Daughter of History
تاریخ کی بیٹی
इतिहास की बेटी
Riaz Akber
19 Feb 2026
شانتی نے زندگی کا ایک بڑا جصہ اپنے آپ سے یہ سوال کرتے ہوئے گزارا کہ وہ اپنی پیدائش کو خوش قسمتی گردانے یا بدقسمتی۔
اس کی امی ان چند لاکھ خواتین میں سے ایک تھیں جو دیش میں افراتفری کے دوران اپنی خواہش کے خلاف جنسی ہوس کا شکار ہو کر حاملہ ہوئیں اور وہ خود ان پچاس ساٹھ ہزار بچوں میں سے ایک جن کی مائوں کا اس طرح حاملہ ہونے کے بعد کسی وجہ سے اسقاط نہ ہوا۔
پھر جب وہ آسٹریلیا آئی تو مجھے اس کا نام بھی کچھ عجیب سا لگا ۔۔۔ شانتی اللہ دتہ۔
شانتی کی امی نے اس نام کی جو وجہ بتائی تھی وہ عزیز رہنے کے ساتھ ساتھ عمر کے مختلف مرحلوں میں خود اسے پریشان بھی کرتی رہی۔ ہوا کچھ اس طرح کہ اس کی امی ہندو تھیں مگر انہیں ریپ کرنے والے سمندر پار مغرب کے وہ مسلمان جن کے نام بھی انہیں معلوم نہیں تھے۔ یہ جاننا بھی ناممکن تھا کہ ان میں سے کون شانتی کی بیالوجی کا ذمہ دار ہے۔ سو 'اللہ دتہ' کا نام شانتی کی امی نے اس شخص کے لئے خود ساخت کیا تھا۔ اب سوچیں تو وہ بے چاری اور کرتیں بھی کیا؟ ہر دفتر اور سکول میں ذاتی نام کے آگے خاندانی نام کے لازمی خانے کو خالی چھوڑنا بھی تو آسان نہیں تھا۔ ویسے اس کی امی کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ نیا خاندانی نام انہوں نے اپنے دیش میں گزرنے والے ایک بڑے واقعے کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے چنا ہے، یا اپنے ذاتی دکھ کو عنوان دینے کے لئے۔ بس اچانک ذہن میں جو آیا سو لکھ دیا۔ شانتی کی پیدائش کے وقت وہ مشکل سے تئیس برس کی تو تھیں اور ابھی ایک سال پہلے تاریخ کے مضمون میں ایم۔اے کی ڈگری مکمل کی تھی۔
شانتی کی طرح کے اکثر بچوں اور ان کی مائوں کو ان کے خاندانوں نے خاموشی سے اپنی اوٹ میں کچھ اس طرح سے چھپا لیا تھا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ پھر بھی ایک بڑی تعداد دیش کے یتیم خانوں میں بھی تھی اور ان میں سے کچھ کو دوسرے متمول ملکوں کے گھرانوں نے گود لے لیا تھا۔ اس سب کے برعکس شانتی کی امی اسے لے کر ایک نئے شہر میں آ گئیں اور ایک کالج میں بطور لیکچرر ملازمت کر لی۔ گویا اس لحاظ سے بھی شانتی کی زندگی میں ایک استثنا تھا کہ اس کی امی نے اس کی پیدائش کی بات کو کبھی کسی سے نہیں چھپایا۔ اس کے بچپن میں وہ یہی کہتی رہیں کہ بگھوان کی دین ہی تو ہے میری بیٹی۔ سو کیا ہوا اگر دیودَتَہ کی بجائے اللہ دِتًہ ہو گیا۔ شانتی کے سکول میں کچھ بچے ہندو تھے اور زیادہ مسلمان۔ وہاں پر اٹھائی جانے والی گفتگو کے جواب میں اس کی امی نے اپنی بیٹی کو ایک جملہ رٹا دیا تھا جسے وہ حسبِ ضرورت اپنے بھولپن کے فخر میں استعمال کرتی۔ اور سننے والوں کو اس کے ٹوٹے ہوئے دودھ کے دانتوں کے درمیان توتلی زبان سے ادا ہوتے ہوئے یہ لفظ بھلے بھی لگتے۔
'امی اتیہاشر میئے'
(میں تاریخ کی بیٹی ہوں)۔
شانتی نے بارھویں جماعت پاس کرنے کے بعد جب میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تو ایک دن اپنی امی سے پوچھا تھا۔
'جب مجھے جنما تو کیا درد ہوا تھا ماں؟'
'ہاں ہوا تھا۔ سب کو ہوتا ہے۔ معلوم ہے کیوں؟' اس کی امی نے کہا تھا۔
'کیوں؟'
'یہ اپنے پائوں پر سیدھا کھڑا رہنے اور چلنے کی قیمت ہے جو ہر ماں اپنے بچے کے پیدا ہونے پر ادا کرتی ہے۔ ہم انسان چوپائے نہیں ہیں۔ ہماری کولہے کی ہڈیوں کے بیچ فاصلہ کم ہے۔ درد تو ہوگا۔ اب تُو سیدھی کھڑی رہنا شانتی۔ رکنا نہیں۔ چلتی جانا۔ وچن دے مجھ کو۔ وعدہ۔'
'وعدہ ۔ ماں'۔
پانچ سال میں ایک ہزار آٹھ سو چھبیس دن اور اتنی ہی راتیں بھی ہوتی ہیں۔ شانتی اللہ دتہ اور اس کی امی نے وہ روز ایک ایک گن کر گزارے۔ اب وہ ایک کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر تھی اور اس کی امی ایک کالج میں تاریخ کی پروفیسر۔ ایک درد بھرا پر عزم آغاز ۔۔۔ ایک کامیاب انجام۔
