silently returned it to Bandu. Leaning on his crutches, he walked slowly to the front door and—for the first time in eight years—stepped over the threshold and out into the lane. Seeing him, the mother came outside.&lt;br /&gt;“Where are you going?” &lt;br /&gt;“To the market. This time I’ll set up a fruit stall right here in the neighbourhood.” &lt;br /&gt;“I’ll come with you.” &lt;br /&gt;“No. You go to work. Until the shop starts running, take care of Bandu’s tenth-grade books and notebooks. I’ll handle the rest.”&lt;br /&gt;As the mother turned to leave, the father called out again.&lt;br /&gt;“Listen. A single fig hanging on a thread doesn’t look good. Will you string a couple more with it?”&lt;br /&gt;She did not reply. Tears filled her eyes, and a shy smile appeared on her lips.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Bandu did not hear any of this. Curled up in the room, he was thinking that one day he would become a doctor—a doctor who sets broken bones.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;They say that Mother Annapurna saw all this, and at that very moment increased the calcium content of dried figs beyond that of all other fruits. They’re good for bones, after all.&apos;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;So—how did you like the story? &lt;br /&gt;I’m leaving now. But before I go, one last thing. The bone surgeon everyone knows in this city—Dr. Brijesh Lal—for God’s sake, don’t ever tell him that I told you about his childhood nickname: Dried Fig.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;br /&gt;Canberra - Australia&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Tue, 03 Feb 2026 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2026/02/03/dried-fig.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2026/02/03/dried-fig.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Light Without Heat</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;تمہارے نکاح کی دعوت میں چلا آیا تھا کل۔ آنا میری مجبوری تھی، اور شادی تم دونوں کی۔ بچپن کی مانگ، جائیداد خاندان ہی میں رکھنے کے مسئلے، امیگریشن کے چکر، اور آمنے سامنے کے رشتوں کے بھرم،  کیا کیا نہیں تحریر تھا اس نکاح نامے کے بین السطور جس پر تم نے خاموشی سے دستخط کر دئے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اور دستخط کرنے سے ایک لمحہ پہلے تمہارا وہ نظر اٹھا کر مجھے دیکھنا۔ تمہاری یہ نظر امانت رہے گی میرے پاس۔ ارے نہیں یار، اب ایسا بھی نہیں کہ میں چاک گریباں تمہارا نام پکارتا صحرائوں میں ریت اڑاتا پھروں گا۔ بات تو در اصل شکار ہوئی ہرنی کی آنکھوں جیسی اس بے بسی کی ہے جو تمہاری نگاہ سے جھلک رہی تھی۔ مجھے ایسے لگا تھا کہ شادی ہال کی یہ اجنبی سجاوٹ ایک مصنوعی شیش محل سا ہے، جہاں ہزار آئینوں میں کاجل اور افشاں میں بندھی بے بس ہرنیوں کی حیرت ذدہ آنھکیں چیخ رہی ہیں۔ وعدے تو ہم نے پہلے بھی بہت کئے تھے۔ چلو اب ایک وعدہ اور کر لیتے ہیں کہ ان آنکھوں کی آزادی کے لئے ہم پل پل لڑیں گے، زندگی بھر۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہماری کہانی کچھ اور ہے یار۔ ہم نے یہاں یونیورسٹی میں زندگی کو کچھ مختلف زاویوں سے دیکھا اور اس میں حق بجانب بھی ہیں۔ مگر اِس وقت تم تسلی سے سوچو تو جو ہوا ہے، اتنا برا بھی نہیں۔ مانا کہ وہ تم سے چار سال چھوٹا ہے اور ابھی تئیس برس کا بھی نہیں ہوا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ابھی ہی تو اس نے مشکل سے اپنے آبائی ملک سے میڈیکل کی ڈگری پاس کی ہے اور کسی طرح سے تفریح کا ویزا لگوا کے یہاں آیا ہے۔ خوش شکل ہے، آگے نکلنے کا تمنائی ہے۔ تم نباہ لو تو اگلے چند سال میں کر کرا کے یہاں میڈیکل پریکٹس کرنے کا لائسنس لے ہی لے گا، یا کچھ اور دھندا سوچے گا۔ بعد میں تمہاری بیوہ ممانی کے یہاں آنے کے امکان بھی ہوجائیں گے، اور وہ گائوں میں آموں کے باغوں کے بٹوارے کا تنازعہ بھی نہیں اٹھے گا۔ آخر تمہارے ماموں کو بھی تو اسی جھگڑے میں تمہارے چچا نے قتل کروایا ہے۔ اب سوچو کہ اگر یہ لڑکا بھی وہاں مارا جائے تو۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ارے ہاں, تمہاری اس تقریب میں رنگ رنگ کے کتنے قمقمے سجے۔ کچھ لڑیوں کو یونہی گن کر میں نے اندازہ لگایا کہ ہزاروں میں ہوگی ان کی تعداد۔ پر یہ ایل، ای، ڈی کی چمک بھی عجیب سی شے ہے یار۔ اتنی روشن، مگر شعلے کی لپک، نہ سلگنے کی تپش۔ جب تمہارے بچوں کی شادی ہو تو کچھ مٹی کے چراغوں میں سرسوں کا تیل بھی جلانا۔ کچھ تپش تو ہو پروانوں کے لئے، کچھ دھواں تو اٹھے خواہشوں کے جلنے پر۔ ہماری اس تپش اور دھویں کی یاد میں جو کل کی تقریب میں گھٹ کر مر گئے تھے۔ مجھے بھی بلانا، آئوں گا۔ وعدہ کرو مجھ سے کہ دو دلوں کی مرضی کی شادی ہوگی وہ۔ اور ہم دونوں اُن چراغوں کو اپنی محبت کے مزار پر رکھ لیں گے۔&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;कल तुम्हारे निकाह की दावत में चला आया था। आना मेरी मजबूरी थी, और शादी तुम दोनों की।&lt;br /&gt;बचपन की माँग, जायदाद को परिवार में ही रखने का सवाल, इमिग्रेशन के चक्कर, और आमने-सामने के रिश्तों का भ्रम—क्या-क्या नहीं लिखा था उस निकाहनामे की पंक्तियों के बीच, जिस पर तुमने ख़ामोशी से दस्तख़त कर दिए। और दस्तख़त करने से एक पल पहले, तुम्हारा नज़र उठा कर मुझे देखना। तुम्हारी वह नज़र मेरे पास अमानत रहेगी। अरे नहीं यार, अब ऐसा भी नहीं कि मैं चाक-गिरेबान तुम्हारा नाम पुकारता रेगिस्तानों में रेत उड़ाता फिरूँ। बात तो दरअसल उस बेबसी की है, जो शिकार हुई हिरनी की आँखों जैसी तुम्हारी निगाह से झलक रही थी। मुझे यूँ लगा था जैसे यह शादी-हाल की अजनबी सजावट एक बनावटी शीशमहल हो, जहाँ हज़ारों आईनों में काजल और अफ़शाँ से सजी, क़ैद हिरनियों की हैरान-परेशान आँखें चीख रही हों। वादे तो हमने पहले भी बहुत किए थे। चलो, अब एक वादा और कर लेते हैं—कि उन आँखों की आज़ादी के लिए हम पल-पल लड़ेंगे, ज़िंदगी भर।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;हमारी कहानी कुछ और है, यार। हमने यहाँ यूनिवर्सिटी में ज़िंदगी को कुछ अलग कोणों से देखा है, और इसमें हम हक़-बजांब भी हैं। मगर इस वक़्त तुम तसल्ली से सोचो, तो जो हुआ है, उतना बुरा भी नहीं। मान लेते हैं कि वह तुमसे चार साल छोटा है, और अभी तेईस का भी नहीं हुआ। मगर इससे क्या फ़र्क़ पड़ता है। अभी-अभी तो उसने किसी तरह अपने आबाई देश से मेडिकल की डिग्री पूरी की है, और किसी जुगत से सैलानी वीज़ा लगवा कर यहाँ आया है। ख़ूबसूरत है, आगे बढ़ने की तमन्ना रखता है। तुम साथ निभा लो, तो अगले कुछ सालों में मेहनत करके यहाँ मेडिकल प्रैक्टिस का लाइसेंस ले ही लेगा— या कोई और धंधा सोच लेगा। बाद में तुम्हारी विधवा मामी  के यहाँ आने की संभावनाएँ भी बन जाएँगी, और गाँव में आमों के बाग़ों के बँटवारे का वह झगड़ा भी नहीं उठेगा। आख़िर तुम्हारे मामा को भी तो उसी झगड़े में तुम्हारे चाचा ने मरवा दिया था। अब सोचो, अगर यह लड़का भी वहाँ मारा जाए तो…।