Ganja’s Tanga — A Memory Carriage
گنجے کا ٹانگہ
गंजे का ताँगा
Riaz Akber
8 Dec 2025
گزشتہ دنوں وقت کے کچھ ایسے دریچے وا ہوئے کہ دہائیوں پرانی ایک یاد ملتان کی گلیوں سے اٹھ کر یہاں کینبرا میں میرے گھر تک چلی آئی۔
یہ 1950 کی دہائی کی بات ہے جب میں اور مجھ سے بڑی بہن ٹانگے پر سکول آتے جاتے تھے۔ صبح تختی، بستہ اور دوات سنبھالے ہم دونوں روز انہی جانی پہچانی گلیوں سے گزرتے۔ وہی سرکاری نلکے پر گھڑوں اور بالٹیوں کی قطار، گوالے کے گھر کی وہ دیوار جو بنیاد سے چھت تک با ترتیب اپلوں سے مزین ہوتی، اور گلی کے بیچوں بیچ بہتی نکاسی کی وہ نالیاں جنہیں بلدیہ کا کوئی ملازم کچھ ہی دیر پہلے صاف کر کے گیا ہوتا۔
اسی طرح کی اونچی نیچی، تنگ و کشادہ گلیوں سے مڑتے ہوئے ہمیں ٹانگہ ہمیشہ مسز ڈین کے گھر کے قریب کھڑا ملتا۔ مسز ڈین وہی نرس تھیں جو میری پیدائش کے وقت امی کے پاس تھیں۔ ان کا بیٹا جوزف میرا کلاس فیلو تھا اور بیٹی اینجلا میری بہن کی۔
سکول کی دیواریں اونچی تھیں۔ چھٹی کی گھنٹی کے بعد چوکیدار باہر ٹانگہ دیکھ کر ہانک لگاتا، اور اندر مائی چھوٹے گیٹ کی کنڈی کھول کر اس ٹانگے کے بچوں کو جانے دیتی۔
'چلو بھئی گنجے کا ٹانگہ'، یہ ہمارے جانے کی باری کا اعلان ہوتا۔
یقیناً اسے یہ نام اس کے گھر والوں نے نہیں دیا ہوگا۔ مگر اپنی ادھیڑ عمر میں سر کے بال کم ہونے کی بنا پر وہ ٹانگےوالا اسی نام سے پہچانا جاتا۔ پچھلے پائیدان سے گھوڑے کی دم تک پندھرہ سے بیس بچوں کی تہہ بٹھانے کے بعد گنجا ہمیں واپس مسز ڈین کے گھر کے سامنے چھوڑ دیتا۔
کوئی چار پانچ برس تک یہ سلسلہ چلا۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ گنجے کا ٹانگہ سیاہ، بے داغ اور روغنی رہتا جس پر پیتل کے ٹکڑوں کی چمکتی ہوئی گلکاری اسے اور بھی شاندار بناتی۔ گھوڑا ہمیشہ سفید اور سجا ہوا۔ لگام پر پھول اور گھنگرو، چھانٹے پر پھول، جسے وہ کبھی کبھار گھوڑے پر پیار سے رکھ دیتا۔ گھوڑے کے کانوں کے درمیان چمڑے کی پٹی پر سرخ رنگ کی کلغی تھی۔ اسکے ماتھے پر وہ ایک جھومر بھی پہناتا، جو سنا تھا کہ اصلی چاندی کا ہے۔ گنجے کی آواز 'ہٹ رہوپ، بچ رہوپ' سکول اور گھر میں ہم خوب نقل کرتے۔ یہاں تک کہ وہ برسوں تک ہماری روزمرہ کا حصہ رہی۔
سال بیت گئے اور میں ہائی سکول میں آگیا۔ اب میں ملیشیا کی یونیفارم میں دوستوں کے ساتھ پیدل سکول جاتا۔ راستہ دور تک پرائمری سکول والی سڑک سے مشترک تھا۔ اور اکثر گنجے کا ٹانگہ گزرنے پر میں اپنے پرائمری سکول کا وقت یاد کرتا۔
گنجا صرف دوبار بچوں کو سکول تک پہنچانے ہی کا کام کرتا تھا۔ ہاں سردیوں کے دنوں میں وہ ہمارے دوپہر کے کھانے کے ٹفن بھی پہنچاتا۔ اور کوئی سواری نہیں۔ وہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ ہم نےاسے کبھی ناراض نہیں دیکھا۔ وہ کبھی دیر سے نہیں آیا۔
