Dried Fig
سوکھی انجیر
सूखी अंजीर
Riaz Akber
3 Feb 2026
تمہیں پتہ ہے نا کہ سوکھی انجیر میں کیلسیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ مگر پہلے ایسے نہیں تھا۔ معلوم ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ بندو کی وجہ سے۔ ارے سمجھے نہیں۔ میں بتاتی ہوں۔
'بندو کی ماں لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی تھی اور باپ گھر میں کھانسے اور گالیاں دینے کا۔ دس بارہ سال پہلے ان کے حالات اجھے تھے۔ تب بندو پنگھوڑے میں رہتا یا ماں کی گود میں اور باپ بس اڈے کے پاس اپنی پھلوں کی دکان پر۔ وہ ایک محنتی انسان تھا، منڈی سے اچھا پھل لاتا اور کوالٹی کے لحاظ سے چھانٹی کر کے فروخت کرتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آتے جاتے مسافروں کے علاوہ قریب کے محلوں کے لوگ بھی خریداری کے لئے اس کی دوکان پر آتے۔ پھر ایک روز سڑک کے کنارے کسی مسافر کے پھینکے ہوئے پھل کے چھلکے سے پھسلا اور ایک چلتی بس کے پہئے کے نیچے اپنی پنڈلیوں کی ہڈیاں چٹخا بیٹھا۔ اب گھر میں کچھ قدم چلنے کی سہار کے علاوہ بھی اس نے بیساکھیوں کے کچھ اور استعمال سیکھ لئے تھے، جن میں قریب کھونٹی پر ٹنگے بنیان تولیے اتارنا، ذرا دور میز پر دھرے ریڈیو کا بٹن دبانا، اور بندو کی پٹائی شامل تھی۔ ماں اس کے حادثے کا سبب بس اڈے کے دوسرے دکانداروں کی بد نظر اور جادو ٹونا بتاتی۔ وہ یہ بھی کہتی کہ پہلے وہ دھیمے مزاج کا خوش طبع انسان تھا مگر اس حادثے نے اسے غصیل اور چڑچڑا کر دیا۔
باپ کی طرف سے بندو پر عائد کردہ الزامات میں اسکا پیدائش کے لئے غلط وقت کا انتخاب بھی شامل تھا۔ یعنی اگر وہ اپنی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہو چکا ہوتا تو باپ کی دوکان پر کام سیکھ لیتا اور تھوڑا بہت ہاتھ بٹا سکتا۔ اگر دیر سے پیدا ہوتا تو اپاہج باپ کی موت کے انتظار کی مدت کچھ کم ہوجاتی۔ ماں نے اس کے باپ کو کئی بار سمجھایا بھی کہ ان کی شادی سے بھی پہلے بندو کیسے پیدا ہوتا؟ اور یہ کہ وہ اپنی موت کا اتنی بے چینی سے انتظار نہ کرے کیونکہ جب وہ آئے گی سو آئے گی۔ مگر یہ دونوں بے تکے خیال اس کے ذہن میں ان ڈھیٹ کرائے داروں کی طرح بس گئے تھے جو گھر چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ دبلا پتلا بندو قد نکال رہا تھا اور اس کے ساتھ نامعلوم کیوں اسے کمر کو موڑ کر اور سر کو جھکا کر بیٹھنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ اسی نسبت سے اسکا باپ اسے سوکھی انجیر کہہ کر بلاتا۔ باپ کی دیکھا دیکھی گلی اور سکول کے بچوں نے بھی بندو کو اسی نام سے چھیڑنا شروع کر دیا تھا۔
ایسے ہی گزرتے ہوئے دنوں میں سے وہ بھی ایک دن کی سویر تھی جب ماں حسب معمول کام پر نکلنے کے لئے تیار ہوئی۔ پچھلے روز نویں جماعت کے امتحان کے نتیجے کی پرچیاں ملی تھیں اور بندو کمرے کے ایک کونے میں اسی کاغذ پر نظریں جمائے سمٹا سکڑا خاموش بیٹھا تھا۔ ایسے میں باپ نے اسے بلایا۔
'ٹکٹکی بانھ کر کیا دیکھ رہا ہے تُو رے؟'