اس دنیا میں انسانوں کا میل بھی اتفاقات کا کھیل ہے۔ اب آپ سوچیں کہ شانتی اگر سپیشلسٹ پڑھائی کے لئے آسٹریلیا نہ آتی تو نہ ہم ملتے اور نہ ہی مجھے اس کی کہانی کا علم ہوتا۔ بڑی بڑی سرمئی سی آنکھوں والی شفاف گندمی جلد کی خاتون، جسکی دھیمی آواز اور کم گوئی کسی ہچکچاہٹ کی بجائے گفتگو کی گہرائی کا پتہ دیتی تھی۔ یونیورسٹی میں ہم ایک ہی میڈیکل سکول میں تھے اور بہت اچھے دوست بھی بنے۔ مگر اس سے آگے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا سو خواہش کے باوجود بھی میں نے نہیں پوچھا۔ وہ گائنوکولوجی کا سپیشلسٹ بننا چاہتی تھی، اور بنی۔
'کنواری گائینوکولوجسٹ'
میں کبھی کبھار اس کو چھیڑتا اور وہ دھیما سا ہنس دیتی۔
'میں ماں بننا چاہتی ہوں' پھر ایک دن اچانک اس نے کہا۔
'کیا میں؟!' میں نے پوچھا۔
'نہیں ۔ کوئی نامعلوم جس کا ریکارڈ نہ ہو۔'
'پاگل مت بنو۔ کیا گزرتی ہے تم تو جانتی ہو؟'
'ہاں۔ مگر میری ماں پر کیا گزری وہ جاننا چاہتی ہوں ۔ جانتے ہو نا ۔۔۔ امی اتیہاشر میئے'۔
جب وہ واپس اپنے دیش گئی تو اس کا ٹیسٹ پوزیٹو تھا۔
بیس سال بیت گئے ہیں۔ ہمارا رابطہ بدستور ہے اور دوستی اسی طرح گہری۔ اب تو اس کا بیٹا سریش اللہ دتہ بھی بڑا ہو گیا ہے۔ کچھ مہینےہوئے ہیں یہیں آسٹریلیا میں میرے شہر میں انجینیرنگ پڑھنے کے لئے آیا ہے۔ ہر دوسرے ویک اینڈ پر ہم ملتے ہیں۔ اور اج اکھٹے ایک فلائٹ پر شانتی اور اس کی امی کے شہر راجشاہی جا رہے ہیں ۔۔۔۔ مگر بہت اداس۔ کچھ روز پہلے شانتی کی امی فوت ہو گئی ہیں۔ ان کی زندگی میں نہ ملنے کا مجھے افسوس ہے۔ مگر اب شانتی اور سریش کے ساتھ مل کر ان کی راکھ کو پدمہ دریا میں بہانے پر تو موجود ہوں گا۔ ایک اچھی بات بھی ہوئی ہے، اور وہ یہ کہ اب سے چند ہفتے پہلے اپنی امی کی زندگی میں ہی، بیٹے کو وہاں پڑھا کر اور پھر اپنے خرچے پر یہاں انجینیرنگ یونیورسٹی میں داخل کروانے کے بعد، شانتی نے خود ہی مجھ سے باقی کی زندگی ایک ساتھ گزارنے کا پوچھ لیا تھا۔ سریش کو ہم نے ابھی نہیں بتایا۔ اب جلدی کیا ہے، ایک آدھ سال اور اسے مجھ سے مانوس ہونے دیں۔
ہاں پچھلے ایک دو روز سے میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ میرے جیون میں آنے والی اس شانتی کی بیالوجی کا ذمہ دار وہ مرد بھی اب تک شاید مر چکا ہوگا یا شاید اگلے کچھ برس میں مر جائے۔ پھر اس کے بعد ہماری کائناتوں سے بہت ورے ۔۔۔ دور کہیں وہ اللہ ۔۔۔۔ اس اللہ دتہ سے کیا سلوک کرے گا؟ مجھے نہیں معلوم۔ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ برسوں پہلے اپنے پائوں پر سیدھے کھڑے ہونے اور چلتے رہنے کا جو وچن شانتی نے اپنی امی کو دیا تھا، وہ پورا کر دیا ہے۔
ریاض اکبر
کینبرا - آسٹریلیا
اس کی امی ان چند لاکھ خواتین میں سے ایک تھیں جو دیش میں افراتفری کے دوران اپنی خواہش کے خلاف جنسی ہوس کا شکار ہو کر حاملہ ہوئیں اور وہ خود ان پچاس ساٹھ ہزار بچوں میں سے ایک جن کی مائوں کا اس طرح حاملہ ہونے کے بعد کسی وجہ سے اسقاط نہ ہوا۔
پھر جب وہ آسٹریلیا آئی تو مجھے اس کا نام بھی کچھ عجیب سا لگا ۔۔۔ شانتی اللہ دتہ۔
شانتی کی امی نے اس نام کی جو وجہ بتائی تھی وہ عزیز رہنے کے ساتھ ساتھ عمر کے مختلف مرحلوں میں خود اسے پریشان بھی کرتی رہی۔ ہوا کچھ اس طرح کہ اس کی امی ہندو تھیں مگر انہیں ریپ کرنے والے سمندر پار مغرب کے وہ مسلمان جن کے نام بھی انہیں معلوم نہیں تھے۔ یہ جاننا بھی ناممکن تھا کہ ان میں سے کون شانتی کی بیالوجی کا ذمہ دار ہے۔ سو 'اللہ دتہ' کا نام شانتی کی امی نے اس شخص کے لئے خود ساخت کیا تھا۔ اب سوچیں تو وہ بے چاری اور کرتیں بھی کیا؟ ہر دفتر اور سکول میں ذاتی نام کے آگے خاندانی نام کے لازمی خانے کو خالی چھوڑنا بھی تو آسان نہیں تھا۔ ویسے اس کی امی کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ نیا خاندانی نام انہوں نے اپنے دیش میں گزرنے والے ایک بڑے واقعے کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے چنا ہے، یا اپنے ذاتی دکھ کو عنوان دینے کے لئے۔ بس اچانک ذہن میں جو آیا سو لکھ دیا۔ شانتی کی پیدائش کے وقت وہ مشکل سے تئیس برس کی تو تھیں اور ابھی ایک سال پہلے تاریخ کے مضمون میں ایم۔اے کی ڈگری مکمل کی تھی۔