سنا تھا کہ کبھی گنجے کی شادی ہوئی تھی۔ اسکی بیوی بچے کی پیدائش پر مر گئی، اور وہ بچہ بھی۔ بچپن میں تو یہ محلے کے بڑوں کی باتوں میں سنی ہوئی ایک دھندلی سی خبر تھی۔ جب خود بڑا ہوا تو اندازہ ہوا کہ گنجا مسکراتا ضرور تھا، مگر اس کی زندگی کی ترتیب میں ایک ایسی خاموش اور اداس ٹوٹ پھوٹ بھی تھی جسے ہم بچے سمجھ نہ سکے۔
'ہٹ رہوپ بچ رہوپ' سکول کے بچو۔
جیسے وہ آج بھی ہمیں زندگی کی راہوں پہ سنبھل کے چلنے کا اشارا دیتا ہو۔
'جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلائو ہے'
ریاض اکبر
یہ 1950 کی دہائی کی بات ہے جب میں اور مجھ سے بڑی بہن ٹانگے پر سکول آتے جاتے تھے۔ صبح تختی، بستہ اور دوات سنبھالے ہم دونوں روز انہی جانی پہچانی گلیوں سے گزرتے۔ وہی سرکاری نلکے پر گھڑوں اور بالٹیوں کی قطار، گوالے کے گھر کی وہ دیوار جو بنیاد سے چھت تک با ترتیب اپلوں سے مزین ہوتی، اور گلی کے بیچوں بیچ بہتی نکاسی کی وہ نالیاں جنہیں بلدیہ کا کوئی ملازم کچھ ہی دیر پہلے صاف کر کے گیا ہوتا۔
اسی طرح کی اونچی نیچی، تنگ و کشادہ گلیوں سے مڑتے ہوئے ہمیں ٹانگہ ہمیشہ مسز ڈین کے گھر کے قریب کھڑا ملتا۔ مسز ڈین وہی نرس تھیں جو میری پیدائش کے وقت امی کے پاس تھیں۔ ان کا بیٹا جوزف میرا کلاس فیلو تھا اور بیٹی اینجلا میری بہن کی۔
سکول کی دیواریں اونچی تھیں۔ چھٹی کی گھنٹی کے بعد چوکیدار باہر ٹانگہ دیکھ کر ہانک لگاتا، اور اندر مائی چھوٹے گیٹ کی کنڈی کھول کر اس ٹانگے کے بچوں کو جانے دیتی۔
'چلو بھئی گنجے کا ٹانگہ'، یہ ہمارے جانے کی باری کا اعلان ہوتا۔
یقیناً اسے یہ نام اس کے گھر والوں نے نہیں دیا ہوگا۔ مگر اپنی ادھیڑ عمر میں سر کے بال کم ہونے کی بنا پر وہ ٹانگےوالا اسی نام سے پہچانا جاتا۔ پچھلے پائیدان سے گھوڑے کی دم تک پندھرہ سے بیس بچوں کی تہہ بٹھانے کے بعد گنجا ہمیں واپس مسز ڈین کے گھر کے سامنے چھوڑ دیتا۔
کوئی چار پانچ برس تک یہ سلسلہ چلا۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔ گنجے کا ٹانگہ سیاہ، بے داغ اور روغنی رہتا جس پر پیتل کے ٹکڑوں کی چمکتی ہوئی گلکاری اسے اور بھی شاندار بناتی۔ گھوڑا ہمیشہ سفید اور سجا ہوا۔ لگام پر پھول اور گھنگرو، چھانٹے پر پھول، جسے وہ کبھی کبھار گھوڑے پر پیار سے رکھ دیتا۔ گھوڑے کے کانوں کے درمیان چمڑے کی پٹی پر سرخ رنگ کی کلغی تھی۔ اسکے ماتھے پر وہ ایک جھومر بھی پہناتا، جو سنا تھا کہ اصلی چاندی کا ہے۔ گنجے کی آواز 'ہٹ رہوپ، بچ رہوپ' سکول اور گھر میں ہم خوب نقل کرتے۔ یہاں تک کہ وہ برسوں تک ہماری روزمرہ کا حصہ رہی۔
سال بیت گئے اور میں ہائی سکول میں آگیا۔ اب میں ملیشیا کی یونیفارم میں دوستوں کے ساتھ پیدل سکول جاتا۔ راستہ دور تک پرائمری سکول والی سڑک سے مشترک تھا۔ اور اکثر گنجے کا ٹانگہ گزرنے پر میں اپنے پرائمری سکول کا وقت یاد کرتا۔
گنجا صرف دوبار بچوں کو سکول تک پہنچانے ہی کا کام کرتا تھا۔ ہاں سردیوں کے دنوں میں وہ ہمارے دوپہر کے کھانے کے ٹفن بھی پہنچاتا۔ اور کوئی سواری نہیں۔ وہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ ہم نےاسے کبھی ناراض نہیں دیکھا۔ وہ کبھی دیر سے نہیں آیا۔