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अरे हाँ, तुम्हारी उस रस्म में कितने रंग-बिरंगे क़ुमक़ुमे सजे थे। कुछ लड़ियों को यूँ ही गिनकर मैंने अंदाज़ा लगाया—हज़ारों में रही होगी उनकी तादाद। पर यह एल-ई-डी की चमक भी अजीब चीज़ है, यार— इतनी रोशनी, मगर न लौ की लपक, न सुलगने की तपिश। जब तुम्हारे बच्चों की शादी हो, तो कुछ मिट्टी के दीयों में सरसों का तेल भी जलाना। कुछ तपिश हो परवानों के लिए, कुछ धुआँ उठे ख़्वाहिशों के जलने पर। हमारी इस तपिश और धुएँ की याद में, जो कल की रस्म में घुट-घुट कर मर गए थे। मुझे भी बुलाना—आऊँगा। मुझसे वादा करो कि वह शादी दो दिलों की रज़ामंदी से होगी। और हम दोनों उन दीयों को अपनी मोहब्बत के मज़ार पर रख देंगे।&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;I attended your wedding reception yesterday. Coming was my compulsion; the wedding was yours.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Childhood promises, keeping property within the family, immigration hurdles, the dignity of relationships that face each other across the same courtyard—how much was written between the lines of that marriage contract you signed in silence.&lt;br /&gt;And just before you signed, the way you lifted your eyes and looked at me. That look will remain in my keeping.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;No, it’s not as though I will tear my clothes and wander the deserts calling out your name. What stays with me is something else—the helplessness I saw in your eyes, like those of a hunted doe. For a moment, the wedding hall felt like an artificial palace of glass, where in a thousand mirrors the startled eyes of trapped does—lined with kohl and buried under glitter—were screaming. We have made many promises before. Let us make one more: that we will fight, every moment of our lives, for the freedom of those eyes.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Our story is different. At the university here, we learned to see life from other angles—and we were not wrong. But if you think calmly now, perhaps what has happened is not entirely disastrous. Yes, he is four years younger than you, not yet twenty-three. But what does that change? He has barely completed his medical degree back home and has somehow arrived here on a visitor’s visa. He is good-looking, ambitious. If you manage, in a few years he will obtain a licence to practise medicine here—or find some other livelihood. Later, your widowed aunt may find a path to come here as well. And the dispute over the division of the mango orchards in the village may never surface. After all, your uncle—your aunt’s husband—was killed by your father’s brother in that very conflict. Now imagine if this boy, too, were to be killed there.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Your celebration was adorned with lights of every colour. I counted a few strings at random and guessed there must have been thousands. But LED light is a strange thing—brilliant, yet without flame, without warmth. When your children are married, light a few earthen lamps with mustard oil as well. Let there be some heat for the moths, some smoke rising from the burning of desire. In memory of our own heat and smoke, which suffocated and died at yesterday’s celebration. Invite me then. I will come. Promise me that it will be a marriage of two willing hearts. And together, we will place those lamps at the shrine of our love.&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2025/12/31/light-without-heat.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2025/12/31/light-without-heat.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>Birth Ledger</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;&quot; اب تو نے بلایا ہے تو آتی ہوں میں۔ کیا فرق پڑتا ہے بھگوان، کئی آتے جاتے ہیں یہاں۔ بس آس پڑوس کے دو چار لوگ ایک دوسرے سے یہی کہیں گے نا کہ رات کے کسی سمے وہ نکڑ کے جھونپڑے والی بڑھیا گزر گئی، اور پھر سب اپنے اپنے دھندوں پر لگ جائیں گے۔ کوئ ہفتے بھر یہ جھونپڑی خالی رہے گی، پھر کوئی اور آن بسے گا۔ اب تجھے کیا بتائوں رے۔ تُو تو شروع سے ہی دیکھ رہا ہے۔ کوئی نیا سورج تھوڑی چڑھتا ہے یہاں پر؟  بس ہر روز وہی کل کا پرانا سانجھ سویرا لوٹ کر آ جاتا ہے۔ ہم جھونپڑے والے لوگ ہیں، بھگوان۔ ہم وقت کا اندازہ سر کے بال سفید ہونے سے لگاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب  آتی کل کے روز بھی، ہمیشہ کی طرح، صبح سویرے کوڑے کے ٹرک مال کی ڈھیری لگانے آئیں گے۔ شہر کی چھوڑی ہوئی گندگی کا یہ پہاڑ ذرا اور پھیل جائے گا۔ پھر برابر کے جھونپڑے والا رامو نکل کر اس نئے دفینے سے ربڑ کے پرانے جوتے، اور سائیکل کے ٹیوب ٹائر کھوجے گا۔ اگلی گلی کی آشا پلاسٹک کے تھیلوں کی آس لگائے گی- اور وہ رشید، میرے جیسے دھندے والا، گتے کے ڈبے اٹھائے گا۔ تُو دور سے دیکھتا ہے نا۔ وہاں سے تو تجھے ہم سب لوگ کسی گندگی کے ڈھیر پر رینگتے ہوئے کیڑوں جیسے لگتے ہوں گے۔ جب ہوائی اڈے کا جہاز اوپر سے گزرتا ہے، تب بھی میں یہی سوچتی ہوں۔      &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب تُو اس بڑھیا کا کرے گا کیا، یہ مجھے کیا معلوم؟ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ جس ماں نے مجھے جنما وہ ہندو تھی یا مسلمان، یا شاید سکھ۔ جن کے گھر میں ذرا بڑی ہوئی انہوں  نے بس اتنا بتایا کہ بٹوارے کے دنوں میں لاشوں کے ایک ڈھیر کے بیچ سے اٹھایا تھا مجھے۔ پورے بارہ سال تک ان کے ہاں رہی مَیں۔ اب تُو تو جانتا ہے نا کہ کتنے برے لوگ تھے وہ۔ اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے اور مجھ سے گھر کے کام کرواتے۔ اس کا لڑکا، وہ حرامی مجھے ننگا کر کے کھیلنے لگ پڑا تھا۔ اور اس کے بدلے مجھ درد کی ماری روتی کو دیتا کیا تھا وہ؟ میری من بھاتی گڑ چاول کی گجک کا ٹکڑا۔ تبھی تو بھاگی تھی مَیں اس گھر سے۔ تین دن تین رات اسی شہر میں ننگے پائوں، سرکاری نلوں کا پانی پی کر، ادھر سے ادھر چلتی رہی، تب یہ جگہ ملی۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;تجھے تو یاد ہے نا بھگوان کہ ان دنوں یہاں دھوبی گھاٹ تھا۔ تو بس میں اسی دھندے میں لگ گئی۔ کپڑے اٹھا کر الگنیوں کی رسیوں پر ڈالتے، گدھوں کے آگے چارا رکھتے، روٹی پانی کرتے، مانگے تانگے کا سگرٹ پیتے، پھر رات جھونپڑے  میں اکیلی ہنستے روتے، یوں مَیں نے اپنی جوانی بتائی۔ کھانا پینا تو چلتا تھا بھگوان، پر ساری جوانی میں نے چاول گڑ کی گچک کو پھر سے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ بس نفرت ہو گئی تھی مجھے اس کھاجے سے۔ اور پھر یوں ہوا کہ دھیرے دھیرے دھوبی آنے کم ہوگئے۔ گھاٹ کا پانی خشک پڑنے لگا، اور شہر کے کوڑا کرکٹ سے لدے گڈے اور ٹرک یہاں پہنچنے لگے۔ کوڑے کا یہ پہاڑ بن گیا پر میں یہی رہی۔ بس اپنا دھندا بدل لیا۔ گتے کے خالی ڈبے اور پھٹے ہوئے کاغذ جمع کرنے لگی۔  پر تجھے کیا بتانا، تجھے تو سبھی کچھ معلوم ہے۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اب تو سورگ دے یا نرگ وہ بھی تیری مرضی ہے۔ جنم بھی کون سا اپنی مرضی سے جیا۔ ردی کاغذ کا ایک ٹکڑا تھی مَیں، جو گلی کے بیچ ہوا سے اڑ کر کبھی کسی دیوار سے ٹکرایا، تو کبھی کسی نالی میں جا گرا۔ یہ گلی میری تھی، نہ ہوا، نہ دیوار، نہ نالی۔ سو اب آتی بار بھگوان مجھ پر بس اتنی سی كرپا کرنا کہ میری جنم پتری کا ورقہ کورا ہی رہنے دینا۔ اب آتی بار خود لکھوں گی مَیں۔&quot;&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;“अब तूने बुलाया है तो आती हूँ मैं। क्या फर्क पड़ता है, भगवान—कई आते-जाते हैं यहाँ। बस आस-पड़ोस के दो-चार लोग एक-दूसरे से यही कहेंगे न कि रात के किसी समय नुक्कड़ की झोंपड़ी वाली बुढ़िया गुजर गई। और फिर सब अपने-अपने धंधों में लग जाएँगे। कोई हफ्ते-भर यह झोंपड़ी खाली रहेगी, फिर कोई और आ बसेगा। अब तुझे क्या बताऊँ रे—तू तो शुरू से ही देख रहा है। कोई नया सूरज थोड़े ही उगता है यहाँ? हर रोज़ वही कल का पुराना साँझ-सवेरा लौट आता है। हम झोंपड़ी वाले लोग हैं, भगवान। हम वक्त का अंदाज़ा सिर के बालों के सफ़ेद होने से लगाते हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अब आती कल के रोज़ भी, हमेशा की तरह, सुबह-सवेरे कूड़े के ट्रक यहाँ माल की ढेरी लगाने आएँगे।&lt;br /&gt;शहर की छोड़ी हुई गंदगी का यह पहाड़ थोड़ा और फैल जाएगा। फिर बराबर की झोंपड़ी वाला रामू निकलेगा और इस नए दफ़ीने से रबर के पुराने जूते और साइकिल की ट्यूबें खोजेगा। अगली गली की आशा प्लास्टिक की थैलियों की आस लगाएगी— और वह राशिद, मेरे जैसे ही धंधे वाला, गत्ते के डिब्बे उठाएगा। तू दूर से देखता है न, भगवान - वहाँ से तो हम सब लोग किसी गंदगी के ढेर पर रेंगते हुए कीड़ों जैसे लगते । जब हवाई अड्डे का जहाज ऊपर से गुजरता है, तब भी मैं यही सोचती हूँ।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;अब तू इस बुढ़िया का करेगा क्या—यह मुझे क्या मालूम? मुझे तो यह भी नहीं पता कि जिस माँ ने मुझे जना, वह हिंदू थी या मुसलमान—या शायद सिख। जिनके घर में मैं ज़रा बड़ी हुई, उन्होंने बस इतना बताया कि बँटवारे के दिनों में लाशों के एक ढेर के बीच से उठाई गई थी मैं। पूरे बारह साल तक उनके यहाँ रही मैं। तू तो जानता है, भगवान, कितने बुरे लोग थे वे। अपने बच्चों को स्कूल भेजते थे, और मुझसे घर के काम करवाते थे। उसका लड़का—वह हरामी—मुझे नंगा कर के खेलने लगा था। और बदले में मेरी दर्द से रोती देह को देता क्या था? मेरी मन-भाती गुड़-चावल की गजक का एक टुकड़ा। तभी तो भागी थी मैं उस घर से। तीन दिन-तीन रात इसी शहर में नंगे पाँव, सरकारी नलों का पानी पीकर, इधर-उधर भटकती रही—तब यह जगह मिली।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;तुझे याद है न, भगवान—उन दिनों यहाँ धोबी घाट था। तो बस मैं उसी धंधे में लग गई। कपड़े उठाकर अलगनियों की रस्सियों पर डालना, गधों के आगे चारा रखना, रोटी-पानी करना, माँगे-ताँगे का सिगरेट पीना, और फिर रात को झोंपड़ी में अकेली हँसते-रोते— यूँ मैंने अपनी जवानी बिताई। खाना-पीना तो चलता रहा, भगवान, पर सारी जवानी मैंने चावल-गुड़ की उस गजक को फिर हाथ तक नहीं लगाया।&lt;br /&gt;उस मिठाई से मुझे नफ़रत हो गई थी। &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;धीरे-धीरे धोबी आने बंद हो गए। और घाट सूख गया। और शहर का कूड़ा-करकट ढोने वाले गधे और ट्रक यहाँ आने लगे। कूड़े का यह ढेर पहाड़ बन गया—पर मैं यहीं रही। बस अपना धंधा बदल लिया। गत्ते के खाली डिब्बे और फटे काग़ज़ बटोरने लगी। पर तुझे क्या बताना, भगवान—तुझे तो सब कुछ पता है। अब तू स्वर्ग दे या नरक—वह भी तेरी मर्ज़ी है। जनम भी कौन-सा अपनी मर्ज़ी से जिया। रद्दी काग़ज़ का एक टुकड़ा थी मैं—जो गली के बीच हवा में उड़कर कभी किसी दीवार से टकराया,&lt;br /&gt;तो कभी किसी नाली में जा गिरा। यह गली मेरी थी, न हवा, न दीवार, न नाली।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;तो अब आती बार, भगवान, मुझ पर बस इतनी-सी कृपा करना— कि मेरी जन्म-पत्री का पन्ना कोरा ही रहने देना। अब आती बार ख़ुद लिखूँगी मैं।”&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;“Now that You have called, I come. What difference does it make, God—&lt;br /&gt;many come and go here. A few neighbours will say to each other, won’t they, that sometime in the night the old woman from the corner shack passed away. Then everyone will return to their own routines. For a week or so this hut will remain empty. Then someone else will move in.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;What more should I tell You? You have been watching from the beginning. No new sun rises here. Every day the same worn-out dusk and dawn return. We are shack-dwellers, God. We measure time by the whitening of hair. Tomorrow too, as always, at first light, garbage trucks will arrive to unload their heaps. The mountain of the city’s discarded filth will spread a little more. The man in the next hut—Ramu—will search this fresh deposit for worn-out rubber shoes and discarded bicycle tubes. Asha from the next lane will hope for plastic bags. And Rashid—in the same trade as me— will lift cardboard boxes. You watch from afar, don’t You? From there, we must look like insects crawling over a mound of waste. Even when an aeroplane passes overhead, that is what I think.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;What You will do with this old woman—I do not know. I do not even know whether the mother who gave birth to me was Hindu, Muslim, or perhaps Sikh. The family where I grew a little older only told me this: during the days of Partition I was picked up from among a heap of corpses. I lived with them for twelve years. You know, God, how cruel they were. They sent their own children to school and made me do the housework. Their son—that bastard—used to strip me naked and play with me. And what did he give me in return for my crying, aching body? A piece of jaggery-and-rice brittle—the sweet I loved most. That is why I ran away from that house.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;For three days and three nights I wandered barefoot through this city, drinking water from public taps, until I found this place. You remember, God— there used to be a washermen’s ghat here. So I joined that work. Carrying clothes, hanging them on ropes, feeding the donkeys, earning bread and water, smoking borrowed cigarettes, and at night—alone in the hut— laughing and crying by turns. That is how I spent my youth. I managed food and drink, God, but through all those years&lt;br /&gt;I never touched jaggery-and-rice brittle again. I had grown to hate that sweet.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Slowly the washermen stopped coming. The ghat dried up. Carts and trucks laden with the city’s garbage arrived instead. The pile grew into a mountain—but I stayed. I only changed my trade. I began collecting empty cardboard boxes and torn paper. But what is there to tell You? You already know everything.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Whether You give me heaven or hell— that too is Your choice. Life was never lived by my choosing anyway. I was a scrap of waste paper, blown by the wind down the lane, sometimes striking a wall, sometimes falling into a drain. The lane was not mine, nor the wind, nor the wall, nor the drain.&lt;br /&gt;So next time, God, grant me only this small mercy: leave the page of my birth-ledger blank. Next time, I will write it myself.”&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2025/12/31/birth-ledger.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2025/12/31/birth-ledger.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