'نتیجہ ہے ابا۔ فائینل امتحان کا۔'
'فیل ہو گیا نا۔ تبھی تو میں کہتا تھا کہ میرے ساتھ پھل کی دوکان کر لیتا تو اچھا تھا۔ لا دکھا مجھے پرچی۔ نالائق اولاد۔ سوکھی انجیر'۔
بندو نے باپ کو ایک نظر دیکھا۔ بیساکھی پر اس کی گرفت کا انداز بندو کی پٹائی شروع ہونے کا اشارا تھا۔ وہ اٹھا اور نتیجے کی پرچی باپ کے ہاتھوں میں تھما کر سر جھکائے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اکثر مضامین میں نوے فی صد سے زیادہ نمبر لے کر وہ پاس ہوا تھا۔ باپ نے پرچی ایک دو بار دیکھی پھر خاموشی سے اسے واپس بندو کے ہاتھوں میں تھما دیا۔
بیساکھیوں کے سہارے وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچا اور پچھلے آٹھ سال میں پہلی بار دہلیز پار کر کے گلی میں نکل آیا۔ اسے دیکھ کر ماں بھی باہر آئی۔
'کہاں جا رہا ہے رے؟'
'منڈی۔ اب کی بار یہیں محلے میں پھلوں کی دوکان لگائوں گا۔'
'میں ساتھ چلوں۔'
'نہیں۔ تو اپنے کام پہ جا۔ جب تک دوکان نہیں چلتی بندو کی دسویں جماعت کی کتاب کاپیوں
کا کچھ کر دے۔ آگے کی میں خود سنبھالوں گا۔'
ماں جانے لگی تو باپ پھر بولا۔
'سن۔ اکیلی انجیر دھاگے میں جھولتی اچھی نہیں لگتی۔ ایک دو اور پروئے گی کیا؟'
ماں نے جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہونٹوں پر ایک شرمیلی مسکراہٹ۔
بندو نے یہ سب کچھ نہیں سنا تھا۔ وہ کمرے میں سمٹا سکڑا یہ سوچ رہا تھا کہ بڑے ہو کر ڈاکٹر بنے گا۔ ٹوٹی ہڈیاں جوڑنے والا ڈاکٹر۔ کہتے ہیں کہ اناپورنا دیوی ماں نے یہ سب منظر دیکھا اور اسی سمے سوکھی انجیر میں کیلسیم کی مقدار سب پھلوں سے زیادہ بڑھا دی۔ ہڈیوں کے لئے اچھی ہوتی ہے، اس لئے۔'
ہاں تو کیسی لگی تمہیں یہ کہانی؟ اب چلتی ہوں۔ مگر جانے سے پہلے ایک بات اور۔ وہ جو دنیا میں مانے ہوئے ہڈیاں جوڑنے کے سرجن ہیں، اپنے شہر کے ڈاکٹر برجیش لال، بھگوان کے لئے انہیں مت کہنا کہ ان کے بچپن کا سوکھی انجیر والا نام میں نے تمہیں بتایا ہے۔
ریاض اکبر
کینبرا ۔ آسٹریلیا
'بندو کی ماں لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی تھی اور باپ گھر میں کھانسے اور گالیاں دینے کا۔ دس بارہ سال پہلے ان کے حالات اجھے تھے۔ تب بندو پنگھوڑے میں رہتا یا ماں کی گود میں اور باپ بس اڈے کے پاس اپنی پھلوں کی دکان پر۔ وہ ایک محنتی انسان تھا، منڈی سے اچھا پھل لاتا اور کوالٹی کے لحاظ سے چھانٹی کر کے فروخت کرتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آتے جاتے مسافروں کے علاوہ قریب کے محلوں کے لوگ بھی خریداری کے لئے اس کی دوکان پر آتے۔ پھر ایک روز سڑک کے کنارے کسی مسافر کے پھینکے ہوئے پھل کے چھلکے سے پھسلا اور ایک چلتی بس کے پہئے کے نیچے اپنی پنڈلیوں کی ہڈیاں چٹخا بیٹھا۔ اب گھر میں کچھ قدم چلنے کی سہار کے علاوہ بھی اس نے بیساکھیوں کے کچھ اور استعمال سیکھ لئے تھے، جن میں قریب کھونٹی پر ٹنگے بنیان تولیے اتارنا، ذرا دور میز پر دھرے ریڈیو کا بٹن دبانا، اور بندو کی پٹائی شامل تھی۔ ماں اس کے حادثے کا سبب بس اڈے کے دوسرے دکانداروں کی بد نظر اور جادو ٹونا بتاتی۔ وہ یہ بھی کہتی کہ پہلے وہ دھیمے مزاج کا خوش طبع انسان تھا مگر اس حادثے نے اسے غصیل اور چڑچڑا کر دیا۔