سنا تھا کہ کبھی گنجے کی شادی ہوئی تھی۔ اسکی بیوی بچے کی پیدائش پر مر گئی، اور وہ بچہ بھی۔ بچپن میں تو یہ محلے کے بڑوں کی باتوں میں سنی ہوئی ایک دھندلی سی خبر تھی۔ جب خود بڑا ہوا تو اندازہ ہوا کہ گنجا مسکراتا ضرور تھا، مگر اس کی زندگی کی ترتیب میں ایک ایسی خاموش اور اداس ٹوٹ پھوٹ بھی تھی جسے ہم بچے سمجھ نہ سکے۔
'ہٹ رہوپ بچ رہوپ' سکول کے بچو۔
جیسے وہ آج بھی ہمیں زندگی کی راہوں پہ سنبھل کے چلنے کا اشارا دیتا ہو۔
'جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلائو ہے'
ریاض اکبر
कुछ दिनों पहले, जाने कैसे समय के कुछ दरवाज़े यूँ खुल गये कि दशकों पुरानी एक याद मुल्तान की गलियों से उठकर यहाँ कैनबरा में मेरे घर तक चली आई।
यह बात 1950 के दशक की है, जब मैं और मुझसे बड़ी बहन रोज़ ताँगे में बैठकर स्कूल आते–जाते थे। सुबह की ठंडी हवा में, हाथ में पकड़ी तख्ती, बस्ता और दवात सँभाले, हम उन्हीं पहचानी-पहचानी गलियों से गुज़रते। वही सरकारी नल पर घड़ों और बाल्टियों की कतारें, ग्वाले के घर की दीवार जो नीचे से छत तक सलीके से लगे उपलों से सजी होती, और गली के बीचों-बीच बहती निकासी की पतली नालियाँ — जिन्हें कोई नगरपालिका का कर्मचारी थोड़ी देर पहले ही साफ़ करके गया होता।
इन्हीं ऊँची-नीची, कभी चौड़ी कभी सँकरी गलियों से मुड़ते हुए, हमें ताँगा हमेशा मिसेज़ डीन के घर के पास खड़ा मिलता। मिसेज़ डीन वही नर्स थीं जो मेरी पैदाइश के समय माँ के साथ थीं। उनका बेटा जोज़ेफ़ मेरा सहपाठी था और बेटी एंजेला मेरी बहन की।
स्कूल की दीवारें ऊँची थीं। छुट्टी की घंटी बजते ही चौकीदार बाहर ताँगा देखकर आवाज़ लगाता और भीतर बैठी "माई" छोटा फाटक खोलकर उस ताँगे के बच्चों को जाने देती।
“चलो भई, गंजे का ताँगा!” — यह हमारी बारी का ऐलान होता।
यक़ीनन यह नाम उसे घरवालों ने नहीं दिया होगा, पर अधेड़ उम्र में सिर के बाल कम हो जाने के कारण वह पूरे मुहल्ले में इसी नाम से जाना जाता। पीछे के पायदान से लेकर घोड़े की पूँछ तक पन्द्रह-बीस बच्चों की परतें बिठाने के बाद गंजा हमें वापस मिसेज़ डीन के घर के सामने उतार देता।
चार–पाँच साल तक यही सिलसिला चला। कुछ भी नहीं बदला। गंजे का ताँगा हमेशा चमकदार काले रंग का, बिल्कुल साफ़-सुथरा और तेल लगे लकड़ी के फर्श वाला रहता, जिस पर पीतल की सजावट उसे और भी ख़ूबसूरत बनाती। उसका घोड़ा हमेशा सफ़ेद और सजा-धजा रहता—लगाम पर फूल और घंटियाँ, चाबुक पर भी फूल, जिसे वह कभी-कभार घोड़े की पीठ पर प्यार से रख देता। घोड़े के कानों के बीच चमड़े की पट्टी में लाल कलगी लगी होती, और माथे पर वह एक छोटा झूमर पहनाता, जिसके बारे में कहते थे कि वह असली चाँदी का है।
स्कूल और घर में उसकी आवाज़—“हट रहोप, बच रहोप!”—हम बच्चे बड़े चाव से नकल किया करते। यहाँ तक कि वह आवाज़ वर्षों तक हमारी दिनचर्या का हिस्सा बनी रही।