      <item>
        <title>The Procession of Destinations</title>
        <description>&lt;div class=&quot;urdu&quot; style=&quot;text-align: right; direction: rtl; margin-bottom: 3em;&quot;&gt;یہ ان چند کہانیوں میں سے ایک ہے جو میرے لڑکپن میں ہم محلے کی لڑکیوں کو ماسی لووانہ نے سنائی تھیں۔ سب لوگ مانتے تھے کہ ماسی لووانہ کے نام کی طرح ان کی کہانیاں بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ہیں۔ مگر وہ کم بولتی تھیں اور کہانیاں تو شاذ ہی سناتیں۔ محلے کے گھروں میں کام کاج پر ان کا گزارا تھا۔ گرمیوں میں ان کے چھوٹے سے گھر کے صحن میں ایک کھاٹ دھری رہتی اور وہیں وہ سوتی بھی تھیں۔  سکولوں کی لمبی چھٹیاں ہوتیں تو شام پڑنے پر ہم لڑکیاں اسی کھاٹ کے گرد بیٹھتیں۔ گلی کے سب بڑوں کو معلوم تھا کہ لڑکیاں اگر گھر نہ ملیں تو کھاٹ کے آس پاس ہی کہیں ہوں گی۔ اکثر باتیں تو ہم آپس میں ہی کرتیں پر کبھی کبھار جب ماسی سے کہانی سننے کو ملتی تو سماں بندھ جاتا۔ کہانی سناتے وقت بیچ میں کئی جگہ ان کا سٹائل ایسا بن جاتا جیسے کسی ڈرامے یا فلم کے سین ان کی نظر کے سامنے چل رہے ہیں اور وہ بتا رہی ہیں کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے۔ اب آپ سے شئیر کرتے ہوئے میرے لفظوں میں ان کے جیسی خستگی اور روانی تو شاید نہ ہو مگر کوشش ضرور کروں گی کہ سٹائل ویسا ہی رہے۔ &lt;br /&gt;تو سنیے۔  &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&apos;پہاڑی کے دامن میی ڈھلوانوں پر پہتے ہوئے قدرتی چشموں کے پانی سے بھری ہوئی ایک جھیل  کے کنارے یہ بستی شاید پانچ نسلیں پہلے بزرگوں نے آباد کی تھی۔ تب سے ہی وہ سب قبیلہ یہیں رہ رہا ہے۔ جھیل کی مچھلیاں، کنول کی جڑیں اور کنارے پر طرح طرح کے قدرتی درختوں کے پھل ان کی خوراک ہیں۔ گویا ایک سیدھی سادا، مطمعن اور خوشگوار زندگی۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;مشرق کی طرف ایک تنگ پنگڈنڈی بستی سے نکل کر گھاٹیوں اور جنگلوں میں گم ہو جاتی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے بزرگ اسی پگڈنڈی سے گزر کر یہاں پہنچے تھے۔ شاید اسی لئے اس راستے کا نام ماضی روڈ پڑ گیا ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے بستی والوں نے جھیل کنارے کے راستے کو حال روڈ کا نام بھی دیا ہے۔ حال روڈ پر دن بھر رونق رہتی ہے۔ مچھلیاں پکڑنے اور کنول کے پتے، جڑیں اور پھول جمع کرنے کے لئے بچے بڑے سبھی یہاں آتے، دیر تک ملتے ملاتے اور شام ڈھلے اسی راستے کے ادر گرد اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ چاندنی راتیں بعض خاص تقریبات اور میل ملاپ کے لئے مخصوص ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;انسانوں کی ہر آبادی کی کچھ اپنی ریت روایت بھی ہوتی ہے۔ تو یہاں کچھ یوں ہے کہ کبھی کبھار راتوں کے سناٹے میں قریب کے پہاڑوں سے ایک عجیب سی گڑگڑاہٹ کی آواز کو دیوتائوں کی گفتگو سمجھا جاتا ہے۔ ایک رسم ماضی روڈ پر منازل کی زیارت کی بھی ہے۔ یہ منازل در اصل چٹاںوں کی کھوہ میں یا اونچے درختوں کے نیچے بنی ہوئی گزشتہ پناہ گاہوں کے باقیات ہیں۔ ان کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ بستی کے ابتدائی بزرگوں کو دیوتائوں نے اس جگہ تک پہنچنے کے لئے سفر کے جس امتحان میں ڈالا تھا اسی وقت میں یہ بنائی گئیں۔ ان میں سے ہر معلوم پناہ گاہ کے ساتھ ایک کہانی بھی جڑی ہوئی ہے جو بڑی عمر کے لوگ بچوں کو سناتے چلے آئے ہیں۔ بستی کے ہر لڑکے لڑکی سے یہ توقع ہے کہ وہ میل کا حق حاصل کرنے کے لئے اکیلے جا کر ماضی روڈ کے دشوار راستے پر کم از کم تین منازل کی زیارت ضرور کرے۔ ان میں سے بعض پانچ، سات منزلوں تک بھی جاتے ہیں۔ اور اکیس یا اس سے زیادہ منازل کے زائر کو تو سوسائٹی میں خاص احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں نیلے رنگ کے پتھروں کی ایک مالا پہنائی جاتی ہے اور بستی کے لوگ انہیں &apos;مالا والے&apos; کہہ کر بلاتے ہیں۔ صرف مالا والے زائر ہی دیوتائوں سے بات چیت کے اہل ہیں۔ پھر کئی نوجوان زیارت کے سفر سے واپس نہیں لوٹتے۔ ان سے متعلق روائیتوں میں کچھ اختلاف ہے اور مشترک بات  یہ ہے کہ وہ اس بستی کی آبادی کے لئے مناسب نہیں تھے؛ اسی لئے دیوتائوں نے انہیں کسی دوسری زندگی کے لئے چن لیا۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ہاں ایک بات اور۔ پچھلے تین چار سال سے بستی والوں کو ایک نئی الجھن آن پڑی ہے۔ اور وہ ہے بہار اور گرمیوں کے موسم میں سیاحوں کا آنا جانا۔ یہ وہ تبدیلی ہے جسے وہ روک نہیں سکتے اور شاید نہ ہی روکنا چاہتے ہیں۔ پہلے سال ہفتے میں ایک بار اور اب تو تقریباُ ہر دوسرے روز صبح سویرے شور مچاتا ہوا ایک ہیلیکوپٹر حال روڈ کے پاس کے کھلے میدان میں آ وارد ہوتا ہے۔ مختلف لباس والے چار پانچ سیاح نکل کر کسی اجنبی زبان میں باتیں کرتے، بستی کے لوگوں کے ساتھ تصویریں بناتے، اور بچوں کو رنگ برنگ کھلونے دیتے ہیں۔ ایسے کھلونے جو پہلے یہاں کسی نے دیکھے نہ سنے۔ پھر چند گھنٹے گھوم کر وہ سیاح واپس لوٹ جاتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;شروع میں ان اجنبی لوگوں کا آنا خود بستی والوں کے لئے ایک تماشا سا تھا۔ مگر اب دھیرے دھیرے مقامی کلچر پر اس سیاحت کے اثر نمودار ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ مثلاً اب سے پہلے بستی میں ہر ایک ملکیت ساجھی ہی رہی تھی۔ رہنے کو زمین، کھانے کو مچھلیاں اور پھل سب کو میسر تھے۔ مگر اب ان سیاحوں کے لائے ہوئے کھلونے بستی کے سب بچوں کے لئےکافی نہیں ہوتے۔ ہر مرتبہ ہیلیکوپٹر کی آواز سن کر بچوں کا ایک ہجوم سب کچھ چھوڑ کر میدان کی طرف دوڑتا ہے۔ چند ایک کو کھلونے ملنے کی خوشی نصیب ہوتی ہے مگر اکثر کو خالی ہاتھ واپسی کی مایوسی۔ وسائل کی یہ ذاتی ملکیت بستی والوں کے لئے بالکل نئی بات ہے۔ چھینا جھپٹی اور چوری کے کچھ واقعات بھی ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں والدین کے بیچ چپقلش بھی۔ اسی طرح ہیلیکوپٹر والوں نے ماضی روڈ پر تین چار پگڈنڈیوں کے راستے بہت محفوظ بنا دئے ہیں۔ ان کے پیشِ نظر تو قدیمی پناہ گاہوں کی سیاحت ہی رہی ہوگی، مگر اس کا فائدہ مقامی نوجوانوں کو زیارت کی آسانی کا بھی پہنچا ہے۔ بستی کے کچھ عمر رسیدہ اس آسانی سے ناخوش بھی ہیں۔ ان کے نزدیک راستے کو آسان بنانے کے نتیجے میں بستی کی ایک اہم روایت کی قدر اور اہمیت گھٹ گئی ہے۔ اور سچ پوچھیں تو وہ اپنی بات میں غلط بھی نہیں۔ پچھلے دو سال سے ہیلیکوپٹر والے ہر پھیرے میں نت نئے پھلوں اور سبزیوں سے بھرے ہوئے کئی تھیلے بھی لا رہے ہیں،  جنہیں وہ واپس اڑنے سے پہلے میدان کے ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ بستی کے اکثر لوگ ان نئے ذائقوں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اب وہ اگلے سال ہیلیکوپٹر کے دوبارہ آنے کا انتظار کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;یوں تو آپس میں مسکراہٹ کی زبان کا کھلا استعمال  بستی والوں اور ہیلیکوپٹر والوں میں اعتماد کے لئے کافی ہے۔ مگر بچوں نے &quot;کیا حال ہے؟&quot;، &quot;شکریہ&quot;، &quot;ٹھیک&quot;، اور &quot;یہ کیا ہے؟