باپ کی طرف سے بندو پر عائد کردہ الزامات میں اسکا پیدائش کے لئے غلط وقت کا انتخاب بھی شامل تھا۔ یعنی اگر وہ اپنی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے پیدا ہو چکا ہوتا تو باپ کی دوکان پر کام سیکھ لیتا اور تھوڑا بہت ہاتھ بٹا سکتا۔ اگر دیر سے پیدا ہوتا تو اپاہج باپ کی موت کے انتظار کی مدت کچھ کم ہوجاتی۔ ماں نے اس کے باپ کو کئی بار سمجھایا بھی کہ ان کی شادی سے بھی پہلے بندو کیسے پیدا ہوتا؟ اور یہ کہ وہ اپنی موت کا اتنی بے چینی سے انتظار نہ کرے کیونکہ جب وہ آئے گی سو آئے گی۔ مگر یہ دونوں بے تکے خیال اس کے ذہن میں ان ڈھیٹ کرائے داروں کی طرح بس گئے تھے جو گھر چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ دبلا پتلا بندو قد نکال رہا تھا اور اس کے ساتھ نامعلوم کیوں اسے کمر کو موڑ کر اور سر کو جھکا کر بیٹھنے کی عادت پڑ گئی تھی۔ اسی نسبت سے اسکا باپ اسے سوکھی انجیر کہہ کر بلاتا۔ باپ کی دیکھا دیکھی گلی اور سکول کے بچوں نے بھی بندو کو اسی نام سے چھیڑنا شروع کر دیا تھا۔
ایسے ہی گزرتے ہوئے دنوں میں سے وہ بھی ایک دن کی سویر تھی جب ماں حسب معمول کام پر نکلنے کے لئے تیار ہوئی۔ پچھلے روز نویں جماعت کے امتحان کے نتیجے کی پرچیاں ملی تھیں اور بندو کمرے کے ایک کونے میں اسی کاغذ پر نظریں جمائے سمٹا سکڑا خاموش بیٹھا تھا۔ ایسے میں باپ نے اسے بلایا۔
'ٹکٹکی بانھ کر کیا دیکھ رہا ہے تُو رے؟'
'نتیجہ ہے ابا۔ فائینل امتحان کا۔'
'فیل ہو گیا نا۔ تبھی تو میں کہتا تھا کہ میرے ساتھ پھل کی دوکان کر لیتا تو اچھا تھا۔ لا دکھا مجھے پرچی۔ نالائق اولاد۔ سوکھی انجیر'۔
بندو نے باپ کو ایک نظر دیکھا۔ بیساکھی پر اس کی گرفت کا انداز بندو کی پٹائی شروع ہونے کا اشارا تھا۔ وہ اٹھا اور نتیجے کی پرچی باپ کے ہاتھوں میں تھما کر سر جھکائے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اکثر مضامین میں نوے فی صد سے زیادہ نمبر لے کر وہ پاس ہوا تھا۔ باپ نے پرچی ایک دو بار دیکھی پھر خاموشی سے اسے واپس بندو کے ہاتھوں میں تھما دیا۔
بیساکھیوں کے سہارے وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچا اور پچھلے آٹھ سال میں پہلی بار دہلیز پار کر کے گلی میں نکل آیا۔ اسے دیکھ کر ماں بھی باہر آئی۔
'کہاں جا رہا ہے رے؟'
'منڈی۔ اب کی بار یہیں محلے میں پھلوں کی دوکان لگائوں گا۔'
'میں ساتھ چلوں۔'
'نہیں۔ تو اپنے کام پہ جا۔ جب تک دوکان نہیں چلتی بندو کی دسویں جماعت کی کتاب کاپیوں
کا کچھ کر دے۔ آگے کی میں خود سنبھالوں گا۔'
ماں جانے لگی تو باپ پھر بولا۔
'سن۔ اکیلی انجیر دھاگے میں جھولتی اچھی نہیں لگتی۔ ایک دو اور پروئے گی کیا؟'
ماں نے جواب نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہونٹوں پر ایک شرمیلی مسکراہٹ۔