شانتی کی طرح کے اکثر بچوں اور ان کی مائوں کو ان کے خاندانوں نے خاموشی سے اپنی اوٹ میں کچھ اس طرح سے چھپا لیا تھا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ پھر بھی ایک بڑی تعداد دیش کے یتیم خانوں میں بھی تھی اور ان میں سے کچھ کو دوسرے متمول ملکوں کے گھرانوں نے گود لے لیا تھا۔ اس سب کے برعکس شانتی کی امی اسے لے کر ایک نئے شہر میں آ گئیں اور ایک کالج میں بطور لیکچرر ملازمت کر لی۔ گویا اس لحاظ سے بھی شانتی کی زندگی میں ایک استثنا تھا کہ اس کی امی نے اس کی پیدائش کی بات کو کبھی کسی سے نہیں چھپایا۔ اس کے بچپن میں وہ یہی کہتی رہیں کہ بگھوان کی دین ہی تو ہے میری بیٹی۔ سو کیا ہوا اگر دیودَتَہ کی بجائے اللہ دِتًہ ہو گیا۔ شانتی کے سکول میں کچھ بچے ہندو تھے اور زیادہ مسلمان۔ وہاں پر اٹھائی جانے والی گفتگو کے جواب میں اس کی امی نے اپنی بیٹی کو ایک جملہ رٹا دیا تھا جسے وہ حسبِ ضرورت اپنے بھولپن کے فخر میں استعمال کرتی۔ اور سننے والوں کو اس کے ٹوٹے ہوئے دودھ کے دانتوں کے درمیان توتلی زبان سے ادا ہوتے ہوئے یہ لفظ بھلے بھی لگتے۔
'امی اتیہاشر میئے'
(میں تاریخ کی بیٹی ہوں)۔
شانتی نے بارھویں جماعت پاس کرنے کے بعد جب میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تو ایک دن اپنی امی سے پوچھا تھا۔
'جب مجھے جنما تو کیا درد ہوا تھا ماں؟'
'ہاں ہوا تھا۔ سب کو ہوتا ہے۔ معلوم ہے کیوں؟' اس کی امی نے کہا تھا۔
'کیوں؟'
'یہ اپنے پائوں پر سیدھا کھڑا رہنے اور چلنے کی قیمت ہے جو ہر ماں اپنے بچے کے پیدا ہونے پر ادا کرتی ہے۔ ہم انسان چوپائے نہیں ہیں۔ ہماری کولہے کی ہڈیوں کے بیچ فاصلہ کم ہے۔ درد تو ہوگا۔ اب تُو سیدھی کھڑی رہنا شانتی۔ رکنا نہیں۔ چلتی جانا۔ وچن دے مجھ کو۔ وعدہ۔'
'وعدہ ۔ ماں'۔
پانچ سال میں ایک ہزار آٹھ سو چھبیس دن اور اتنی ہی راتیں بھی ہوتی ہیں۔ شانتی اللہ دتہ اور اس کی امی نے وہ روز ایک ایک گن کر گزارے۔ اب وہ ایک کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر تھی اور اس کی امی ایک کالج میں تاریخ کی پروفیسر۔ ایک درد بھرا پر عزم آغاز ۔۔۔ ایک کامیاب انجام۔
اس دنیا میں انسانوں کا میل بھی اتفاقات کا کھیل ہے۔ اب آپ سوچیں کہ شانتی اگر سپیشلسٹ پڑھائی کے لئے آسٹریلیا نہ آتی تو نہ ہم ملتے اور نہ ہی مجھے اس کی کہانی کا علم ہوتا۔ بڑی بڑی سرمئی سی آنکھوں والی شفاف گندمی جلد کی خاتون، جسکی دھیمی آواز اور کم گوئی کسی ہچکچاہٹ کی بجائے گفتگو کی گہرائی کا پتہ دیتی تھی۔ یونیورسٹی میں ہم ایک ہی میڈیکل سکول میں تھے اور بہت اچھے دوست بھی بنے۔ مگر اس سے آگے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا سو خواہش کے باوجود بھی میں نے نہیں پوچھا۔ وہ گائنوکولوجی کا سپیشلسٹ بننا چاہتی تھی، اور بنی۔
'کنواری گائینوکولوجسٹ'
میں کبھی کبھار اس کو چھیڑتا اور وہ دھیما سا ہنس دیتی۔
'میں ماں بننا چاہتی ہوں' پھر ایک دن اچانک اس نے کہا۔
'کیا میں؟!' میں نے پوچھا۔
'نہیں ۔ کوئی نامعلوم جس کا ریکارڈ نہ ہو۔'
'پاگل مت بنو۔ کیا گزرتی ہے تم تو جانتی ہو؟'
'ہاں۔ مگر میری ماں پر کیا گزری وہ جاننا چاہتی ہوں ۔ جانتے ہو نا ۔۔۔ امی اتیہاشر میئے'۔
جب وہ واپس اپنے دیش گئی تو اس کا ٹیسٹ پوزیٹو تھا۔