समय बीतता गया और मैं हाई स्कूल में पहुँच गया। अब मैं खाकी यूनिफ़ॉर्म पहनकर दोस्तों के साथ पैदल स्कूल जाता। रास्ता काफ़ी दूर तक उसी पुराने प्राथमिक स्कूल वाली सड़क से मिलता था और अक्सर गंजे का ताँगा दिख जाने पर पुरानी यादें उभर आतीं।
गंजा सिर्फ़ बच्चों को स्कूल पहुँचाने का काम करता था। हाँ, सर्दियों में वह हमारे दोपहर के खाने के टिफ़िन भी पहुँचा देता। और कोई सवारी वह नहीं लेता। वह अपने घर में अकेला ही रहता था। न हमने उसे कभी नाराज़ देखा, न कभी देर से आते।
सुना था कि उसकी एक बार शादी हुई थी। उसकी पत्नी बच्चे को जन्म देते समय चल बसी, और वह बच्चा भी। बचपन में यह बात बस बड़ों की बातचीत में सुनी हुई एक धुँधली-सी स्मृति थी। बड़े होने पर लगा कि गंजा मुस्कुराता ज़रूर था, पर उसकी ज़िन्दगी की परतों में एक ख़ामोश और गहरी टूटन भी थी, जिसे हम बच्चे समझ ही नहीं पाए।
“हट रहोप, बच रहोप,” — जैसे वह आज भी हमें ज़िन्दगी की राहों पर संभलकर चलने का इशारा दे रहा हो।
और सच में, जो भी कुछ है… प्रेम का फैलाव ही है।
रियाज़ अकबर
यह बात 1950 के दशक की है, जब मैं और मुझसे बड़ी बहन रोज़ ताँगे में बैठकर स्कूल आते–जाते थे। सुबह की ठंडी हवा में, हाथ में पकड़ी तख्ती, बस्ता और दवात सँभाले, हम उन्हीं पहचानी-पहचानी गलियों से गुज़रते। वही सरकारी नल पर घड़ों और बाल्टियों की कतारें, ग्वाले के घर की दीवार जो नीचे से छत तक सलीके से लगे उपलों से सजी होती, और गली के बीचों-बीच बहती निकासी की पतली नालियाँ — जिन्हें कोई नगरपालिका का कर्मचारी थोड़ी देर पहले ही साफ़ करके गया होता।
इन्हीं ऊँची-नीची, कभी चौड़ी कभी सँकरी गलियों से मुड़ते हुए, हमें ताँगा हमेशा मिसेज़ डीन के घर के पास खड़ा मिलता। मिसेज़ डीन वही नर्स थीं जो मेरी पैदाइश के समय माँ के साथ थीं। उनका बेटा जोज़ेफ़ मेरा सहपाठी था और बेटी एंजेला मेरी बहन की।
स्कूल की दीवारें ऊँची थीं। छुट्टी की घंटी बजते ही चौकीदार बाहर ताँगा देखकर आवाज़ लगाता और भीतर बैठी "माई" छोटा फाटक खोलकर उस ताँगे के बच्चों को जाने देती।
“चलो भई, गंजे का ताँगा!” — यह हमारी बारी का ऐलान होता।
यक़ीनन यह नाम उसे घरवालों ने नहीं दिया होगा, पर अधेड़ उम्र में सिर के बाल कम हो जाने के कारण वह पूरे मुहल्ले में इसी नाम से जाना जाता। पीछे के पायदान से लेकर घोड़े की पूँछ तक पन्द्रह-बीस बच्चों की परतें बिठाने के बाद गंजा हमें वापस मिसेज़ डीन के घर के सामने उतार देता।
चार–पाँच साल तक यही सिलसिला चला। कुछ भी नहीं बदला। गंजे का ताँगा हमेशा चमकदार काले रंग का, बिल्कुल साफ़-सुथरा और तेल लगे लकड़ी के फर्श वाला रहता, जिस पर पीतल की सजावट उसे और भी ख़ूबसूरत बनाती। उसका घोड़ा हमेशा सफ़ेद और सजा-धजा रहता—लगाम पर फूल और घंटियाँ, चाबुक पर भी फूल, जिसे वह कभी-कभार घोड़े की पीठ पर प्यार से रख देता। घोड़े के कानों के बीच चमड़े की पट्टी में लाल कलगी लगी होती, और माथे पर वह एक छोटा झूमर पहनाता, जिसके बारे में कहते थे कि वह असली चाँदी का है।