بندو نے یہ سب کچھ نہیں سنا تھا۔ وہ کمرے میں سمٹا سکڑا یہ سوچ رہا تھا کہ بڑے ہو کر ڈاکٹر بنے گا۔ ٹوٹی ہڈیاں جوڑنے والا ڈاکٹر۔ کہتے ہیں کہ اناپورنا دیوی ماں نے یہ سب منظر دیکھا اور اسی سمے سوکھی انجیر میں کیلسیم کی مقدار سب پھلوں سے زیادہ بڑھا دی۔ ہڈیوں کے لئے اچھی ہوتی ہے، اس لئے۔'
ہاں تو کیسی لگی تمہیں یہ کہانی؟ اب چلتی ہوں۔ مگر جانے سے پہلے ایک بات اور۔ وہ جو دنیا میں مانے ہوئے ہڈیاں جوڑنے کے سرجن ہیں، اپنے شہر کے ڈاکٹر برجیش لال، بھگوان کے لئے انہیں مت کہنا کہ ان کے بچپن کا سوکھی انجیر والا نام میں نے تمہیں بتایا ہے۔
ریاض اکبر
کینبرا ۔ آسٹریلیا
तुम जानते हो न कि सूखी अंजीर में कैल्शियम की मात्रा बहुत होती है। लेकिन पहले ऐसा नहीं था।
जानते हो यह बदलाव क्यों आया?
बंदू की वजह से।
अरे, समझे नहीं? मैं बताती हूँ।
' बंदू की माँ लोगों के घरों में सफ़ाई का काम करती थी और उसका पिता घर में खाँसता और गालियाँ देता रहता था। दस-बारह साल पहले हालात बेहतर थे। तब बंदू या तो पालने में रहता था या माँ की गोद में, और पिता बस अड्डे के पास अपनी फल की दुकान चलाता था। वह मेहनती आदमी था—मंडी से अच्छा फल लाता, गुणवत्ता के हिसाब से छाँटता और बेचता। शायद इसी कारण आते-जाते मुसाफ़िरों के अलावा पास-पड़ोस के लोग भी उसी दुकान से ख़रीदारी करते थे। फिर एक दिन सड़क किनारे किसी मुसाफ़िर के फेंके हुए फल के छिलके पर फिसल गया और चलती बस के पहिये के नीचे उसकी पिंडलियों की हड्डियाँ चकनाचूर हो गईं। अब घर में कुछ कदम चलने के सहारे के अलावा उसने बैसाखियों के और भी इस्तेमाल सीख लिए थे—पास की खूंटी से बनियान-तौलिया उतारना, थोड़ी दूर रखे रेडियो का बटन दबाना, और बंदू की पिटाई करना। माँ उस हादसे का कारण बस अड्डे के दूसरे दुकानदारों की बुरी नज़र और जादू-टोना बताती थी। वह कहती थी कि पहले वह शांत स्वभाव और खुशमिज़ाज आदमी था, लेकिन इस दुर्घटना ने उसे ग़ुस्सैल और चिड़चिड़ा बना दिया।
पिता द्वारा बंदू पर लगाए गए आरोपों में यह भी शामिल था कि उसने पैदा होने का समय ग़लत चुना। अगर वह कुछ पहले पैदा हो जाता तो दुकान में हाथ बँटा सकता था। अगर देर से पैदा होता तो अपाहिज पिता की मौत के इंतज़ार की अवधि कुछ कम हो जाती। माँ ने कई बार समझाया कि शादी से पहले बंदू कैसे पैदा हो सकता था, और यह भी कि मौत का इतना बेसब्री से इंतज़ार न करे—जब आएगी, आ ही जाएगी। मगर ये बेढंगे ख़याल उसके दिमाग़ में ऐसे जम गए थे जैसे ज़िद्दी किरायेदार जो घर छोड़ने को तैयार नहीं होते।
दुबला-पतला बंदू कद निकाल रहा था, लेकिन न जाने क्यों उसकी आदत बन गई थी कि कमर मोड़कर और सिर झुकाकर बैठा रहे। इसी वजह से पिता उसे “सूखी अंजीर” कहकर बुलाने लगा। उसकी देखा-देखी गली और स्कूल के बच्चों ने भी उसे इसी नाम से चिढ़ाना शुरू कर दिया।
ऐसे ही दिनों में एक सुबह आई, जब माँ रोज़ की तरह काम पर जाने की तैयारी कर रही थी। पिछले दिन नौवीं कक्षा के परीक्षा परिणाम आए थे। बंदू कमरे के एक कोने में सिमटा-सिकुड़ा उसी काग़ज़ को घूरता बैठा था। पिता ने उसे बुलाया।
“ऐसे टकटकी बाँधकर क्या देख रहा है?”
