Sparrows and Vacuum Cleaners
چڑیاں اور ویکیوم کلینر
चिड़ियाँ और वैक्यूम क्लीनर
Riaz Akber
11 Feb 2026
گھر کی منڈیر پر چہچہاتی چڑیاں بہت بچپن سے میری صبح کا الارم رہی ہیں۔ مگر چند سال ہو گئے ہیں جب سے شہر میں چڑیوں کی آبادی اس حد تک گری ہے کہ میری روزانہ معمولات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ دوسری طرف میرا وکالت کا پیشہ اچھی تیاری اور حاضر دماغی کا طلبگار ہے۔ کچہریوں میں ساکھ بگڑتے دیر نہیں لگتی - نتیجہ کم شہرت، کم آمدنی۔ اس تناظر میں اگر آپ چاہیں تو اسے میری خود غرضی کہہ لیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ خود میں نے ہی شہر کی چڑیوں کو عدالت میں انسانوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر اکسایا تھا۔
مقدمے کی بنیاد اس بات پر تھی کہ انسان اپنے رہن سہن کے طور طریقے بدلنے کے فیصلے شہر میں بسنے والی دیگر مخلوقات سے مشورہ کے بغیر اور اکثر ان کے مفاد کے خلاف یک طرفہ طور پر کر رہے ہیں۔ زیرِ بحث معاملہ گھروں اور سڑکوں کی صفائی کے لئے تنکوں سے بنے ہوئے جھاڑو ترک کر کے مشینی ویکیوم کلینر کے استعمال کا تھا۔ پورے شہر میں جھاڑوئوں سے ٹوٹ کر ادھر ادھر گرے ہوئے تنکے ہی چڑیوں کے گھروں کا تعمیراتی سامان تھا۔ کچھ عرصہ تک پرانے تنکوں کے دوبارہ استعمال سے کام نکالا گیا لیکن بالآخر وہ بھرھرے پو کر ناکارہ ہوگئے۔ نئے تنکوں کے ناپید ہونے کی وجہ سے گھونسلوں، انڈوں، اور پھر چڑیوں کی نئی نسلوں کی افزائش میں کمی آئی اور اب وہ شاذ کے طور پر ہی دکھائی دیتی ہیں۔
جہاں تک میری سوچ تھی، یہ کیس مضبوط تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ وکالت میں دشمن کی بات سے بھی کام چلے تو لو۔ سو اسی خیال سے میں نے عدالت کی اجازت سے بلیوں کی گواہی بھی کاروائی میں شامل کروا لی تھی۔ معاملہ صاف اور سیدھا سادا تھا۔ بلیوں کی خوراک کا بہت سا انحصار چڑیوں کے شکار پر تھا۔ اب چڑیاں ہی نہ ہوں تو بلیوں کے پیٹ پیٹھ کی ہڈیوں سے جا لگنے کے امکان کو کون رد سکتا ہے ۔
کیس کی اہمیت کے پیشِ نظر تین جج صاحبان کا ایک بنچ سماعت پر تعینات تھا۔ پھر چڑیاں بنام انسان کے کورٹ کیس کا شہر کے اخباروں میں بہت چرچا ہوا۔ میڈیا کی اس دلچسپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی سماعت کے روز عدالت کا کمرہ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اپیل کنندہ کے سینیر قانونی نمائندہ کی حیثیت سے مجھے کیس کا تعارف اچھے الفاظ میں پیش کرنے کا موقعہ ملا۔ مختصراً درخواست یہ تھی کہ چڑہوں کے گھونسلوں کی خاطر تنکوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے شہر میں ویکیوم کلینر کی جگہ جھاڑو کے استعمال کو از سرِ نو جاری کیا جائے۔ مدعا علیہ شہریان کی جانب کے وکلا نے اپنے گواہان کی فہرست پیش کرنے کے علاوہ چند اور مطالبات بھی عدالت کے سامنے رکھے جن میں سے ایک مضحکہ خیز مطالبہ یہ بھی تھا کہ اپنے کیس پر اعتماد کے اظہار کے طور پر اپیل کنندہ چڑیوں کی نمائیندہ ہماری ٹیم کے چاروں وکلا اپنے گھریلو استعمال کے تمام ویکیوم کلینر مقدمے کا فیصلہ ہونے کی مدت تک عدالت میں جمع کروائیں۔ عدالت کے استفسار پر ہم نے اس مطالبے کو تسلیم کیا۔ اور مقدمہ چند ہفتے بعد آئیندہ سماعت کے لئے ملتوی ہو گیا۔
مجھے یاد ہے کہ اس ابتدائی کاروائی کے بعد شام کو اپنی وکالت کی شہرت کے فاخرانہ انداز کو سمیٹے گھر میں داخل ہوا تھا۔ مگر یہ رنگ دیر تک رہا نہیں۔ میرے اپنے گھر والوں میں سے کوئی بھی گرد کشی کے لئے ویکیوم کلینر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوا۔ بہتیری منت سماجت کی کہ عدالتی حکم ہے، اگر تعمیل نہ ہوئی تو اپنا کیس خود ہی کمزور کرنے والی بات ہے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اپنی ٹیم کے دوسرے وکلا سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سب کے ہاں کم و بیش یہی حالات ہیں۔ سو طے یہ پایا کہ گھروں کا مال گھروں ہی میں رہنے دیا جائے اور مّیں آئیندہ ہفتے کسی وقت کباڑئیے کی دوکان سے قابلِ مرمت ویکیوم کلینر سستے داموں خرید کر عدالت کے دفتر میں جمع کروا دوں۔ ان چار قدرے گرد آلود خستہ حال آلات کی وصولی کے وقت عدالتی اہلکار کیا واقعی زیرِ لب مسکرائے یا شاید میرے دل کے چور نے یہ محسوس کیا، کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اصل ستم تو اس آتے جاتے صحافی کا ہے جس نے کباڑی کی دوکان سے صرف ایک ہی نہیں بلکہ چار ویکیوم کلینر خریدتے اور اپنی کار میں رکھواتے کی میری تصویریں لیں چھپ کر لیں اور اگلے روز اخبار میں چھاپ دیں۔ بہت سبکی ہوئی اور بعد میں ہفتوں سوچتا رہا کہ اسے دوش دوں یا خود کو۔ اتنے مشہور کورٹ کیس کے پبلک میں عام ہو جانے کے بعد میں یہ کیوں بھول گیا تھا کہ شہر کا میڈیا میری نقل و حرکت پر بھی دلچسپی سے نظر رکھ رہا ہوگا۔ تاہم شکر ہے کہ عدالت نے بردباری سے کام لے کر اس سارے واقعے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
اگلی عدالتی تاریخ پر استغاثہ کی جانب سے نمائندہ بلیوں کو بطور گواہ حاضر ہونا تھا۔ دبلی بلیاں بھیجنے کی میری تاکید کے باوجود وہ پانچ جو عدالت میں بطور گواہ آئیں سبھی فربہ اور تنومند تھیں۔ عدالت نے حسبِ دستور ان سے سچ اور صرف سچ کہنے کا حلف لیا۔ اس کے بعد سوال و جواب اور جراح کے دوران بلیوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں شہر کی چڑیاں برسوں تک ان کا روائیتی شکار رہیں اور یہ بھی کہ چڑیوں کی آبادی میں کمی کے باعث ان پر خوراک کی قلت کے دن ضرور آئے تھے۔ مگر اس صورتِ حال کے نتیجے میں انہیں نئے وسائل کی تلاش کی تحریک بھی ہوئی۔ اور اب انسانوں کی رد کی ہوئی خوراک کے ڈھیر ان کے کھانے کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس شہر کے انسان مرغن غذائوں کی طرف مائل ہیں جس کے نتیجے میں بھوک کی بجائے اب خوش خوراکی کی فربہی ان کا مسئلہ بن گئی ہے۔ بلیوں کا یہ انکشاف عدالت میں موجود افراد کے لئے حیران کن تھا اور ہماری ٹیم کے لئے پریشان کن بھی۔ ہمارا وار ناکام گیا۔
عدالت کی بقیہ کاروائی سے ہمیں زیادہ کامیابی کی توقع نہیں تھی۔ مثلاً شہر کے بلدیاتی اداروں اور مرکزی حکومت کے نمائندوں نے بھی چڑیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کی جانب سے صفائی ستھرائی کے مختلف آلات کے انتخاب پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اور اس سلسلے میں متبادل ڈرائع کو مارکیٹ میں مہیا رکھنا ان کے فراضِ منصبی میں تھا۔ سو جو چاہے جھاڑو استعمال کرے اور جو چاہے ویکیوم کلینر۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب اگر ویکیوم کلینر کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی تو انکے موجودہ تاجروں کو ادا کئے جانے والے تاوان کی وجہ سے بجٹ کی دوسری مدات جیسے ہسپتالوں، سکولوں، اور سڑکوں کی دیکھ بھال اور آئیندہ تعمیر کم از کم دس سال تک شدید متآثر ہوگی۔
انتہائی غیر متوقع طور پر ہمارے کیس پر سب سے کاری ضرب خود جھاڑو بنانے والی کمپنیوں کے نمائیندے نے لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جھاڑو انڈسٹری کی بحالی کی کوششوں کا خیر مقدم کریں گے مگر بڑھتی ہوئی شہری آبادیاں، جوار اور باجرے کی کم ہوتی ہوئی زرعی فصلوں کی ڈنڈیاں، اور جنگلوں میں خودرو برائون گھاس کی کمی اس کام کو ناکافی کر دیں گی۔ ہاں جھاڑو انڈسٹری پلاسٹک کے تیلوں کے استعمال پر رضامند ہو سکتی ہے بشرطیکہ ابتدائی ریسرچ کے لئے حکومتی گرانٹ مہیا کی جائے اور بعد استعمال پلاسٹک کی آلودگی کو سنبھالنے کی ذمہ داری جھاڑو انڈسٹری پر لاگو نہ ہو۔ حکومتی اداروں کی گرانٹ تو درکنار، خود چڑیاں بھی اپنے نوزائیدہ بچوں کی بڑھوتی کے لئے پرانے ٹوٹے ہوئے پلاسٹک کے تنکوں کے گھونسلوں پر رضامند نہ ہوئیں۔ انہیں اپنی آئیندہ نسلوں پر مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کے اثر کا اندیشہ تھا۔
ہم مقدمہ ہار گئے۔ ہماری طرح کے انسان، عدالت کے جج صاحبان، اس شہر میں چڑیوں کو