&quot; جیسے چند ایک لفظ کسی اجنبی زبان میں سیکھ کر اور بول کر سیاحوں اور  اپنے بڑوں کو ایک خوشگوار سی حیرانی میں ڈالنا بھی شروع کر دیا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;اس سال کی بہار کا ابھی آغاز ہے۔ کچھ ہفتوں کے بعد ہیلیکوپٹر والے آنے لگیں گے۔ مگر اس کے ساتھ ہی پہاڑوں کی گرگڑاہٹ میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ خیال یہی ہے کہ کسی نہ کسی وجہ سے دیوتا اس بستی سے زیادہ خوش نہیں۔ اب سے کوئی ہفتہ پہلے رات کو پہاڑ اتنا  گڑگڑاے کہ بستی کی زمین کانپ گئی اور جھیل کا پانی تھرتھرا کر حال روڈ کے کناروں تک آ گیا۔ اس پر ستم یہ کہ دیوتائوں کے اس پیغام کو مالا والے مکمل طور پر سمجھ بھی نہیں سکے۔ جو سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ آنے والی چودھویں چاند رات کو حال روڈ سے منازل کا ایک جلوس گزرے گا۔ اور پھر اس کے بعد بھی کچھ ہوگا ۔۔۔۔ کیا ہوگا؟ یہ ٹھیک سے معلوم نہیں ہو سکا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر سب نے دیکھا کہ چودھویں کی رات کو ایک ایک کر کے سیکڑوں پناہ گاہیں حال روڈ سے یوں گزریں جیسے انہوں نے خود ہی اپنی زیارت کو بستی والوں پر آسان کر دیا ہو۔ درختوں کے کئی جھنڈ گزرے جنکے نیچے انہی کی چھال کے بچھونے تھے۔ پیڑوں کے تنے گزرے جن پر سے لکڑی کاٹے جانے کے ایسے نشان تھے جیسے کسی نے پانی یا خوراک جمع رکھنے کے لئے پیالہ تراشا ہو۔ پہاڑوں کے ٹکڑے بھی تھے جن میں بجھے ہوئے کوئلوں کی راکھ پڑی تھی اور کھرچ کر بنائی ہوئی پرندوں، مچھلیوں اور دیوتائوں کی تصویریں بھی۔ بستی کے اکثر لوگ اپنی پچھلی زیارتوں کی وجہ سے ایسی منزلوں کو پہچانتے تھے۔ &lt;br /&gt;&quot;ہاں ہم نے یہ دیکھا تھا&quot;&lt;br /&gt;&quot;ہم نے یہ بھی دیکھا تھا&quot;&lt;br /&gt;اور اس جیسی بہت سی آوازیں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ &lt;br /&gt;ایک اور بات یہ بھی تھی کہ منزلوں کا یہ جلوس مشرق کی طرف کے ماضی روڈ کی بجائے مغرب کے جنگلوں اور گھاٹیوں سے نکل کر حال روڈ پر آیا اور اسی جانب لوٹ گیا۔ لیکن منزلوں کے اس جلوس کے جانے کے بعد جو ہوا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ جھیل کے پرلی طرف کا پہاڑ اس زور پھٹا کہ سب کے کان بند ہو گئے۔ آگ جیسا لاوا اور بڑے بڑے پتھر اڑ اڑ کر جھیل میں گرنے لگے۔ پانی ابل گیا گھاس کو آگ لگ گئی۔ دھواں اتنا گہرا اور زہریلا تھا کہ بستی والوں کی سانس بند ہونے لگی، کئی بے ہوش ہو کر گر پڑے، کچھ کو پتھروں نے زخمی کر دیا، باقی بدحواسی میں پناہ گاہوں کی طرف دوڑے۔ اس کے بعد تیز بارش برسی اور کئی دن تک برستی ہی چلی گئی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; اب کچھ روز بعد ایک ایک کر کے بستی کے بچے کھچے لوگ پناہ گاہوں سے باہر نکل رہے ہیں۔ سب خاموش ہیں۔ بس خوف اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھیں ادھر ادھر دیکھ رہی ہیں۔ جھیل ابل کر خشک پڑی ہے اور اس کے اوپر ہزاروں مری ہوئی مچھلیوں کی تہہ، کچھ تو اب تک ہولے ہولے تڑپ رہی ہیں۔ پیڑ جل کر سیاہ پڑ گئے ہیں۔ جہاں پہلے پھل ہوتے تھے وہاں کہیں کہیں ٹہنیوں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ اور جہاں کبھی حال روڈ تھا وہاں راکھ کی ایک گہری تہہ بارش پڑنے سے دلدل میں بدل گئی ہے اور اس دلدل میں ڈوبے ابھرے کئی انسانوں کے جلے ہوئے جسم۔ ایسے میں تین چار پہاڑی کوے کہیں سے اڑ کر آئے اور خشک جھیل پر مچھلیوں کی تہہ میں اتر گئے۔ پھر بستی والوں میں سے کسی کی بین کرتی ہوئی بلند چیخ آس پاس کے پہاڑوں سے ٹکرائی اور اس کے ساتھ ہی سب چیخ چیخ کر رونے لگے۔ اس روز یہی فیصلہ ہوا کہ یہ جگہ اب رہنے کے قابل نہیں۔ کل صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کوچ کرنا ہے۔ &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;پھر صبح سویرے سب اپنا تھوڑا بہت سامان کمر پر باندھ کر جمع ہوئے۔ اور اس روز پہلی بار بستی کے لوگوں میں کسی بات پر اختلاف ہوا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ ہمیں مشرق کا رخ کرنا چاہئے جہاں ہمارے اسلاف کی پناہ گاہیں باقی ہیں۔ دوسرا گروہ مغرب کو جانا چاہتا تھا کیونکہ منازل کا جلوس اس طرف سے آیا، اور ادھر ہی کو گیا۔ ایک تیسرا گروپ یہیں رہ کر ہیلیکوپٹر کے انتظار کے حق میں تھا۔ ان کاخیال تھا کہ سیاح لوگ بستی کی حالت دیکھ کر انہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ کوئی گروہ بھی اپنی سوچ سے نہیں ہٹا اس لئے کوئی ایک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ بھائی بہنوں سے بچھڑ گئے۔ بچے بڑوں سے جدا ہو گئے۔&apos; &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ماسی لووانہ کی کہانی یہیں پر رک گئی اور ہم سب پہ بھی خاموشی چھا گئی۔۔&lt;br /&gt;&apos; تو کیا ہیلیکوپٹر والے آ کر بستی والوں کو نکال لائے؟&apos;  کچھ دیر بعد کسی نے پوچھا۔ &lt;br /&gt;ماسی خاموش رہیں۔ ہمیں کہانی سناتے سناتے وہ خود سو گئی تھیں۔ بس نیند کی اس کیفیت میں ہی انہوں نے سر ہلا کر نفی میں جواب دیا۔ پھر ان کی بند مٹھی ذرا سی کھلی اور ایک کھلونا ہیلیکوپٹر ہاتھ سے پھسل کر کھاٹ کے نیچے بالکل میرے سامنے آ گرا۔ چپکے سے میں نے اسے اپنی مٹھی میں چھپا لیا۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;وقت گزر گیا ہے۔ میں نے ائیروناٹیکل انجینیرنگ پڑھی ہے اور ہیلیکوپٹر بنانے والی ایک کمپنی میں کام کرتی ہوں۔ کھاٹ کے پاس سے چرایا ہوا وہ کھلونا ہیلیکوپٹر اب بھی میرے ڈیسک پر پڑا ہے۔ شاید ماسی لووانہ کی کہانی کہ وہ جملے یاد دلانے کے لئے جو وہ خود کہہ نہیں پائیں۔ &lt;br /&gt;&apos;بستی کے بچو! ان ہیلیکوپٹر والوں کا اعتبار مت کرنا۔ تمہارے ہاتھوں میں رنگین کھلونے تھما کر یہ کبھی واپس نہیں آتے۔ کبھی نہیں آئیں گے۔&apos;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;ریاض اکبر&lt;br /&gt;آسٹریلیا&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;hindi&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;यह उन गिनी-चुनी कहानियों में से एक है जो मेरे बचपन में मोहल्ले की लड़कियों को मासी लोवाना सुनाया करती थीं। सब लोग मानते थे कि मासी लोवाना के नाम की तरह उनकी कहानियाँ भी आम रास्ते से हटकर होती थीं। मगर वे कम बोलती थीं और कहानियाँ तो बहुत ही कम सुनाती थीं। मोहल्ले के घरों में काम-काज करके उनका गुज़ारा चलता था। गर्मियों में उनके छोटे-से घर के आँगन में एक खाट पड़ी रहती थी और वे वहीं सोती भी थीं। स्कूलों की लंबी छुट्टियाँ होतीं तो शाम ढलते ही हम लड़कियाँ उसी खाट के चारों ओर बैठ जातीं। गली के सभी बड़े जानते थे कि अगर लड़कियाँ घर में न मिलें, तो खाट के आसपास ही कहीं होंगी। ज़्यादातर बातें हम आपस में ही करती थीं, लेकिन कभी-कभी जब मासी से कहानी सुनने को मिल जाती, तो जैसे पूरा माहौल बदल जाता। कहानी सुनाते समय कई जगह उनका अंदाज़ ऐसा हो जाता मानो किसी नाटक या फ़िल्म के दृश्य उनकी आँखों के सामने चल रहे हों और वे बता रही हों कि उस पल क्या हो रहा है। आपके साथ साझा करते हुए मेरे शब्दों में वैसी थकान भरी मिठास और बहाव तो शायद न हो, मगर मैं पूरी कोशिश करूँगी कि उनका अंदाज़ वैसा ही बना रहे।&lt;br /&gt;तो सुनिए।