“नतीजा है, अब्बा। फ़ाइनल परीक्षा का।”
“फेल हो गया न? तभी तो कहता था कि मेरे साथ दुकान कर लेता। ला, दिखा परची। नालायक औलाद। सूखी अंजीर।”
बंदू ने पिता की ओर देखा। बैसाखी की कसती पकड़ इस बात का संकेत थी कि मार शुरू होने वाली है। वह उठा, परची पिता के हाथ में दी और सिर झुकाए सामने खड़ा हो गया। ज़्यादातर विषयों में वह नब्बे प्रतिशत से अधिक अंकों के साथ पास हुआ था।
पिता ने परची एक-दो बार देखी और चुपचाप वापस बंदू के हाथ में थमा दी। बैसाखियों के सहारे वह धीरे-धीरे घर के दरवाज़े तक पहुँचा और आठ साल बाद पहली बार देहरी लाँघकर गली में निकला। उसे देखकर माँ भी बाहर आ गई।
“कहाँ जा रहे हो?”
“मंडी। इस बार यहीं मोहल्ले में फल की दुकान लगाऊँगा।”
“मैं साथ चलूँ?”
“नहीं। तू अपने काम पर जा। जब तक दुकान नहीं चलती, बंदू की दसवीं की किताब-कापियों का इंतज़ाम कर दे। आगे का मैं देख लूँगा।”
माँ जाने लगी तो पिता फिर बोला—
“सुन। अकेली अंजीर धागे में झूलती अच्छी नहीं लगती। एक-दो और पिरोएगी क्या?”
माँ ने कुछ नहीं कहा। आँखों में आँसू थे और होंठों पर एक शर्मीली मुस्कान।
बंदू ने यह सब नहीं सुना। वह कमरे में सिमटा-सिकुड़ा सोच रहा था कि बड़ा होकर डॉक्टर बनेगा—टूटी हड्डियाँ जोड़ने वाला डॉक्टर। कहते हैं कि अन्नपूर्णा देवी माँ ने यह सब देखा और उसी क्षण सूखी अंजीर में कैल्शियम की मात्रा सभी फलों से ज़्यादा बढ़ा दी। आखिर हड्डियों के लिए अच्छी होती है न।'
तो बताओ, कहानी कैसी लगी?
अब चलती हूँ।
मगर जाने से पहले एक बात और—
शहर के सबसे मशहूर हड्डी जोड़ने वाले सर्जन, डॉक्टर बृजेश लाल, भगवान के लिए उनसे यह मत कहना कि उनके बचपन का “सूखी अंजीर” वाला नाम मैंने तुम्हें बताया है।
रियाज़ अकबर
कैनबरा - ऑस्ट्रेलिया
जानते हो यह बदलाव क्यों आया?