آئیندہ نسلوں کی آبادی کی کوئی ضمانت فراہم نہ کر سکے۔ فیصلہ میں یہ ضرور لکھا گیا کہ انہیں قریبی جنگلات میں گھونسلے بنانے کی کھلی اجازت ہے۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ انسانی ضروریات کے لئے جنگل کے درختوں کی کٹائی پر گھونسلوں سے نقل مکانی کے انتظامات چڑیوں کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔ اپنی اڑان کے حفاظتی اقدامات خود کرنے کے بعد وہ بخوشی شہر میں آ جا بھی سکتی ہیں۔ کوئی شہری کس چڑیا کے بس، ٹرک، یا کار سے ٹکرا کر زخمی ہونے یا مرنے پر جوابدہ نہیں ہوگا۔
میں نے وکالت چھوڑ کر ویکیوم کلینر بیچنے کی دوکان کھول لی ہے۔ میرا وہ ذاتی مسئلہ جو چڑیوں کی طرف سے یہ کیس بنانے کا سبب بنا تھا، اسے بھی میرے بچوں نے حل کر دیا ہے۔ اب میرے کمرے میں کھڑکی کے پاس پلاسٹک کے پھولوں سے سجا ایک گلدان رکھا ہے۔ سورج کی پہلی کرنوں کے پڑنے کے ساتھ ہی اس کے اندر سے کئی چڑیوں کے چہکنے کی ریکارڈ شدہ آوازیں آتی ہیں۔ ہاں کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ شاید کہیں کوئی ایسی عدالت بھی ہوگی جہاں ایک روز مجھے، میرے مخالف وکیلوں، اور جج صاحبان کو اکھٹا ایک کٹہرے میں پیش ہونا پڑے گا۔
ریاض اکبر
کینبرا۔ آسٹریلیا
مقدمے کی بنیاد اس بات پر تھی کہ انسان اپنے رہن سہن کے طور طریقے بدلنے کے فیصلے شہر میں بسنے والی دیگر مخلوقات سے مشورہ کے بغیر اور اکثر ان کے مفاد کے خلاف یک طرفہ طور پر کر رہے ہیں۔ زیرِ بحث معاملہ گھروں اور سڑکوں کی صفائی کے لئے تنکوں سے بنے ہوئے جھاڑو ترک کر کے مشینی ویکیوم کلینر کے استعمال کا تھا۔ پورے شہر میں جھاڑوئوں سے ٹوٹ کر ادھر ادھر گرے ہوئے تنکے ہی چڑیوں کے گھروں کا تعمیراتی سامان تھا۔ کچھ عرصہ تک پرانے تنکوں کے دوبارہ استعمال سے کام نکالا گیا لیکن بالآخر وہ بھرھرے پو کر ناکارہ ہوگئے۔ نئے تنکوں کے ناپید ہونے کی وجہ سے گھونسلوں، انڈوں، اور پھر چڑیوں کی نئی نسلوں کی افزائش میں کمی آئی اور اب وہ شاذ کے طور پر ہی دکھائی دیتی ہیں۔
جہاں تک میری سوچ تھی، یہ کیس مضبوط تھا۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ وکالت میں دشمن کی بات سے بھی کام چلے تو لو۔ سو اسی خیال سے میں نے عدالت کی اجازت سے بلیوں کی گواہی بھی کاروائی میں شامل کروا لی تھی۔ معاملہ صاف اور سیدھا سادا تھا۔ بلیوں کی خوراک کا بہت سا انحصار چڑیوں کے شکار پر تھا۔ اب چڑیاں ہی نہ ہوں تو بلیوں کے پیٹ پیٹھ کی ہڈیوں سے جا لگنے کے امکان کو کون رد سکتا ہے ۔
کیس کی اہمیت کے پیشِ نظر تین جج صاحبان کا ایک بنچ سماعت پر تعینات تھا۔ پھر چڑیاں بنام انسان کے کورٹ کیس کا شہر کے اخباروں میں بہت چرچا ہوا۔ میڈیا کی اس دلچسپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی سماعت کے روز عدالت کا کمرہ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اپیل کنندہ کے سینیر قانونی نمائندہ کی حیثیت سے مجھے کیس کا تعارف اچھے الفاظ میں پیش کرنے کا موقعہ ملا۔ مختصراً درخواست یہ تھی کہ چڑہوں کے گھونسلوں کی خاطر تنکوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے شہر میں ویکیوم کلینر کی جگہ جھاڑو کے استعمال کو از سرِ نو جاری کیا جائے۔ مدعا علیہ شہریان کی جانب کے وکلا نے اپنے گواہان کی فہرست پیش کرنے کے علاوہ چند اور مطالبات بھی عدالت کے سامنے رکھے جن میں سے ایک مضحکہ خیز مطالبہ یہ بھی تھا کہ اپنے کیس پر اعتماد کے اظہار کے طور پر اپیل کنندہ چڑیوں کی نمائیندہ ہماری ٹیم کے چاروں وکلا اپنے گھریلو استعمال کے تمام ویکیوم کلینر مقدمے کا فیصلہ ہونے کی مدت تک عدالت میں جمع کروائیں۔ عدالت کے استفسار پر ہم نے اس مطالبے کو تسلیم کیا۔ اور مقدمہ چند ہفتے بعد آئیندہ سماعت کے لئے ملتوی ہو گیا۔