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;“पहाड़ी की तलहटी में, ढलानों से बहते प्राकृतिक झरनों के पानी से भरी एक झील के किनारे, यह बस्ती शायद पाँच पीढ़ियाँ पहले बुज़ुर्गों ने बसाई थी। तब से वही पूरा कबीला यहीं रहता आ रहा है। झील की मछलियाँ, कमल की जड़ें, और किनारों पर उगने वाले तरह-तरह के जंगली पेड़ों के फल उनका भोजन हैं। यानी एक सादा, संतोषभरी और सुखद ज़िंदगी। पूरब की ओर एक संकरी पगडंडी बस्ती से निकलकर घाटियों और जंगलों में खो जाती है। लोगों का मानना है कि उनके पुरखे उसी रास्ते से यहाँ पहुँचे थे। शायद इसी कारण उस रास्ते का नाम ‘माज़ी रोड’ पड़ गया। और शायद इसी वजह से झील के किनारे वाले रास्ते को ‘हाल रोड’ कहा जाने लगा। हाल रोड पर दिन भर चहल-पहल रहती है। मछलियाँ पकड़ने और कमल के पत्ते, जड़ें और फूल इकट्ठा करने के लिए बच्चे-बड़े सभी यहाँ आते हैं, देर तक मिलते-जुलते हैं और शाम ढलते ही इसी रास्ते से अपनी-अपनी झोपड़ियों की ओर लौट जाते हैं। चाँदनी रातें कुछ ख़ास उत्सवों और मेल-जोल के लिए तय होती हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;हर इंसानी बस्ती की अपनी परंपराएँ होती हैं। यहाँ यह मान्यता है कि कभी-कभी रात के सन्नाटे में पास के पहाड़ों से आने वाली अजीब-सी गड़गड़ाहट को देवताओं की आपसी बातचीत समझा जाता है।&lt;br /&gt;एक रस्म माज़ी रोड पर स्थित ‘मंज़िलों’ की यात्रा की भी है। ये मंज़िलें असल में चट्टानों की ओट में या ऊँचे पेड़ों के नीचे बनी पुरानी शरणस्थलियों के अवशेष हैं। माना जाता है कि बस्ती के शुरुआती बुज़ुर्गों को देवताओं ने यात्रा के जिन कठिन इम्तिहानों से गुज़ारा था, उन्हीं के दौरान ये शरणस्थल बनाए गए थे।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;हर जानी-पहचानी मंज़िल के साथ एक कहानी जुड़ी है, जो बड़े लोग पीढ़ी-दर-पीढ़ी बच्चों को सुनाते आए हैं। बस्ती के हर लड़के और लड़की से उम्मीद की जाती है कि वह वयस्क होने का अधिकार पाने के लिए अकेले माज़ी रोड के कठिन रास्ते पर कम से कम तीन मंज़िलों की यात्रा ज़रूर करे। कुछ पाँच या सात मंज़िलों तक भी जाते हैं। और जो इक्कीस या उससे अधिक मंज़िलों तक पहुँच जाता है, उसे समाज में विशेष सम्मान मिलता है। ऐसे यात्रियों को नीले पत्थरों की एक माला पहनाई जाती है और लोग उन्हें ‘माला वाले’ कहकर पुकारते हैं। सिर्फ़ माला वाले ही देवताओं से संवाद करने के योग्य माने जाते हैं। मगर कई युवा इस यात्रा से कभी लौटकर नहीं आते। उनसे जुड़ी कथाओं में मतभेद हैं, पर एक बात सब मानते हैं—वे इस बस्ती के लिए उपयुक्त नहीं थे, इसलिए देवताओं ने उन्हें किसी और जीवन के लिए चुन लिया।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;हाँ, एक बात और। पिछले तीन-चार सालों से बस्ती वालों को एक नई परेशानी ने घेर लिया है—बसंत और गर्मियों में आने वाले पर्यटक। यह ऐसा बदलाव है जिसे वे न रोक सकते हैं और शायद रोकना भी नहीं चाहते। पहले साल हफ्ते में एक बार, और अब तो लगभग हर दूसरे दिन, सुबह-सुबह शोर करता हुआ एक हेलीकॉप्टर हाल रोड के पास खुले मैदान में उतर आता है। अलग-अलग कपड़े पहने चार-पाँच सैलानी किसी अनजानी भाषा में बातें करते हैं, बस्ती के लोगों के साथ तस्वीरें खिंचवाते हैं और बच्चों को रंग-बिरंगे खिलौने बाँटते हैं—ऐसे खिलौने जो यहाँ किसी ने पहले न देखे थे, न सुने थे। फिर कुछ घंटों बाद वे लौट जाते हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;शुरू में इन अजनबियों का आना खुद बस्ती वालों के लिए तमाशा था। मगर धीरे-धीरे इस पर्यटन का असर स्थानीय संस्कृति पर दिखने लगा। पहले यहाँ हर चीज़ साझा होती थी—रहने की ज़मीन, खाने की मछलियाँ और फल। मगर अब सैलानियों के लाए खिलौने सब बच्चों के लिए पर्याप्त नहीं होते। हर बार हेलीकॉप्टर की आवाज़ सुनते ही बच्चे सब कुछ छोड़ मैदान की ओर दौड़ पड़ते हैं। कुछ को खिलौने मिलते हैं, ज़्यादातर खाली हाथ लौटते हैं। संसाधनों की यह निजी मिल्कियत बस्ती के लिए बिल्कुल नई बात है। छीना-झपटी और चोरी की घटनाएँ हुई हैं, और माता-पिता के बीच तनाव भी बढ़ा है। इसी बीच हेलीकॉप्टर वालों ने माज़ी रोड की कुछ पगडंडियों को सुरक्षित बना दिया है। उनका उद्देश्य शायद पुरानी मंज़िलों को देखने का था, मगर इससे स्थानीय युवाओं के लिए यात्रा आसान हो गई। बस्ती के कुछ बुज़ुर्ग इस आसानी से नाख़ुश हैं। उनका मानना है कि रास्तों के सरल होने से एक अहम परंपरा का मूल्य घट गया है—और सच कहें तो वे ग़लत भी नहीं। पिछले दो सालों से हेलीकॉप्टर वाले हर बार नए फल और सब्ज़ियों से भरे थैले भी लाने लगे हैं, जिन्हें उड़ान से पहले मैदान के एक कोने में रख देते हैं। बस्ती के लोग इन नए स्वादों के आदी होते जा रहे हैं और अब अगले साल हेलीकॉप्टर के आने का इंतज़ार करते हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;मुस्कान की भाषा बस्ती वालों और सैलानियों के बीच भरोसे के लिए काफ़ी है, लेकिन बच्चों ने &lt;br /&gt;“क्या हाल है?”, &lt;br /&gt;“धन्यवाद”, &lt;br /&gt;“ठीक है”, &lt;br /&gt;और “यह क्या है?” &lt;br /&gt;जैसे कुछ शब्द किसी अजनबी भाषा में सीख लिए हैं और उन्हें बोलकर वे सैलानियों और अपने बड़ों—दोनों को हल्की-सी हैरानी में डाल देते हैं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;इस साल बसंत की शुरुआत ही हुई है। कुछ हफ्तों में हेलीकॉप्टर फिर आने लगेंगे। मगर पहाड़ों की गड़गड़ाहट लगातार बढ़ रही है। लगता है किसी न किसी वजह से देवता इस बस्ती से प्रसन्न नहीं हैं। एक हफ्ता पहले रात में पहाड़ इतने ज़ोर से गूँजे कि ज़मीन काँप उठी और झील का पानी थरथराता हुआ हाल रोड के किनारों तक आ गया। दुर्भाग्य यह कि माला वाले भी देवताओं के संदेश को पूरी तरह समझ न सके। बस इतना समझ आया कि आने वाली चौदहवीं की चाँदनी रात को हाल रोड से मंज़िलों का एक जुलूस गुज़रेगा—और उसके बाद कुछ और होगा। क्या होगा, यह स्पष्ट नहीं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt; जिनके नीचे उन्हीं की छाल के बिछौने थे। कटे तनों पर ऐसे निशान थे जैसे किसी ने पानी या भोजन रखने के लिए कटोरियाँ तराशी हों। पहाड़ों के टुकड़ों में बुझी हुई अंगारों की राख थी और उकेरी गई चिड़ियों, मछलियों और देवताओं की आकृतियाँ भी। बहुत से लोग अपनी पिछली यात्राओं के कारण इन मंज़िलों को पहचान रहे थे।&lt;br /&gt;“हाँ, हमने यह देखा था।”&lt;br /&gt;“यह भी देखा था।”&lt;br /&gt;ऐसी आवाज़ें हर ओर गूँज रही थीं।&lt;br /&gt;एक और बात यह थी कि मंज़िलों का यह जुलूस पूरब की ओर माज़ी रोड से नहीं, बल्कि पश्चिम के जंगलों और घाटियों से निकलकर हाल रोड पर आया और उधर ही लौट गया।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;इसके बाद जो हुआ, वह बयान से बाहर है। झील के पार का पहाड़ ऐसे फटा कि सबके कान सुन्न हो गए। आग जैसा लावा और विशाल पत्थर उड़ते हुए झील में गिरने लगे। पानी उबलने लगा, घास जल उठी। धुआँ इतना घना और ज़हरीला था कि लोगों की साँसें रुकने लगीं। कई बेहोश होकर गिर पड़े, कुछ पत्थरों से घायल हो गए, बाकी बदहवासी में शरणस्थलों की ओर भागे। इसके बाद तेज़ बारिश हुई और कई दिनों तक होती रही।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;कुछ दिनों बाद बस्ती के बचे-खुचे लोग एक-एक कर शरणस्थलों से बाहर निकले। सब चुप थे। डर और हैरानी से फटी आँखें चारों ओर देख रही थीं। झील उबलकर सूख चुकी थी और उस पर हज़ारों मरी हुई मछलियों की परत जमी थी—कुछ अब भी हल्की-हल्की तड़प रही थीं। पेड़ जलकर काले पड़ गए थे। जहाँ पहले फल लटकते थे, वहाँ अब टहनियों से धुआँ उठ रहा था। और जहाँ कभी हाल रोड था, वहाँ राख की मोटी परत बारिश से दलदल बन चुकी थी—उस दलदल में आधे डूबे, जले हुए इंसानी शरीर।&lt;br /&gt;इसी बीच तीन-चार पहाड़ी कौए कहीं से उड़कर आए और सूखी झील में मछलियों की परत पर उतर गए। तभी बस्ती वालों में से किसी की विलाप करती चीख पहाड़ों से टकराई और सब ज़ोर-ज़ोर से रोने लगे। उसी दिन तय हुआ कि यह जगह अब रहने योग्य नहीं। अगली सुबह सूरज की पहली किरण के साथ प्रस्थान करना है।