स्कूल और घर में उसकी आवाज़—“हट रहोप, बच रहोप!”—हम बच्चे बड़े चाव से नकल किया करते। यहाँ तक कि वह आवाज़ वर्षों तक हमारी दिनचर्या का हिस्सा बनी रही।
समय बीतता गया और मैं हाई स्कूल में पहुँच गया। अब मैं खाकी यूनिफ़ॉर्म पहनकर दोस्तों के साथ पैदल स्कूल जाता। रास्ता काफ़ी दूर तक उसी पुराने प्राथमिक स्कूल वाली सड़क से मिलता था और अक्सर गंजे का ताँगा दिख जाने पर पुरानी यादें उभर आतीं।
गंजा सिर्फ़ बच्चों को स्कूल पहुँचाने का काम करता था। हाँ, सर्दियों में वह हमारे दोपहर के खाने के टिफ़िन भी पहुँचा देता। और कोई सवारी वह नहीं लेता। वह अपने घर में अकेला ही रहता था। न हमने उसे कभी नाराज़ देखा, न कभी देर से आते।
सुना था कि उसकी एक बार शादी हुई थी। उसकी पत्नी बच्चे को जन्म देते समय चल बसी, और वह बच्चा भी। बचपन में यह बात बस बड़ों की बातचीत में सुनी हुई एक धुँधली-सी स्मृति थी। बड़े होने पर लगा कि गंजा मुस्कुराता ज़रूर था, पर उसकी ज़िन्दगी की परतों में एक ख़ामोश और गहरी टूटन भी थी, जिसे हम बच्चे समझ ही नहीं पाए।
“हट रहोप, बच रहोप,” — जैसे वह आज भी हमें ज़िन्दगी की राहों पर संभलकर चलने का इशारा दे रहा हो।
और सच में, जो भी कुछ है… प्रेम का फैलाव ही है।
रियाज़ अकबर
A few days ago, something as simple as an online post about horse-carriages opened a small window in time. And through that window slipped a memory—one that rose from the dusty lanes of Multan and travelled all the way here, to my home in Canberra.
It was the 1950s. My elder sister and I went to school every day in a tanga, a horse-drawn carriage that felt as much a part of our childhood as our slates, satchels, and inkpots. Each morning we passed through those familiar neighbourhood streets: the government water tap with its line of clay pots and metal buckets; the milkman’s wall neatly tiled with cow-dung cakes from ground to roof; and the narrow drainage channels running down the centre of the street—freshly cleaned, usually just moments before we arrived.
After weaving through a maze of wide and narrow lanes, the tanga would be waiting near Mrs Dean’s house. Mrs Dean had been the nurse at the time of my birth. Her son Joseph was in my class, and her daughter Angela in my sister’s.
The school walls were high. When the dismissal bell rang, the gatekeeper would step out, glance at the waiting carriage, and call out. Inside, an elderly woman would unbolt a small gate and send off the group of children assigned to that tanga.