बंदू की वजह से।
अरे, समझे नहीं? मैं बताती हूँ।
' बंदू की माँ लोगों के घरों में सफ़ाई का काम करती थी और उसका पिता घर में खाँसता और गालियाँ देता रहता था। दस-बारह साल पहले हालात बेहतर थे। तब बंदू या तो पालने में रहता था या माँ की गोद में, और पिता बस अड्डे के पास अपनी फल की दुकान चलाता था। वह मेहनती आदमी था—मंडी से अच्छा फल लाता, गुणवत्ता के हिसाब से छाँटता और बेचता। शायद इसी कारण आते-जाते मुसाफ़िरों के अलावा पास-पड़ोस के लोग भी उसी दुकान से ख़रीदारी करते थे। फिर एक दिन सड़क किनारे किसी मुसाफ़िर के फेंके हुए फल के छिलके पर फिसल गया और चलती बस के पहिये के नीचे उसकी पिंडलियों की हड्डियाँ चकनाचूर हो गईं। अब घर में कुछ कदम चलने के सहारे के अलावा उसने बैसाखियों के और भी इस्तेमाल सीख लिए थे—पास की खूंटी से बनियान-तौलिया उतारना, थोड़ी दूर रखे रेडियो का बटन दबाना, और बंदू की पिटाई करना। माँ उस हादसे का कारण बस अड्डे के दूसरे दुकानदारों की बुरी नज़र और जादू-टोना बताती थी। वह कहती थी कि पहले वह शांत स्वभाव और खुशमिज़ाज आदमी था, लेकिन इस दुर्घटना ने उसे ग़ुस्सैल और चिड़चिड़ा बना दिया।
पिता द्वारा बंदू पर लगाए गए आरोपों में यह भी शामिल था कि उसने पैदा होने का समय ग़लत चुना। अगर वह कुछ पहले पैदा हो जाता तो दुकान में हाथ बँटा सकता था। अगर देर से पैदा होता तो अपाहिज पिता की मौत के इंतज़ार की अवधि कुछ कम हो जाती। माँ ने कई बार समझाया कि शादी से पहले बंदू कैसे पैदा हो सकता था, और यह भी कि मौत का इतना बेसब्री से इंतज़ार न करे—जब आएगी, आ ही जाएगी। मगर ये बेढंगे ख़याल उसके दिमाग़ में ऐसे जम गए थे जैसे ज़िद्दी किरायेदार जो घर छोड़ने को तैयार नहीं होते।
दुबला-पतला बंदू कद निकाल रहा था, लेकिन न जाने क्यों उसकी आदत बन गई थी कि कमर मोड़कर और सिर झुकाकर बैठा रहे। इसी वजह से पिता उसे “सूखी अंजीर” कहकर बुलाने लगा। उसकी देखा-देखी गली और स्कूल के बच्चों ने भी उसे इसी नाम से चिढ़ाना शुरू कर दिया।
ऐसे ही दिनों में एक सुबह आई, जब माँ रोज़ की तरह काम पर जाने की तैयारी कर रही थी। पिछले दिन नौवीं कक्षा के परीक्षा परिणाम आए थे। बंदू कमरे के एक कोने में सिमटा-सिकुड़ा उसी काग़ज़ को घूरता बैठा था। पिता ने उसे बुलाया।
“ऐसे टकटकी बाँधकर क्या देख रहा है?”
“नतीजा है, अब्बा। फ़ाइनल परीक्षा का।”
“फेल हो गया न? तभी तो कहता था कि मेरे साथ दुकान कर लेता। ला, दिखा परची। नालायक औलाद। सूखी अंजीर।”
बंदू ने पिता की ओर देखा। बैसाखी की कसती पकड़ इस बात का संकेत थी कि मार शुरू होने वाली है। वह उठा, परची पिता के हाथ में दी और सिर झुकाए सामने खड़ा हो गया। ज़्यादातर विषयों में वह नब्बे प्रतिशत से अधिक अंकों के साथ पास हुआ था।
पिता ने परची एक-दो बार देखी और चुपचाप वापस बंदू के हाथ में थमा दी। बैसाखियों के सहारे वह धीरे-धीरे घर के दरवाज़े तक पहुँचा और आठ साल बाद पहली बार देहरी लाँघकर गली में निकला। उसे देखकर माँ भी बाहर आ गई।
“कहाँ जा रहे हो?”
“मंडी। इस बार यहीं मोहल्ले में फल की दुकान लगाऊँगा।”
“मैं साथ चलूँ?”
“नहीं। तू अपने काम पर जा। जब तक दुकान नहीं चलती, बंदू की दसवीं की किताब-कापियों का इंतज़ाम कर दे। आगे का मैं देख लूँगा।”
माँ जाने लगी तो पिता फिर बोला—
“सुन। अकेली अंजीर धागे में झूलती अच्छी नहीं लगती। एक-दो और पिरोएगी क्या?”