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;सुबह-सुबह सब लोग थोड़ा-बहुत सामान कमर पर बाँधकर इकट्ठा हुए। और उसी दिन पहली बार बस्ती वालों के बीच मतभेद हुआ। कुछ ने कहा कि पूरब की ओर जाना चाहिए, जहाँ पुरखों की शरणस्थलियाँ अब भी हैं। दूसरा समूह पश्चिम जाना चाहता था, क्योंकि मंज़िलों का जुलूस उधर से आया और उधर ही गया था। तीसरा समूह यहीं रुककर हेलीकॉप्टर का इंतज़ार करना चाहता था—उन्हें भरोसा था कि सैलानी बस्ती की हालत देखकर उन्हें अपने साथ ले जाएँगे। कोई भी अपनी बात से पीछे नहीं हटा। नतीजा यह हुआ कि कोई एक फैसला नहीं हो सका। भाई-बहन बिछड़ गए। बच्चे बड़ों से अलग हो गए।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;यहीं मासी लोवाना की कहानी रुक गई और हम सब पर ख़ामोशी छा गई।&lt;br /&gt;“तो क्या हेलीकॉप्टर वाले आकर बस्ती वालों को ले गए?”&lt;br /&gt;कुछ देर बाद किसी ने पूछा।&lt;br /&gt;मासी चुप रहीं। कहानी सुनाते-सुनाते वे खुद सो गई थीं। नींद में ही उन्होंने सिर हिलाकर ‘न’ कहा। फिर उनकी बंद मुट्ठी थोड़ी खुली और एक खिलौना हेलीकॉप्टर हाथ से फिसलकर खाट के नीचे, ठीक मेरे सामने गिर पड़ा। चुपके से मैंने उसे अपनी मुट्ठी में छिपा लिया।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;वक़्त गुज़र गया। मैंने एयरोनॉटिकल इंजीनियरिंग पढ़ी है और अब एक हेलीकॉप्टर बनाने वाली कंपनी में काम करती हूँ। खाट के पास से चुराया हुआ वह खिलौना हेलीकॉप्टर आज भी मेरी मेज़ पर रखा है—शायद मासी लोवाना की कहानी के वे अधूरे वाक्य याद दिलाने के लिए, जो वे खुद कह नहीं पाईं।&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;रियाज़ अकबर&lt;br /&gt;ऑस्ट्रेलिया&lt;/div&gt;

&lt;div class=&quot;english&quot; style=&quot;margin-bottom: 3em;&quot;&gt;This is one of those few stories that Masī Luwāna used to tell us neighbourhood girls when I was a child. People believed that, like her name, her stories too wandered away from well-trodden paths. She was a quiet woman and rarely spoke at length; stories were rarer still. She earned her living doing housework in nearby homes. In summer, a simple rope bed was kept in the courtyard of her small house, and that was where she slept.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;During the long school holidays, as evening fell, we girls would gather around that bed. Everyone in the lane knew that if the girls were not at home, they would be somewhere near Masī’s cot. Most of the time we chatted among ourselves, but on those rare evenings when Masī decided to tell a story, the air itself seemed to change. As she spoke, her manner would shift—as though scenes from a play or a film were unfolding before her eyes and she was merely describing what she could see. Sharing her story now, I know my words may lack her languid ease and quiet fluency, but I will try to keep the spirit of her telling alive.&lt;br /&gt;So listen.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&apos;At the foot of a hill, on gentle slopes fed by natural springs, beside a lake full of clear water, a settlement was founded—perhaps five generations ago—by the ancestors of the people who still live there. Since then, the tribe has remained in this place. Fish from the lake, lotus roots, and the fruits of many wild trees form their food. It is a simple, contented, and untroubled life.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;To the east, a narrow footpath leaves the settlement and disappears into ravines and forests. People believe their ancestors arrived through this very path, and perhaps that is why it is called the Road of the Past. For similar reasons, the path that runs along the lake is called the Road of the Present. The Road of the Present is lively throughout the day. Children and adults alike come here to fish, to gather lotus leaves, roots, and flowers. They linger, talk, and at dusk return to their shelters along the same path . Moonlit nights are reserved for festivals and gatherings.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Every human settlement develops its own customs. Here, it is believed that at times, in the deep silence of night, the strange rumbling sounds from the nearby mountains are the voices of the gods in conversation. Another ritual involves visiting the Destinations along the Road of the Past. These Destinations are the remains of old shelters—built beneath tall trees or inside rock hollows. It is believed they were created during the trials the gods imposed on the earliest ancestors during their journey to this land. Each known shelter has a story attached to it, passed down by elders to children. Every boy and girl in the settlement is expected to earn adulthood by travelling alone along the difficult Road of the Past and visiting at least three Destinations. Some go on to five or seven. Those who reach twenty-one or more are held in special respect. They are given a necklace of blue stones and are known as the Garlanded Ones. Only these Garlanded Ones are believed capable of communicating with the gods. Many young people, however, never return from these pilgrimages. Stories about them differ, but all agree on one point: they were not meant for the life of this settlement, and so the gods chose them for another existence.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;One more thing.&lt;br /&gt;Over the past three or four years, the people of the settlement have faced a new confusion—the arrival of tourists during spring and summer. This change cannot be stopped, and perhaps they do not wish to stop it. In the first year, once a week; now, almost every second day, a noisy helicopter arrives early in the morning and lands in an open field near the Road of the Present. Four or five tourists step out, dressed differently, speaking an unfamiliar language. They take photographs with the villagers and give colourful toys to the children—objects never seen or imagined before. After wandering for a few hours, they leave.