مجھے یاد ہے کہ اس ابتدائی کاروائی کے بعد شام کو اپنی وکالت کی شہرت کے فاخرانہ انداز کو سمیٹے گھر میں داخل ہوا تھا۔ مگر یہ رنگ دیر تک رہا نہیں۔ میرے اپنے گھر والوں میں سے کوئی بھی گرد کشی کے لئے ویکیوم کلینر سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوا۔ بہتیری منت سماجت کی کہ عدالتی حکم ہے، اگر تعمیل نہ ہوئی تو اپنا کیس خود ہی کمزور کرنے والی بات ہے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اپنی ٹیم کے دوسرے وکلا سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سب کے ہاں کم و بیش یہی حالات ہیں۔ سو طے یہ پایا کہ گھروں کا مال گھروں ہی میں رہنے دیا جائے اور مّیں آئیندہ ہفتے کسی وقت کباڑئیے کی دوکان سے قابلِ مرمت ویکیوم کلینر سستے داموں خرید کر عدالت کے دفتر میں جمع کروا دوں۔ ان چار قدرے گرد آلود خستہ حال آلات کی وصولی کے وقت عدالتی اہلکار کیا واقعی زیرِ لب مسکرائے یا شاید میرے دل کے چور نے یہ محسوس کیا، کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اصل ستم تو اس آتے جاتے صحافی کا ہے جس نے کباڑی کی دوکان سے صرف ایک ہی نہیں بلکہ چار ویکیوم کلینر خریدتے اور اپنی کار میں رکھواتے کی میری تصویریں لیں چھپ کر لیں اور اگلے روز اخبار میں چھاپ دیں۔ بہت سبکی ہوئی اور بعد میں ہفتوں سوچتا رہا کہ اسے دوش دوں یا خود کو۔ اتنے مشہور کورٹ کیس کے پبلک میں عام ہو جانے کے بعد میں یہ کیوں بھول گیا تھا کہ شہر کا میڈیا میری نقل و حرکت پر بھی دلچسپی سے نظر رکھ رہا ہوگا۔ تاہم شکر ہے کہ عدالت نے بردباری سے کام لے کر اس سارے واقعے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
اگلی عدالتی تاریخ پر استغاثہ کی جانب سے نمائندہ بلیوں کو بطور گواہ حاضر ہونا تھا۔ دبلی بلیاں بھیجنے کی میری تاکید کے باوجود وہ پانچ جو عدالت میں بطور گواہ آئیں سبھی فربہ اور تنومند تھیں۔ عدالت نے حسبِ دستور ان سے سچ اور صرف سچ کہنے کا حلف لیا۔ اس کے بعد سوال و جواب اور جراح کے دوران بلیوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں شہر کی چڑیاں برسوں تک ان کا روائیتی شکار رہیں اور یہ بھی کہ چڑیوں کی آبادی میں کمی کے باعث ان پر خوراک کی قلت کے دن ضرور آئے تھے۔ مگر اس صورتِ حال کے نتیجے میں انہیں نئے وسائل کی تلاش کی تحریک بھی ہوئی۔ اور اب انسانوں کی رد کی ہوئی خوراک کے ڈھیر ان کے کھانے کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس شہر کے انسان مرغن غذائوں کی طرف مائل ہیں جس کے نتیجے میں بھوک کی بجائے اب خوش خوراکی کی فربہی ان کا مسئلہ بن گئی ہے۔ بلیوں کا یہ انکشاف عدالت میں موجود افراد کے لئے حیران کن تھا اور ہماری ٹیم کے لئے پریشان کن بھی۔ ہمارا وار ناکام گیا۔
عدالت کی بقیہ کاروائی سے ہمیں زیادہ کامیابی کی توقع نہیں تھی۔ مثلاً شہر کے بلدیاتی اداروں اور مرکزی حکومت کے نمائندوں نے بھی چڑیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کی جانب سے صفائی ستھرائی کے مختلف آلات کے انتخاب پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اور اس سلسلے میں متبادل ڈرائع کو مارکیٹ میں مہیا رکھنا ان کے فراضِ منصبی میں تھا۔ سو جو چاہے جھاڑو استعمال کرے اور جو چاہے ویکیوم کلینر۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب اگر ویکیوم کلینر کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی تو انکے موجودہ تاجروں کو ادا کئے جانے والے تاوان کی وجہ سے بجٹ کی دوسری مدات جیسے ہسپتالوں، سکولوں، اور سڑکوں کی دیکھ بھال اور آئیندہ تعمیر کم از کم دس سال تک شدید متآثر ہوگی۔
انتہائی غیر متوقع طور پر ہمارے کیس پر سب سے کاری ضرب خود جھاڑو بنانے والی کمپنیوں کے نمائیندے نے لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جھاڑو انڈسٹری کی بحالی کی کوششوں کا خیر مقدم کریں گے مگر بڑھتی ہوئی شہری آبادیاں، جوار اور باجرے کی کم ہوتی ہوئی زرعی فصلوں کی ڈنڈیاں، اور جنگلوں میں خودرو برائون گھاس کی کمی اس کام کو ناکافی کر دیں گی۔ ہاں جھاڑو انڈسٹری پلاسٹک کے تیلوں کے استعمال پر رضامند ہو سکتی ہے بشرطیکہ ابتدائی ریسرچ کے لئے حکومتی گرانٹ مہیا کی جائے اور بعد استعمال پلاسٹک کی آلودگی کو سنبھالنے کی ذمہ داری جھاڑو انڈسٹری پر لاگو نہ ہو۔ حکومتی اداروں کی گرانٹ تو درکنار، خود چڑیاں بھی اپنے نوزائیدہ بچوں کی بڑھوتی کے لئے پرانے ٹوٹے ہوئے پلاسٹک کے تنکوں کے گھونسلوں پر رضامند نہ ہوئیں۔ انہیں اپنی آئیندہ نسلوں پر مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کے اثر کا اندیشہ تھا۔