بیس سال بیت گئے ہیں۔ ہمارا رابطہ بدستور ہے اور دوستی اسی طرح گہری۔ اب تو اس کا بیٹا سریش اللہ دتہ بھی بڑا ہو گیا ہے۔ کچھ مہینےہوئے ہیں یہیں آسٹریلیا میں میرے شہر میں انجینیرنگ پڑھنے کے لئے آیا ہے۔ ہر دوسرے ویک اینڈ پر ہم ملتے ہیں۔ اور اج اکھٹے ایک فلائٹ پر شانتی اور اس کی امی کے شہر راجشاہی جا رہے ہیں ۔۔۔۔ مگر بہت اداس۔ کچھ روز پہلے شانتی کی امی فوت ہو گئی ہیں۔ ان کی زندگی میں نہ ملنے کا مجھے افسوس ہے۔ مگر اب شانتی اور سریش کے ساتھ مل کر ان کی راکھ کو پدمہ دریا میں بہانے پر تو موجود ہوں گا۔ ایک اچھی بات بھی ہوئی ہے، اور وہ یہ کہ اب سے چند ہفتے پہلے اپنی امی کی زندگی میں ہی، بیٹے کو وہاں پڑھا کر اور پھر اپنے خرچے پر یہاں انجینیرنگ یونیورسٹی میں داخل کروانے کے بعد، شانتی نے خود ہی مجھ سے باقی کی زندگی ایک ساتھ گزارنے کا پوچھ لیا تھا۔ سریش کو ہم نے ابھی نہیں بتایا۔ اب جلدی کیا ہے، ایک آدھ سال اور اسے مجھ سے مانوس ہونے دیں۔
ہاں پچھلے ایک دو روز سے میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ میرے جیون میں آنے والی اس شانتی کی بیالوجی کا ذمہ دار وہ مرد بھی اب تک شاید مر چکا ہوگا یا شاید اگلے کچھ برس میں مر جائے۔ پھر اس کے بعد ہماری کائناتوں سے بہت ورے ۔۔۔ دور کہیں وہ اللہ ۔۔۔۔ اس اللہ دتہ سے کیا سلوک کرے گا؟ مجھے نہیں معلوم۔ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ برسوں پہلے اپنے پائوں پر سیدھے کھڑے ہونے اور چلتے رہنے کا جو وچن شانتی نے اپنی امی کو دیا تھا، وہ پورا کر دیا ہے۔
ریاض اکبر
کینبرا - آسٹریلیا
शांति ने अपनी ज़िंदगी का एक बड़ा हिस्सा यह सोचते हुए बिताया कि वह अपने जन्म को सौभाग्य माने या दुर्भाग्य।
उसकी माँ उन कुछ लाख स्त्रियों में से एक थीं जो देश में अराजकता के दिनों में अपनी इच्छा के विरुद्ध यौन हिंसा का शिकार होकर गर्भवती हुईं। और वह स्वयं उन पचास–साठ हज़ार बच्चों में से एक थी जिनकी माताओं का इस प्रकार गर्भवती होने के बाद किसी कारणवश गर्भपात न हुआ।
जब वह ऑस्ट्रेलिया आई तो उसका नाम मुझे कुछ अजीब लगा — शांति अल्लाह दित्ता।
उसकी माँ ने इस नाम की जो वजह बताई थी, वह प्रिय भी थी और जीवन के विभिन्न चरणों में शांति को विचलित भी करती रही। बात कुछ यूँ थी कि उसकी माँ हिंदू थीं, पर जिन लोगों ने उनका बलात्कार किया वे समुद्र पार पश्चिम से आए मुसलमान थे — जिनके नाम तक उन्हें ज्ञात नहीं थे। यह जानना असंभव था कि उनमें से कौन शांति की जैविक उत्पत्ति का कारण था। इसलिए “अल्लाह दित्ता” नाम शांति की माँ ने स्वयं गढ़ लिया था। अब सोचें तो वह बेचारी और करती भी क्या? हर दफ़्तर और स्कूल में व्यक्तिगत नाम के आगे पारिवारिक नाम का अनिवार्य ख़ाना खाली छोड़ना आसान नहीं होता। शायद उन्हें स्वयं भी नहीं पता था कि यह नया उपनाम उन्होंने अपने देश में घटे एक बड़े ऐतिहासिक हादसे की स्मृति को जीवित रखने के लिए चुना था या अपने निजी दुख को एक शीर्षक देने के लिए। बस उस समय जो मन में आया, लिख दिया। शांति के जन्म के समय वह मुश्किल से तेईस वर्ष की थीं और एक वर्ष पहले ही इतिहास विषय में एम.ए. पूरा किया था।
शांति जैसे अधिकांश बच्चों और उनकी माताओं को उनके परिवारों ने चुपचाप अपनी ओट में छुपा लिया — जैसे कुछ हुआ ही न हो। फिर भी बड़ी संख्या में बच्चे अनाथालयों में भी थे, और उनमें से कुछ को संपन्न देशों के परिवारों ने गोद ले लिया। इसके विपरीत, शांति की माँ उसे लेकर एक नए शहर आ गईं और एक कॉलेज में व्याख्याता बन गईं। इस दृष्टि से भी शांति का जीवन एक अपवाद था कि उसकी माँ ने उसके जन्म की सच्चाई कभी नहीं छिपाई।
बचपन में वह कहतीं —
“भगवान की देन है मेरी बेटी। तो क्या हुआ यदि देवदत्ता की जगह अल्लाह दित्ता हो गया?”