माँ ने कुछ नहीं कहा। आँखों में आँसू थे और होंठों पर एक शर्मीली मुस्कान।
बंदू ने यह सब नहीं सुना। वह कमरे में सिमटा-सिकुड़ा सोच रहा था कि बड़ा होकर डॉक्टर बनेगा—टूटी हड्डियाँ जोड़ने वाला डॉक्टर। कहते हैं कि अन्नपूर्णा देवी माँ ने यह सब देखा और उसी क्षण सूखी अंजीर में कैल्शियम की मात्रा सभी फलों से ज़्यादा बढ़ा दी। आखिर हड्डियों के लिए अच्छी होती है न।'
तो बताओ, कहानी कैसी लगी?
अब चलती हूँ।
मगर जाने से पहले एक बात और—
शहर के सबसे मशहूर हड्डी जोड़ने वाले सर्जन, डॉक्टर बृजेश लाल, भगवान के लिए उनसे यह मत कहना कि उनके बचपन का “सूखी अंजीर” वाला नाम मैंने तुम्हें बताया है।
रियाज़ अकबर
कैनबरा - ऑस्ट्रेलिया
You know, don’t you, that dried figs contain a lot of calcium. But it wasn’t always so. Do you know why this change came about?
Because of Bandu.
No, you don’t get it? I’ll tell you.
'Bandu’s mother cleaned other people’s houses, while his father stayed at home coughing and hurling abuses. Ten or twelve years ago, things were better. Bandu then lived either in a cradle or in his mother’s lap, and his father ran a fruit stall near the bus stand. He was a hardworking man—bringing good fruit from the wholesale market, sorting it carefully, and selling only the best. Perhaps that was why not just passing travellers, but people from nearby neighbourhoods too, bought fruit from his stall.
Then one day he slipped on a fruit peel thrown by some traveller at the roadside, and before he could recover, a moving bus crushed the bones of his lower legs. Now, besides learning to walk a few steps with support, he had discovered other uses for his crutches: pulling down vests and towels hanging on nearby hooks, pressing the radio button on the table across the room—and beating Bandu.
The mother blamed the accident on the evil eye and black magic of rival shopkeepers near the bus stand. She said that he used to be a gentle, good-humoured man, but the accident had turned him angry and irritable.
Among the accusations the father laid upon Bandu was the charge that he had chosen the wrong time to be born. Had he been born a little earlier, he could have helped at the fruit stall. Had he been born later, the wait for his crippled father’s death would have been shorter. The mother explained to him many times that Bandu could not have been born before their marriage, and that he should not wait so impatiently for death—it would come when it came. But these senseless ideas lodged in his mind like stubborn tenants who refuse to vacate a house.
Thin and slight, Bandu was growing taller, yet for reasons unknown he had developed the habit of sitting with his back bent and head bowed. Because of this, his father began calling him “Dried Fig.” Following his lead, children in the lane and at school took to teasing Bandu by the same name.
One morning, like so many others, his mother was getting ready to leave for work. The previous day, the results of the ninth-grade examinations had been announced. Bandu sat silently in a corner of the room, hunched over, staring at the slip of paper.
His father called out to him.
“What are you staring at like that, you rascal?”
“It’s the result, Abba. The final exam.”
“You’ve failed, haven’t you? That’s why I kept saying you should’ve worked at the fruit stall with me. Show me the paper. Worthless child. Dried fig.”
Bandu glanced at his father. The tightening grip on the crutch was a sign that a beating was about to begin. He stood up, handed over the result slip, and stood before him with his head lowered. He had passed with more than ninety percent in most subjects.
The father read the paper once, then again, and silently returned it to Bandu. Leaning on his crutches, he walked slowly to the front door and—for the first time in eight years—stepped over the threshold and out into the lane. Seeing him, the mother came outside.
“Where are you going?”
“To the market. This time I’ll set up a fruit stall right here in the neighbourhood.”
“I’ll come with you.”
“No. You go to work. Until the shop starts running, take care of Bandu’s tenth-grade books and notebooks. I’ll handle the rest.”
As the mother turned to leave, the father called out again.