ہم مقدمہ ہار گئے۔ ہماری طرح کے انسان، عدالت کے جج صاحبان، اس شہر میں چڑیوں کو
آئیندہ نسلوں کی آبادی کی کوئی ضمانت فراہم نہ کر سکے۔ فیصلہ میں یہ ضرور لکھا گیا کہ انہیں قریبی جنگلات میں گھونسلے بنانے کی کھلی اجازت ہے۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ انسانی ضروریات کے لئے جنگل کے درختوں کی کٹائی پر گھونسلوں سے نقل مکانی کے انتظامات چڑیوں کی اپنی ذمہ داری ہوگی۔ اپنی اڑان کے حفاظتی اقدامات خود کرنے کے بعد وہ بخوشی شہر میں آ جا بھی سکتی ہیں۔ کوئی شہری کس چڑیا کے بس، ٹرک، یا کار سے ٹکرا کر زخمی ہونے یا مرنے پر جوابدہ نہیں ہوگا۔
میں نے وکالت چھوڑ کر ویکیوم کلینر بیچنے کی دوکان کھول لی ہے۔ میرا وہ ذاتی مسئلہ جو چڑیوں کی طرف سے یہ کیس بنانے کا سبب بنا تھا، اسے بھی میرے بچوں نے حل کر دیا ہے۔ اب میرے کمرے میں کھڑکی کے پاس پلاسٹک کے پھولوں سے سجا ایک گلدان رکھا ہے۔ سورج کی پہلی کرنوں کے پڑنے کے ساتھ ہی اس کے اندر سے کئی چڑیوں کے چہکنے کی ریکارڈ شدہ آوازیں آتی ہیں۔ ہاں کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ شاید کہیں کوئی ایسی عدالت بھی ہوگی جہاں ایک روز مجھے، میرے مخالف وکیلوں، اور جج صاحبان کو اکھٹا ایک کٹہرے میں پیش ہونا پڑے گا۔
ریاض اکبر
کینبرا۔ آسٹریلیا
घर की मुंडेर पर चहचहाती चिड़ियाँ बचपन से मेरी सुबह की घंटी रही हैं। लेकिन कुछ सालों से शहर में चिड़ियों की संख्या इतनी घट गई है कि मेरी रोज़ की लय ही बिगड़ गई। और उधर मेरा पेशा—वकालत—तैयारी और तेज दिमाग़ चाहता है। कचहरी में नाम खराब होते देर नहीं लगती—नतीजा: कम पहचान, कम कमाई। आप चाहें तो इसे मेरी खुदगर्ज़ी कह लें, पर सच यह है कि शहर की चिड़ियों को इंसानों के खिलाफ अदालत में मुक़दमा करने के लिए मैंने ही उकसाया था।
मुक़दमे की बात सीधी थी: इंसान अपने जीने के तरीके बदलते जाते हैं, और शहर में साथ रहने वाली दूसरी जिंदगियों से न पूछते हैं, न उनके नुकसान का हिसाब रखते हैं। इस बार मामला था—झाड़ू छोड़कर वैक्यूम क्लीनर अपनाने का। झाड़ू से टूटकर बिखरे तिनके ही चिड़ियों के घोंसलों का सामान होते थे। कुछ दिन पुराने तिनकों से काम चला, फिर वे भुरभुरे होकर बेकार हो गए। नए तिनके नहीं मिले तो घोंसले कम हुए, अंडे कम हुए, और नई पीढ़ी भी। अब चिड़ियाँ कभी-कभार ही दिखती हैं।
मेरे हिसाब से केस मजबूत था। और आप जानते हैं, वकालत में दुश्मन की दलील भी काम की हो तो उठा लेते हैं। इसी सोच से मैंने अदालत से इजाज़त लेकर बिल्लियों को भी गवाह बना लिया। बात साफ थी—बिल्लियों का खाना काफी हद तक चिड़ियों पर टिका था। चिड़ियाँ ही न रहें तो बिल्लियों की हालत क्या होगी, अंदाज़ा लगाना मुश्किल नहीं।
मामले की अहमियत देखते हुए तीन जजों की बेंच बनी। ‘चिड़ियाँ बनाम इंसान’ की खबर अख़बारों में छपी तो शहर में हलचल मच गई। पहली सुनवाई के दिन अदालत खचाखच भरी थी। हमारी तरफ से मैंने यह मांग रखी कि चिड़ियों के लिए तिनकों का इंतज़ाम फिर से हो—और इसके लिए वैक्यूम की जगह झाड़ू का इस्तेमाल वापस लाया जाए। बचाव पक्ष ने एक अजीब शर्त रखी—अगर हमें अपने केस पर इतना भरोसा है तो हम सब अपने घरों के वैक्यूम क्लीनर फैसला आने तक अदालत में जमा कर दें। अदालत ने पूछा, हमने मान लिया। अगली तारीख पड़ गई।
शाम को मैं अपनी पेशेवर शान समेटे घर लौटा—पर शान ज्यादा देर टिक न सकी। घर में कोई भी वैक्यूम छोड़ने को तैयार नहीं था। बहुत समझाया कि अदालत का मामला है, पर कोई नहीं माना। बाकी वकीलों के घरों में भी यही हाल था। आख़िर तय हुआ कि घर के वैक्यूम घर में ही रहें, और मैं कबाड़ी की दुकान से चार पुराने मशीन खरीदकर अदालत में जमा कर दूँ। जब वे चार धूल भरे वैक्यूम जमा कर रहा था तो अदालत का बाबू सच में मुस्कुराया या मुझे ही लगा—कह नहीं सकता। असली मुसीबत उस पत्रकार ने खड़ी की जिसने मुझे कबाड़ी की दुकान से चार वैक्यूम खरीदते हुए कैमरे में पकड़ लिया। अगले दिन अख़बार में तस्वीर छपी। बड़ी बेइज़्ज़ती हुई। कई दिनों तक सोचता रहा—गलती उसकी थी या मेरी?