स्कूल में कुछ बच्चे हिंदू थे और अधिकतर मुसलमान। वहाँ उठने वाली चर्चाओं के उत्तर में उसकी माँ ने उसे एक वाक्य रटा दिया था जिसे वह अपने भोले गर्व में आवश्यकता अनुसार दोहराती — और सुनने वालों को उसके टूटे दूध के दाँतों के बीच से निकलती तोतली आवाज़ में यह शब्द भले लगते:
“आमी इतिहासेर मेये।”
(मैं इतिहास की बेटी हूँ।)
बारहवीं कक्षा के बाद जब उसने मेडिकल कॉलेज में प्रवेश लिया तो एक दिन उसने माँ से पूछा:
“जब मैं पैदा हुई तो क्या बहुत दर्द हुआ था, माँ?”
“हाँ हुआ था। सबको होता है। मालूम है क्यों?” माँ ने कहा।
“क्यों?”
“अपने पैरों पर सीधा खड़े होने और चलने की कीमत है यह, जो हर माँ अपने बच्चे के जन्म पर चुकाती है। हम इंसान चौपाये नहीं हैं। हमारी कूल्हे की हड्डियों के बीच दूरी कम है। दर्द तो होगा। अब तू सीधी खड़ी रहना शांति। रुकना नहीं। चलती जाना। वचन दे मुझे।”
“वचन, माँ।”
पाँच वर्षों में एक हज़ार आठ सौ छब्बीस दिन और उतनी ही रातें होती हैं। शांति अल्लाह दित्ता और उसकी माँ ने वे दिन एक-एक गिनकर गुज़ारे। अब वह एक योग्य मेडिकल डॉक्टर थी और उसकी माँ कॉलेज में इतिहास की प्रोफ़ेसर। एक पीड़ादायक पर दृढ़ शुरुआत — एक सफल परिणति।
दुनिया में इंसानों का मिलना भी संयोगों का खेल है। यदि शांति विशेषज्ञ पढ़ाई के लिए ऑस्ट्रेलिया न आती तो न हमारी मुलाक़ात होती और न मुझे उसकी कहानी मालूम होती। बड़ी धूसर आँखों और साफ़ गेहुँआ रंग वाली वह स्त्री — जिसकी धीमी आवाज़ और कम बोलना किसी झिझक का नहीं बल्कि गहराई का संकेत था। हम एक ही मेडिकल स्कूल में थे और अच्छे मित्र बने। पर उससे आगे उसका कोई इरादा नहीं था, इसलिए इच्छा होते हुए भी मैंने कुछ नहीं पूछा।
वह स्त्रीरोग विशेषज्ञ बनना चाहती थी — और बनी।
“कुँवारी गायनाकॉलोजिस्ट,”
मैं कभी-कभी छेड़ता और वह धीमे से मुस्कुरा देती।
एक दिन अचानक उसने कहा,
“मैं माँ बनना चाहती हूँ।”
“क्या मैं?” मैंने पूछा।
“नहीं। कोई अज्ञात — जिसका कोई रिकॉर्ड न हो।”
“पागल मत बनो। तुम जानती हो क्या गुज़रती है।”
“हाँ। मगर मेरी माँ पर क्या गुज़री — वह जानना चाहती हूँ। जानते हो ना… आमी इतिहासेर मेये।”
जब वह अपने देश लौटी तो उसका परीक्षण सकारात्मक था।
बीस वर्ष बीत चुके हैं। संपर्क अब भी है और मित्रता उतनी ही गहरी। उसका बेटा सुरेश अल्लाह दित्ता अब बड़ा हो गया है। कुछ महीने पहले यहीं ऑस्ट्रेलिया में मेरे शहर में इंजीनियरिंग पढ़ने आया है। हर दूसरे सप्ताहांत हम मिलते हैं।
और आज हम एक ही उड़ान से शांति और उसकी माँ के शहर राजशाही जा रहे हैं — पर बहुत उदास। कुछ दिन पहले उसकी माँ का देहांत हो गया। जीवन में उनसे न मिल पाने का मुझे अफ़सोस है। पर अब शांति और सुरेश के साथ उनकी राख पद्मा नदी में विसर्जित करने तो रहूँगा।
एक और अच्छी बात हुई है। कुछ सप्ताह पहले, अपनी माँ के जीवनकाल में ही, बेटे को पढ़ाकर और अपने खर्चे पर यहाँ इंजीनियरिंग विश्वविद्यालय में दाख़िला दिलवाने के बाद, शांति ने स्वयं मुझसे शेष जीवन साथ बिताने का प्रस्ताव रखा। सुरेश को हमने अभी नहीं बताया। जल्दी क्या है? एक-दो साल उसे मुझसे परिचित होने दें।