“Come on, it’s Ganja’s tanga!”
That was our cue.
Of course, “Ganja”—baldy—was not his real name. But by middle age his thinning hair had made the nickname stick, and no one in the neighbourhood called him anything else. After packing fifteen to twenty children from the rear step right up to the horse’s tail, he would take us safely back to Mrs Dean’s house.
For four or five years, nothing changed. His tanga was always jet-black, polished, spotless, dressed with bright brass decorations. His horse was always white—groomed, garlanded, and almost festive, with flowers on the reins, bells that chimed gently as it trotted, a red plume between its ears, and a small silver ornament on its forehead that, people said, was real silver.
We children imitated his calls—“Hut rehōp! Bach rehōp!”—(be on side - be safe) both at home and at school. Those sounds became part of our everyday rhythm.
Years passed, and I moved on to high school. In my khaki uniform I now walked to school with friends, following the same stretch of road that led to my old primary school. Whenever Ganja’s tanga rattled past, memories rose like warm breath on a winter morning.
Ganja’s life was simple. He carried only schoolchildren—no other passengers. In winter he even delivered our lunch tiffins. He lived alone. We never saw him angry, never saw him late. I had heard grown-ups whisper that he had been married. His wife had died giving birth to their child—and the baby had not survived either. As a child I had only half-understood this story. Later, as I grew older, I realised that although he always smiled, there was a quiet ruin somewhere in the pattern of his life—something we children had never grasped.
“Hut rehōp! Bach rehōp!”
Even today it feels as if he is calling out to us—reminding us to walk carefully through the lanes of life.
For in the end, whatever survives… spreads from the simple generosity of the heart.
Riaz Akber
It was the 1950s. My elder sister and I went to school every day in a tanga, a horse-drawn carriage that felt as much a part of our childhood as our slates, satchels, and inkpots. Each morning we passed through those familiar neighbourhood streets: the government water tap with its line of clay pots and metal buckets; the milkman’s wall neatly tiled with cow-dung cakes from ground to roof; and the narrow drainage channels running down the centre of the street—freshly cleaned, usually just moments before we arrived.
After weaving through a maze of wide and narrow lanes, the tanga would be waiting near Mrs Dean’s house. Mrs Dean had been the nurse at the time of my birth. Her son Joseph was in my class, and her daughter Angela in my sister’s.
The school walls were high. When the dismissal bell rang, the gatekeeper would step out, glance at the waiting carriage, and call out. Inside, an elderly woman would unbolt a small gate and send off the group of children assigned to that tanga.
“Come on, it’s Ganja’s tanga!”
That was our cue.
Of course, “Ganja”—baldy—was not his real name. But by middle age his thinning hair had made the nickname stick, and no one in the neighbourhood called him anything else. After packing fifteen to twenty children from the rear step right up to the horse’s tail, he would take us safely back to Mrs Dean’s house.
For four or five years, nothing changed. His tanga was always jet-black, polished, spotless, dressed with bright brass decorations. His horse was always white—groomed, garlanded, and almost festive, with flowers on the reins, bells that chimed gently as it trotted, a red plume between its ears, and a small silver ornament on its forehead that, people said, was real silver.
We children imitated his calls—“Hut rehōp! Bach rehōp!”—(be on side - be safe) both at home and at school. Those sounds became part of our everyday rhythm.
Years passed, and I moved on to high school. In my khaki uniform I now walked to school with friends, following the same stretch of road that led to my old primary school. Whenever Ganja’s tanga rattled past, memories rose like warm breath on a winter morning.
Ganja’s life was simple. He carried only schoolchildren—no other passengers. In winter he even delivered our lunch tiffins. He lived alone. We never saw him angry, never saw him late. I had heard grown-ups whisper that he had been married. His wife had died giving birth to their child—and the baby had not survived either. As a child I had only half-understood this story. Later, as I grew older, I realised that although he always smiled, there was a quiet ruin somewhere in the pattern of his life—something we children had never grasped.
“Hut rehōp! Bach rehōp!”
Even today it feels as if he is calling out to us—reminding us to walk carefully through the lanes of life.
For in the end, whatever survives… spreads from the simple generosity of the heart.
Riaz Akber