अगली सुनवाई पर बिल्लियाँ गवाही देने आईं। मैंने कहा था—दुबली बिल्लियाँ भेजना। पर जो आईं, सब मोटी-ताज़ी। उन्होंने माना कि पहले चिड़ियाँ उनका शिकार थीं, और चिड़ियाँ कम हुईं तो कुछ समय खाने की दिक्कत भी आई। मगर फिर उन्होंने नया रास्ता निकाल लिया—अब इंसानों के फेंके हुए खाने पर उनका गुज़ारा है। दिक्कत भूख की नहीं, ज़्यादा खाने की है। अदालत में लोग चौंके; हमारी टीम परेशान। हमारी चाल उलटी पड़ गई।
सरकारी अफसरों ने हमदर्दी जताई, पर पाबंदी लगाने से साफ इनकार कर दिया। बोले—जिसे झाड़ू रखना है रखे, जिसे वैक्यूम रखना है रखे। अगर वैक्यूम पर रोक लगी तो व्यापारियों को मुआवज़ा देना पड़ेगा, और उसका असर अस्पतालों, स्कूलों और सड़कों के बजट पर पड़ेगा।
फिर सबसे बड़ा झटका वहीं से आया जहाँ से उम्मीद थी। झाड़ू बनाने वाली कंपनियों ने कहा—झाड़ू बनाना अच्छा है, पर ज्वार-बाजरे के डंठल और जंगल की घास बढ़ती आबादी के सामने कम पड़ेंगे। चाहें तो प्लास्टिक से झाड़ू बना सकते हैं—बस सरकार शोध का खर्च उठाए और प्लास्टिक के कचरे की जिम्मेदारी हम पर न डाले। चिड़ियों ने भी प्लास्टिक के तिनकों से घोंसले बनाने से इनकार कर दिया—उन्हें अपने बच्चों पर माइक्रोप्लास्टिक का डर था।
हम मुक़दमा हार गए।
फैसले में लिखा गया कि चिड़ियाँ पास के जंगलों में घोंसले बना सकती हैं—पर पेड़ कटें तो हटने की जिम्मेदारी उनकी होगी। सड़क पर किसी गाड़ी से टकराकर अगर कोई चिड़िया मरे, तो कोई इंसान जिम्मेदार नहीं होगा।
मैंने वकालत छोड़ दी और वैक्यूम क्लीनर की दुकान खोल ली। मेरा निजी मसला, जिसने यह मुक़दमा शुरू करवाया था, बच्चों ने हल कर दिया। अब मेरे कमरे की खिड़की के पास प्लास्टिक के फूलों वाला एक गुलदस्ता रखा है। सुबह की पहली धूप पड़ते ही उसके भीतर से चिड़ियों की रिकॉर्ड की हुई चहचहाहट सुनाई देती है।
और कभी-कभी मैं सोचता हूँ—क्या कहीं कोई ऐसी अदालत भी होगी जहाँ एक दिन हम सब—मैं, मेरे विरोधी वकील, और जज—एक ही कटघरे में खड़े हों?
रियाज़ अकबर
कैनबरा, ऑस्ट्रेलिया
मुक़दमे की बात सीधी थी: इंसान अपने जीने के तरीके बदलते जाते हैं, और शहर में साथ रहने वाली दूसरी जिंदगियों से न पूछते हैं, न उनके नुकसान का हिसाब रखते हैं। इस बार मामला था—झाड़ू छोड़कर वैक्यूम क्लीनर अपनाने का। झाड़ू से टूटकर बिखरे तिनके ही चिड़ियों के घोंसलों का सामान होते थे। कुछ दिन पुराने तिनकों से काम चला, फिर वे भुरभुरे होकर बेकार हो गए। नए तिनके नहीं मिले तो घोंसले कम हुए, अंडे कम हुए, और नई पीढ़ी भी। अब चिड़ियाँ कभी-कभार ही दिखती हैं।
मेरे हिसाब से केस मजबूत था। और आप जानते हैं, वकालत में दुश्मन की दलील भी काम की हो तो उठा लेते हैं। इसी सोच से मैंने अदालत से इजाज़त लेकर बिल्लियों को भी गवाह बना लिया। बात साफ थी—बिल्लियों का खाना काफी हद तक चिड़ियों पर टिका था। चिड़ियाँ ही न रहें तो बिल्लियों की हालत क्या होगी, अंदाज़ा लगाना मुश्किल नहीं।
मामले की अहमियत देखते हुए तीन जजों की बेंच बनी। ‘चिड़ियाँ बनाम इंसान’ की खबर अख़बारों में छपी तो शहर में हलचल मच गई। पहली सुनवाई के दिन अदालत खचाखच भरी थी। हमारी तरफ से मैंने यह मांग रखी कि चिड़ियों के लिए तिनकों का इंतज़ाम फिर से हो—और इसके लिए वैक्यूम की जगह झाड़ू का इस्तेमाल वापस लाया जाए। बचाव पक्ष ने एक अजीब शर्त रखी—अगर हमें अपने केस पर इतना भरोसा है तो हम सब अपने घरों के वैक्यूम क्लीनर फैसला आने तक अदालत में जमा कर दें। अदालत ने पूछा, हमने मान लिया। अगली तारीख पड़ गई।
शाम को मैं अपनी पेशेवर शान समेटे घर लौटा—पर शान ज्यादा देर टिक न सकी। घर में कोई भी वैक्यूम छोड़ने को तैयार नहीं था। बहुत समझाया कि अदालत का मामला है, पर कोई नहीं माना। बाकी वकीलों के घरों में भी यही हाल था। आख़िर तय हुआ कि घर के वैक्यूम घर में ही रहें, और मैं कबाड़ी की दुकान से चार पुराने मशीन खरीदकर अदालत में जमा कर दूँ। जब वे चार धूल भरे वैक्यूम जमा कर रहा था तो अदालत का बाबू सच में मुस्कुराया या मुझे ही लगा—कह नहीं सकता। असली मुसीबत उस पत्रकार ने खड़ी की जिसने मुझे कबाड़ी की दुकान से चार वैक्यूम खरीदते हुए कैमरे में पकड़ लिया। अगले दिन अख़बार में तस्वीर छपी। बड़ी बेइज़्ज़ती हुई। कई दिनों तक सोचता रहा—गलती उसकी थी या मेरी?