पिछले कुछ दिनों से मैं यह भी सोच रहा हूँ कि शांति के जीवन में आने वाली उसकी जैविक उत्पत्ति का उत्तरदायी वह पुरुष भी शायद अब मर चुका होगा — या कुछ वर्षों में मर जाएगा। फिर उसके बाद हमारी इन ब्रह्मांडों से बहुत दूर… कहीं वह अल्लाह… उस “अल्लाह दित्ता” के साथ क्या करेगा? मुझे नहीं मालूम। पर इतना जानता हूँ कि वर्षों पहले अपने पैरों पर सीधा खड़े रहने और चलते जाने का जो वचन शांति ने अपनी माँ को दिया था — वह उसने निभा दिया है।
रियाज़ अकबर
कैनबरा - ऑस्ट्रेलिया
उसकी माँ उन कुछ लाख स्त्रियों में से एक थीं जो देश में अराजकता के दिनों में अपनी इच्छा के विरुद्ध यौन हिंसा का शिकार होकर गर्भवती हुईं। और वह स्वयं उन पचास–साठ हज़ार बच्चों में से एक थी जिनकी माताओं का इस प्रकार गर्भवती होने के बाद किसी कारणवश गर्भपात न हुआ।
जब वह ऑस्ट्रेलिया आई तो उसका नाम मुझे कुछ अजीब लगा — शांति अल्लाह दित्ता।
उसकी माँ ने इस नाम की जो वजह बताई थी, वह प्रिय भी थी और जीवन के विभिन्न चरणों में शांति को विचलित भी करती रही। बात कुछ यूँ थी कि उसकी माँ हिंदू थीं, पर जिन लोगों ने उनका बलात्कार किया वे समुद्र पार पश्चिम से आए मुसलमान थे — जिनके नाम तक उन्हें ज्ञात नहीं थे। यह जानना असंभव था कि उनमें से कौन शांति की जैविक उत्पत्ति का कारण था। इसलिए “अल्लाह दित्ता” नाम शांति की माँ ने स्वयं गढ़ लिया था। अब सोचें तो वह बेचारी और करती भी क्या? हर दफ़्तर और स्कूल में व्यक्तिगत नाम के आगे पारिवारिक नाम का अनिवार्य ख़ाना खाली छोड़ना आसान नहीं होता। शायद उन्हें स्वयं भी नहीं पता था कि यह नया उपनाम उन्होंने अपने देश में घटे एक बड़े ऐतिहासिक हादसे की स्मृति को जीवित रखने के लिए चुना था या अपने निजी दुख को एक शीर्षक देने के लिए। बस उस समय जो मन में आया, लिख दिया। शांति के जन्म के समय वह मुश्किल से तेईस वर्ष की थीं और एक वर्ष पहले ही इतिहास विषय में एम.ए. पूरा किया था।
शांति जैसे अधिकांश बच्चों और उनकी माताओं को उनके परिवारों ने चुपचाप अपनी ओट में छुपा लिया — जैसे कुछ हुआ ही न हो। फिर भी बड़ी संख्या में बच्चे अनाथालयों में भी थे, और उनमें से कुछ को संपन्न देशों के परिवारों ने गोद ले लिया। इसके विपरीत, शांति की माँ उसे लेकर एक नए शहर आ गईं और एक कॉलेज में व्याख्याता बन गईं। इस दृष्टि से भी शांति का जीवन एक अपवाद था कि उसकी माँ ने उसके जन्म की सच्चाई कभी नहीं छिपाई।
बचपन में वह कहतीं —
“भगवान की देन है मेरी बेटी। तो क्या हुआ यदि देवदत्ता की जगह अल्लाह दित्ता हो गया?”
स्कूल में कुछ बच्चे हिंदू थे और अधिकतर मुसलमान। वहाँ उठने वाली चर्चाओं के उत्तर में उसकी माँ ने उसे एक वाक्य रटा दिया था जिसे वह अपने भोले गर्व में आवश्यकता अनुसार दोहराती — और सुनने वालों को उसके टूटे दूध के दाँतों के बीच से निकलती तोतली आवाज़ में यह शब्द भले लगते:
“आमी इतिहासेर मेये।”
(मैं इतिहास की बेटी हूँ।)
बारहवीं कक्षा के बाद जब उसने मेडिकल कॉलेज में प्रवेश लिया तो एक दिन उसने माँ से पूछा:
“जब मैं पैदा हुई तो क्या बहुत दर्द हुआ था, माँ?”
“हाँ हुआ था। सबको होता है। मालूम है क्यों?” माँ ने कहा।
“क्यों?”