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;At first, the arrival of these strangers was a spectacle. Slowly, however, tourism began to affect the local culture. Until then, everything in the settlement had been shared—land to live on, fish to eat, fruit to gather. But the toys brought by the tourists were never enough for all the children. Each time the helicopter’s sound echoed, children would abandon whatever they were doing and race towards the field. A few would return joyful with toys; most returned empty-handed and disappointed. Private ownership of resources was entirely new to the settlement. There were incidents of snatching and stealing, followed by tensions among parents. &lt;br /&gt;&lt;br /&gt;The helicopter visitors also made several of the footpaths along the Road of the Past safer and easier. While their intention may have been to facilitate tourism of ancient shelters, it also made pilgrimages easier for the young. Some elders resented this change. To them, easing the journey diminished the meaning and value of an essential tradition—and, truthfully, they were not entirely wrong.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;For the past two years, the helicopter visitors have also brought bags full of new fruits and vegetables, leaving them near the field before departing. Many villagers have grown accustomed to these new tastes. Now they wait for the helicopter’s return each year.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Smiles alone have been enough to build trust between villagers and visitors. But the children have also learned a few words in the visitors’ language; like:&lt;br /&gt;“How are you?”, &lt;br /&gt;“Thank you”, &lt;br /&gt;“Okay”, and&lt;br /&gt;“What is this?”&lt;br /&gt;They delight both tourists and elders by speaking them aloud.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;This spring has only just begun. In a few weeks, the helicopters will return. But at the same time, the rumbling from the mountains has been growing steadily louder. It is believed that, for some reason, the gods are displeased with the settlement.&lt;br /&gt;About a week ago, the mountains roared so violently at night that the ground shook and the lake’s water surged up to the edges of the Road of the Present. Worse still, even the Garlanded Ones failed to fully understand the gods’ message. All that could be understood was this: on the night of the full moon, a procession of Destinations would pass along the Road of the Present—and afterward, something else would happen. What that would be remained unclear.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Then, on the night of the full moon, hundreds of shelters passed one by one along the Road of the Present, as though they themselves had decided to make pilgrimage easier for the people. Groves of trees passed, beneath which lay bedding made from their own bark. Tree trunks passed bearing marks where wood had been carved into bowls for storing water or food. Pieces of mountains followed—containing ashes of old fires and scratched images of birds, fish, and gods.&lt;br /&gt;Many villagers recognised these Destinations from their own pilgrimages.&lt;br /&gt;“Yes, we saw this one.” &lt;br /&gt;“We saw this too.”&lt;br /&gt;Voices echoed everywhere.&lt;br /&gt;One strange thing was this: instead of coming from the eastern Road of the Past, the procession emerged from the western forests and ravines, and returned the same way.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;What happened after the procession passed is beyond description. The mountain on the far side of the lake exploded with such force that everyone’s ears rang. Lava like fire and massive rocks flew into the lake. The water boiled. Grass caught fire. Smoke became so thick and poisonous that people struggled to breathe. Many collapsed unconscious; others were injured by falling rocks; the rest fled in panic toward the shelters.&lt;br /&gt;Then heavy rain fell—for days without stopping.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Now, after some days, the surviving villagers are emerging one by one from the shelters. They are silent. Only wide, frightened eyes move from side to side. The lake has boiled dry, covered with thousands of dead fish—some still twitching faintly. Trees stand blackened and burnt. Where fruit once grew, smoke rises from broken branches. Where the Road of the Present once ran, a deep layer of ash has turned into mud—and within that mud lie half-submerged, charred human bodies.&lt;br /&gt;At that moment, three or four mountain crows flew in from nowhere and descended upon the fish-covered lakebed. Then a single wailing cry from one of the villagers struck the surrounding mountains—and everyone began to scream and weep.&lt;br /&gt;That day it was decided: this place was no longer livable. At sunrise, they would leave.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;At dawn, people gathered with whatever belongings they could carry. For the first time, a serious disagreement arose. Some insisted on going east, toward the ancestral shelters. Others wanted to go west, the direction from which the procession had come and returned. A third group wished to stay and wait for the helicopter, believing the tourists would rescue them.&lt;br /&gt;No agreement was reached.&lt;br /&gt;Brothers were separated from sisters. Children were torn from parents. ....&apos;.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Masī Luwāna’s story ended there, and silence settled over us. After a while, someone asked softly,&lt;br /&gt;“So… did the helicopter people come and take them away?”&lt;br /&gt;Masī remained silent. She had fallen asleep while telling the story. In that drowsy state, she shook her head slowly in denial. Her clenched fist loosened slightly, and a toy helicopter slipped from her hand and fell beneath the cot—right in front of me.&lt;br /&gt;Quietly, I hid it in my palm.&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Time has passed. I studied aeronautical engineering and now work for a helicopter manufacturing company. That stolen toy helicopter still sits on my desk—perhaps to remind me of the words Masī Luwāna could not bring herself to say:&lt;br /&gt;“Children of the settlement, do not trust these helicopter people.&lt;br /&gt;They place colourful toys in your hands—&lt;br /&gt;and they never come back.&lt;br /&gt;They never will.”&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;Riaz Akber&lt;br /&gt;Australia&lt;/div&gt;
</description>
        <pubDate>Sun, 28 Dec 2025 00:00:00 +0000</pubDate>
        <link>https://riazakber.com/2025/12/28/the-procession-of-destinations.html</link>
        <guid isPermaLink="true">https://riazakber.com/2025/12/28/the-procession-of-destinations.html</guid>
        
        <category>short story</category>
        
        
      </item>
    
  </channel>
</rss>