अगली सुनवाई पर बिल्लियाँ गवाही देने आईं। मैंने कहा था—दुबली बिल्लियाँ भेजना। पर जो आईं, सब मोटी-ताज़ी। उन्होंने माना कि पहले चिड़ियाँ उनका शिकार थीं, और चिड़ियाँ कम हुईं तो कुछ समय खाने की दिक्कत भी आई। मगर फिर उन्होंने नया रास्ता निकाल लिया—अब इंसानों के फेंके हुए खाने पर उनका गुज़ारा है। दिक्कत भूख की नहीं, ज़्यादा खाने की है। अदालत में लोग चौंके; हमारी टीम परेशान। हमारी चाल उलटी पड़ गई।
सरकारी अफसरों ने हमदर्दी जताई, पर पाबंदी लगाने से साफ इनकार कर दिया। बोले—जिसे झाड़ू रखना है रखे, जिसे वैक्यूम रखना है रखे। अगर वैक्यूम पर रोक लगी तो व्यापारियों को मुआवज़ा देना पड़ेगा, और उसका असर अस्पतालों, स्कूलों और सड़कों के बजट पर पड़ेगा।
फिर सबसे बड़ा झटका वहीं से आया जहाँ से उम्मीद थी। झाड़ू बनाने वाली कंपनियों ने कहा—झाड़ू बनाना अच्छा है, पर ज्वार-बाजरे के डंठल और जंगल की घास बढ़ती आबादी के सामने कम पड़ेंगे। चाहें तो प्लास्टिक से झाड़ू बना सकते हैं—बस सरकार शोध का खर्च उठाए और प्लास्टिक के कचरे की जिम्मेदारी हम पर न डाले। चिड़ियों ने भी प्लास्टिक के तिनकों से घोंसले बनाने से इनकार कर दिया—उन्हें अपने बच्चों पर माइक्रोप्लास्टिक का डर था।
हम मुक़दमा हार गए।
फैसले में लिखा गया कि चिड़ियाँ पास के जंगलों में घोंसले बना सकती हैं—पर पेड़ कटें तो हटने की जिम्मेदारी उनकी होगी। सड़क पर किसी गाड़ी से टकराकर अगर कोई चिड़िया मरे, तो कोई इंसान जिम्मेदार नहीं होगा।
मैंने वकालत छोड़ दी और वैक्यूम क्लीनर की दुकान खोल ली। मेरा निजी मसला, जिसने यह मुक़दमा शुरू करवाया था, बच्चों ने हल कर दिया। अब मेरे कमरे की खिड़की के पास प्लास्टिक के फूलों वाला एक गुलदस्ता रखा है। सुबह की पहली धूप पड़ते ही उसके भीतर से चिड़ियों की रिकॉर्ड की हुई चहचहाहट सुनाई देती है।
और कभी-कभी मैं सोचता हूँ—क्या कहीं कोई ऐसी अदालत भी होगी जहाँ एक दिन हम सब—मैं, मेरे विरोधी वकील, और जज—एक ही कटघरे में खड़े हों?
रियाज़ अकबर
कैनबरा, ऑस्ट्रेलिया
The sparrows chirping on the parapet of our house have been my morning alarm for as long as I can remember. But over the past few years their numbers in the city have dropped so sharply that my daily rhythm has fallen apart. And my profession—law—demands preparation and alertness. In court, a reputation can unravel quickly. The result is simple: less recognition, less income.
In this conext, call it selfish if you like, but the truth is that I was the one who persuaded the city’s sparrows to take humans to court. The case rested on a straightforward idea: humans keep changing the way they live without consulting the other creatures who share the city—and often at their expense. This time the issue was domestic cleaning. Straw brooms had quietly disappeared, replaced by vacuum cleaners. The loose bits of straw that once broke off and scattered across the city had been prime building material for sparrows’ nests. For a while the birds managed by reusing old straw. Eventually it grew brittle. New straw was nowhere to be found. Nests dwindled. Eggs dwindled. So did the next generation. Now sparrows are seen only occasionally.
As far as I was concerned, the case was strong. In law, even the opponent’s argument can be useful if handled properly. So, with the court’s permission, I called cats as witnesses. The logic was simple: cats had long depended on sparrows for food. Without sparrows, how long before their ribs began to show?