“अपने पैरों पर सीधा खड़े होने और चलने की कीमत है यह, जो हर माँ अपने बच्चे के जन्म पर चुकाती है। हम इंसान चौपाये नहीं हैं। हमारी कूल्हे की हड्डियों के बीच दूरी कम है। दर्द तो होगा। अब तू सीधी खड़ी रहना शांति। रुकना नहीं। चलती जाना। वचन दे मुझे।”
“वचन, माँ।”
पाँच वर्षों में एक हज़ार आठ सौ छब्बीस दिन और उतनी ही रातें होती हैं। शांति अल्लाह दित्ता और उसकी माँ ने वे दिन एक-एक गिनकर गुज़ारे। अब वह एक योग्य मेडिकल डॉक्टर थी और उसकी माँ कॉलेज में इतिहास की प्रोफ़ेसर। एक पीड़ादायक पर दृढ़ शुरुआत — एक सफल परिणति।
दुनिया में इंसानों का मिलना भी संयोगों का खेल है। यदि शांति विशेषज्ञ पढ़ाई के लिए ऑस्ट्रेलिया न आती तो न हमारी मुलाक़ात होती और न मुझे उसकी कहानी मालूम होती। बड़ी धूसर आँखों और साफ़ गेहुँआ रंग वाली वह स्त्री — जिसकी धीमी आवाज़ और कम बोलना किसी झिझक का नहीं बल्कि गहराई का संकेत था। हम एक ही मेडिकल स्कूल में थे और अच्छे मित्र बने। पर उससे आगे उसका कोई इरादा नहीं था, इसलिए इच्छा होते हुए भी मैंने कुछ नहीं पूछा।
वह स्त्रीरोग विशेषज्ञ बनना चाहती थी — और बनी।
“कुँवारी गायनाकॉलोजिस्ट,”
मैं कभी-कभी छेड़ता और वह धीमे से मुस्कुरा देती।
एक दिन अचानक उसने कहा,
“मैं माँ बनना चाहती हूँ।”
“क्या मैं?” मैंने पूछा।
“नहीं। कोई अज्ञात — जिसका कोई रिकॉर्ड न हो।”
“पागल मत बनो। तुम जानती हो क्या गुज़रती है।”
“हाँ। मगर मेरी माँ पर क्या गुज़री — वह जानना चाहती हूँ। जानते हो ना… आमी इतिहासेर मेये।”
जब वह अपने देश लौटी तो उसका परीक्षण सकारात्मक था।
बीस वर्ष बीत चुके हैं। संपर्क अब भी है और मित्रता उतनी ही गहरी। उसका बेटा सुरेश अल्लाह दित्ता अब बड़ा हो गया है। कुछ महीने पहले यहीं ऑस्ट्रेलिया में मेरे शहर में इंजीनियरिंग पढ़ने आया है। हर दूसरे सप्ताहांत हम मिलते हैं।
और आज हम एक ही उड़ान से शांति और उसकी माँ के शहर राजशाही जा रहे हैं — पर बहुत उदास। कुछ दिन पहले उसकी माँ का देहांत हो गया। जीवन में उनसे न मिल पाने का मुझे अफ़सोस है। पर अब शांति और सुरेश के साथ उनकी राख पद्मा नदी में विसर्जित करने तो रहूँगा।
एक और अच्छी बात हुई है। कुछ सप्ताह पहले, अपनी माँ के जीवनकाल में ही, बेटे को पढ़ाकर और अपने खर्चे पर यहाँ इंजीनियरिंग विश्वविद्यालय में दाख़िला दिलवाने के बाद, शांति ने स्वयं मुझसे शेष जीवन साथ बिताने का प्रस्ताव रखा। सुरेश को हमने अभी नहीं बताया। जल्दी क्या है? एक-दो साल उसे मुझसे परिचित होने दें।
पिछले कुछ दिनों से मैं यह भी सोच रहा हूँ कि शांति के जीवन में आने वाली उसकी जैविक उत्पत्ति का उत्तरदायी वह पुरुष भी शायद अब मर चुका होगा — या कुछ वर्षों में मर जाएगा। फिर उसके बाद हमारी इन ब्रह्मांडों से बहुत दूर… कहीं वह अल्लाह… उस “अल्लाह दित्ता” के साथ क्या करेगा? मुझे नहीं मालूम। पर इतना जानता हूँ कि वर्षों पहले अपने पैरों पर सीधा खड़े रहने और चलते जाने का जो वचन शांति ने अपनी माँ को दिया था — वह उसने निभा दिया है।
रियाज़ अकबर
कैनबरा - ऑस्ट्रेलिया
Shanti spent a large part of her life asking herself whether she should consider her birth a blessing or a misfortune.
Her mother had been among a few hundred thousand women who, during the chaos in their country, were assaulted against their will and became pregnant. Shanti herself was one among the fifty or sixty thousand children whose mothers, for whatever reason, could not undergo abortion after such pregnancies.
When she came to Australia, even her name struck me as unusual — Shanti Allah Ditta.
The reason her mother had given for that name was both tender and unsettling at different stages of Shanti’s life. Her mother was Hindu. The men who violated her were Muslim soldiers from across the western sea — men whose names she never knew. It was impossible to determine which one was biologically responsible for Shanti’s existence. So “Allah Ditta” was a surname her mother invented herself. What else could she have done? Leaving the mandatory “family name” column blank on every school and official form was hardly simple.
Perhaps she herself did not fully know whether she chose that new surname to preserve the memory of a great historical upheaval in her country — or merely to give a title to her own private grief. At the time of Shanti’s birth she was barely twenty-three, having completed a Master’s degree in History just a year earlier. Many mothers and children like Shanti were quietly absorbed back into families as though nothing had happened. Others filled orphanages; some were adopted into affluent foreign households. In contrast, Shanti’s mother moved to a new city with her daughter and took a lecturer’s position at a college. In that too, Shanti’s life was an exception — her mother never concealed the circumstances of her birth.
“She is God’s gift,” she would say. “So what if instead of Dev Datta she became Allah Ditta?”
At school, where some children were Hindu and most were Muslim, her mother taught her a sentence to repeat whenever questions arose. In her lisping childhood pride, between broken milk teeth, she would declare:
“Ami itihasher meye.”
(I am the daughter of history.)
After completing twelfth grade and entering medical college, Shanti once asked her mother:
“Did it hurt when you gave birth to me?”
“Yes. It did. It hurts for everyone. Do you know why?”
“Why?”
“It is the price every mother pays for her child to stand upright and walk. We humans are not four-legged creatures. Our hips are narrow. Of course it hurts. Now you must stand straight, Shanti. Do not stop. Keep walking. Promise me.”
“I promise, Ma.”
Five years contain 1,826 days — and as many nights. Shanti Allah Ditta and her mother counted them one by one. She became a qualified medical doctor; her mother, a professor of history. A painful yet resolute beginning — a successful culmination.
Human meetings, too, are accidents of circumstance. Had Shanti not come to Australia for specialist training, we would never have met, and I would never have known her story. Large grey eyes, luminous wheat-coloured skin; a quiet voice and measured speech that suggested depth rather than hesitation. We studied in the same medical school and became close friends. She had no intention of going further, so despite desire, I never asked.