“Listen. A single fig hanging on a thread doesn’t look good. Will you string a couple more with it?”
She did not reply. Tears filled her eyes, and a shy smile appeared on her lips.
Bandu did not hear any of this. Curled up in the room, he was thinking that one day he would become a doctor—a doctor who sets broken bones.
They say that Mother Annapurna saw all this, and at that very moment increased the calcium content of dried figs beyond that of all other fruits. They’re good for bones, after all.'
So—how did you like the story?
I’m leaving now. But before I go, one last thing. The bone surgeon everyone knows in this city—Dr. Brijesh Lal—for God’s sake, don’t ever tell him that I told you about his childhood nickname: Dried Fig.
Riaz Akber
Canberra - Australia
Because of Bandu.
No, you don’t get it? I’ll tell you.
'Bandu’s mother cleaned other people’s houses, while his father stayed at home coughing and hurling abuses. Ten or twelve years ago, things were better. Bandu then lived either in a cradle or in his mother’s lap, and his father ran a fruit stall near the bus stand. He was a hardworking man—bringing good fruit from the wholesale market, sorting it carefully, and selling only the best. Perhaps that was why not just passing travellers, but people from nearby neighbourhoods too, bought fruit from his stall.
Then one day he slipped on a fruit peel thrown by some traveller at the roadside, and before he could recover, a moving bus crushed the bones of his lower legs. Now, besides learning to walk a few steps with support, he had discovered other uses for his crutches: pulling down vests and towels hanging on nearby hooks, pressing the radio button on the table across the room—and beating Bandu.
The mother blamed the accident on the evil eye and black magic of rival shopkeepers near the bus stand. She said that he used to be a gentle, good-humoured man, but the accident had turned him angry and irritable.
Among the accusations the father laid upon Bandu was the charge that he had chosen the wrong time to be born. Had he been born a little earlier, he could have helped at the fruit stall. Had he been born later, the wait for his crippled father’s death would have been shorter. The mother explained to him many times that Bandu could not have been born before their marriage, and that he should not wait so impatiently for death—it would come when it came. But these senseless ideas lodged in his mind like stubborn tenants who refuse to vacate a house.
Thin and slight, Bandu was growing taller, yet for reasons unknown he had developed the habit of sitting with his back bent and head bowed. Because of this, his father began calling him “Dried Fig.” Following his lead, children in the lane and at school took to teasing Bandu by the same name.
One morning, like so many others, his mother was getting ready to leave for work. The previous day, the results of the ninth-grade examinations had been announced. Bandu sat silently in a corner of the room, hunched over, staring at the slip of paper.
His father called out to him.
“What are you staring at like that, you rascal?”
“It’s the result, Abba. The final exam.”
“You’ve failed, haven’t you? That’s why I kept saying you should’ve worked at the fruit stall with me. Show me the paper. Worthless child. Dried fig.”
Bandu glanced at his father. The tightening grip on the crutch was a sign that a beating was about to begin. He stood up, handed over the result slip, and stood before him with his head lowered. He had passed with more than ninety percent in most subjects.
The father read the paper once, then again, and silently returned it to Bandu. Leaning on his crutches, he walked slowly to the front door and—for the first time in eight years—stepped over the threshold and out into the lane. Seeing him, the mother came outside.
“Where are you going?”
“To the market. This time I’ll set up a fruit stall right here in the neighbourhood.”
“I’ll come with you.”
“No. You go to work. Until the shop starts running, take care of Bandu’s tenth-grade books and notebooks. I’ll handle the rest.”
As the mother turned to leave, the father called out again.
“Listen. A single fig hanging on a thread doesn’t look good. Will you string a couple more with it?”
She did not reply. Tears filled her eyes, and a shy smile appeared on her lips.
Bandu did not hear any of this. Curled up in the room, he was thinking that one day he would become a doctor—a doctor who sets broken bones.
They say that Mother Annapurna saw all this, and at that very moment increased the calcium content of dried figs beyond that of all other fruits. They’re good for bones, after all.'
So—how did you like the story?
I’m leaving now. But before I go, one last thing. The bone surgeon everyone knows in this city—Dr. Brijesh Lal—for God’s sake, don’t ever tell him that I told you about his childhood nickname: Dried Fig.
Riaz Akber
Canberra - Australia