The matter attracted attention. A three-judge bench was appointed. Newspapers ran headlines: Sparrows vs. Humans. On the first hearing, the courtroom was packed. As senior counsel for the birds, I requested that broom use be revived so that straw might once again become available for nests. The defense proposed something unusual. If we were so confident in our case, they said, our legal team should deposit our household vacuum cleaners with the court until judgment. The judge looked at us. We agreed. The hearing was adjourned.
That evening I returned home wrapped in professional pride. It lasted only minutes. No one in my household was willing to give up the vacuum cleaner. I argued that this was a matter of principle. No one was persuaded. The other lawyers of my team faced the same problem. We decided the household appliances would remain at home, and I quietly bought four second-hand vacuum cleaners from a junk shop and deposited them instead. A journalist happened to be passing by. The next morning, photographs of me loading those four machines into my car in front of the junk shop appeared in the paper. It was not my finest hour.
At the next hearing, five cats took the stand. Despite my instructions to produce underfed specimens, they were all well-fed. Under oath they admitted that sparrows had once been regular prey. Yes, there had been difficult days when the birds grew scarce. But necessity, they explained, had encouraged innovation. They now survived comfortably on human leftovers. Their problem was no longer hunger, but excess. The courtroom murmured. Our argument faltered.
Municipal officials expressed sympathy but declined to regulate cleaning appliances, considering it against the freedom of choice. A ban on vacuum cleaners, they argued, would require compensation to traders and disrupt budgets—hospitals, schools, roads.
Then came the final blow—from broom manufacturers themselves. They welcomed the sentiment but explained that straw from millet stalks and wild grasses would be insufficient for a growing city. Plastic bristles were possible, provided research grants were given for feasibility tests and environmental responsibility waived. Even the sparrows refused plastic nests. They feared microplastics for their young.
We lost the case.
The judgment permitted sparrows to build nests in nearby forests—provided they managed relocation during logging themselves. No citizen would be liable if a sparrow collided with a bus or truck.
Disappointed with my prrformance, I left the law and opened a vacuum cleaner shop. Business is good. Also, the original problem that pushed me into litigation has been solved by my children. On the windowsill in my room now stands a vase of plastic flowers. When the first sunlight touches it in the morning, recorded sparrow calls begin to play.
Sometimes I wonder though, whether somewhere there exists another court — one where, one day, I, my learned opponents, and the judges might stand together in the dock.
Riaz Akber
Canberra, Australia
In this conext, call it selfish if you like, but the truth is that I was the one who persuaded the city’s sparrows to take humans to court. The case rested on a straightforward idea: humans keep changing the way they live without consulting the other creatures who share the city—and often at their expense. This time the issue was domestic cleaning. Straw brooms had quietly disappeared, replaced by vacuum cleaners. The loose bits of straw that once broke off and scattered across the city had been prime building material for sparrows’ nests. For a while the birds managed by reusing old straw. Eventually it grew brittle. New straw was nowhere to be found. Nests dwindled. Eggs dwindled. So did the next generation. Now sparrows are seen only occasionally.
As far as I was concerned, the case was strong. In law, even the opponent’s argument can be useful if handled properly. So, with the court’s permission, I called cats as witnesses. The logic was simple: cats had long depended on sparrows for food. Without sparrows, how long before their ribs began to show?
The matter attracted attention. A three-judge bench was appointed. Newspapers ran headlines: Sparrows vs. Humans. On the first hearing, the courtroom was packed. As senior counsel for the birds, I requested that broom use be revived so that straw might once again become available for nests. The defense proposed something unusual. If we were so confident in our case, they said, our legal team should deposit our household vacuum cleaners with the court until judgment. The judge looked at us. We agreed. The hearing was adjourned.
That evening I returned home wrapped in professional pride. It lasted only minutes. No one in my household was willing to give up the vacuum cleaner. I argued that this was a matter of principle. No one was persuaded. The other lawyers of my team faced the same problem. We decided the household appliances would remain at home, and I quietly bought four second-hand vacuum cleaners from a junk shop and deposited them instead. A journalist happened to be passing by. The next morning, photographs of me loading those four machines into my car in front of the junk shop appeared in the paper. It was not my finest hour.
At the next hearing, five cats took the stand. Despite my instructions to produce underfed specimens, they were all well-fed. Under oath they admitted that sparrows had once been regular prey. Yes, there had been difficult days when the birds grew scarce. But necessity, they explained, had encouraged innovation. They now survived comfortably on human leftovers. Their problem was no longer hunger, but excess. The courtroom murmured. Our argument faltered.
Municipal officials expressed sympathy but declined to regulate cleaning appliances, considering it against the freedom of choice. A ban on vacuum cleaners, they argued, would require compensation to traders and disrupt budgets—hospitals, schools, roads.
Then came the final blow—from broom manufacturers themselves. They welcomed the sentiment but explained that straw from millet stalks and wild grasses would be insufficient for a growing city. Plastic bristles were possible, provided research grants were given for feasibility tests and environmental responsibility waived. Even the sparrows refused plastic nests. They feared microplastics for their young.
We lost the case.
The judgment permitted sparrows to build nests in nearby forests—provided they managed relocation during logging themselves. No citizen would be liable if a sparrow collided with a bus or truck.
Disappointed with my prrformance, I left the law and opened a vacuum cleaner shop. Business is good. Also, the original problem that pushed me into litigation has been solved by my children. On the windowsill in my room now stands a vase of plastic flowers. When the first sunlight touches it in the morning, recorded sparrow calls begin to play.
Sometimes I wonder though, whether somewhere there exists another court — one where, one day, I, my learned opponents, and the judges might stand together in the dock.
Riaz Akber
Canberra, Australia