She wished to specialise in gynecology — and she did.
“An unmarried gynecologist,” I would tease.
She would smile softly.
“One day,” she said suddenly, “I want to become a mother.”
“With me?” I asked.
“No. To someone unknown. Someone without a record.”
“Don’t be reckless. You know what women endure.”
“Yes,” she replied. “But I want to understand what my mother endured. You know… I am the daughter of history.”
When she returned to her country, her test was positive.
Twenty years have passed. Our contact remains; our friendship, just as deep. Her son, Suresh Allah Ditta, is grown now. A few months ago he came to my Australian city to study engineering. We meet every other weekend.
Today we are on the same flight to Rajshahi — Shanti’s hometown — but with heavy hearts. Her mother passed away a few days ago. I regret not meeting her while she lived, but I will be present with Shanti and Suresh as we consign her ashes to the Padma River.
There is another development. A few weeks before her mother’s death — after educating her son and securing his admission to an engineering university here at her own expense — Shanti asked whether we might spend the rest of our lives together. We have not told Suresh yet. There is no hurry. Let him grow accustomed to me for a year or two more.
In the past day or two I have also wondered whether the man biologically responsible for Shanti’s existence is already dead — or will die in the coming years. Beyond our small human universes… what will Allah do with that “Allah Ditta”? I do not know. But I do know this: the promise Shanti made long ago — to stand upright and keep walking — she has fulfilled.
Riaz Akber
Canberra - Australia
Her mother had been among a few hundred thousand women who, during the chaos in their country, were assaulted against their will and became pregnant. Shanti herself was one among the fifty or sixty thousand children whose mothers, for whatever reason, could not undergo abortion after such pregnancies.
When she came to Australia, even her name struck me as unusual — Shanti Allah Ditta.
The reason her mother had given for that name was both tender and unsettling at different stages of Shanti’s life. Her mother was Hindu. The men who violated her were Muslim soldiers from across the western sea — men whose names she never knew. It was impossible to determine which one was biologically responsible for Shanti’s existence. So “Allah Ditta” was a surname her mother invented herself. What else could she have done? Leaving the mandatory “family name” column blank on every school and official form was hardly simple.
Perhaps she herself did not fully know whether she chose that new surname to preserve the memory of a great historical upheaval in her country — or merely to give a title to her own private grief. At the time of Shanti’s birth she was barely twenty-three, having completed a Master’s degree in History just a year earlier. Many mothers and children like Shanti were quietly absorbed back into families as though nothing had happened. Others filled orphanages; some were adopted into affluent foreign households. In contrast, Shanti’s mother moved to a new city with her daughter and took a lecturer’s position at a college. In that too, Shanti’s life was an exception — her mother never concealed the circumstances of her birth.
“She is God’s gift,” she would say. “So what if instead of Dev Datta she became Allah Ditta?”
At school, where some children were Hindu and most were Muslim, her mother taught her a sentence to repeat whenever questions arose. In her lisping childhood pride, between broken milk teeth, she would declare:
“Ami itihasher meye.”
(I am the daughter of history.)
After completing twelfth grade and entering medical college, Shanti once asked her mother:
“Did it hurt when you gave birth to me?”
“Yes. It did. It hurts for everyone. Do you know why?”
“Why?”
“It is the price every mother pays for her child to stand upright and walk. We humans are not four-legged creatures. Our hips are narrow. Of course it hurts. Now you must stand straight, Shanti. Do not stop. Keep walking. Promise me.”
“I promise, Ma.”
Five years contain 1,826 days — and as many nights. Shanti Allah Ditta and her mother counted them one by one. She became a qualified medical doctor; her mother, a professor of history. A painful yet resolute beginning — a successful culmination.
Human meetings, too, are accidents of circumstance. Had Shanti not come to Australia for specialist training, we would never have met, and I would never have known her story. Large grey eyes, luminous wheat-coloured skin; a quiet voice and measured speech that suggested depth rather than hesitation. We studied in the same medical school and became close friends. She had no intention of going further, so despite desire, I never asked.
She wished to specialise in gynecology — and she did.
“An unmarried gynecologist,” I would tease.
She would smile softly.
“One day,” she said suddenly, “I want to become a mother.”
“With me?” I asked.
“No. To someone unknown. Someone without a record.”
“Don’t be reckless. You know what women endure.”
“Yes,” she replied. “But I want to understand what my mother endured. You know… I am the daughter of history.”
When she returned to her country, her test was positive.
Twenty years have passed. Our contact remains; our friendship, just as deep. Her son, Suresh Allah Ditta, is grown now. A few months ago he came to my Australian city to study engineering. We meet every other weekend.
Today we are on the same flight to Rajshahi — Shanti’s hometown — but with heavy hearts. Her mother passed away a few days ago. I regret not meeting her while she lived, but I will be present with Shanti and Suresh as we consign her ashes to the Padma River.
There is another development. A few weeks before her mother’s death — after educating her son and securing his admission to an engineering university here at her own expense — Shanti asked whether we might spend the rest of our lives together. We have not told Suresh yet. There is no hurry. Let him grow accustomed to me for a year or two more.
In the past day or two I have also wondered whether the man biologically responsible for Shanti’s existence is already dead — or will die in the coming years. Beyond our small human universes… what will Allah do with that “Allah Ditta”? I do not know. But I do know this: the promise Shanti made long ago — to stand upright and keep walking — she has fulfilled.
Riaz Akber
Canberra - Australia