سب سمجھتے تھے کہ ناصر شیخ صاحب کے کاروباری کل پرزوں میں سے اندراکانت اگروال اگر منہا ہو گئے تو گاڑی مشکل سے چلے گی۔ جے پور کے بگرو انڈسٹریل ایریا میں شیخ صاحب کے دو گودام تھے۔ یہاں کنڈلا پورٹ اور مندرا پورٹ سے آئے ہوئے کنٹینر کھلتے۔ سامان کی جانچ ہوتی اور پھر گتے کے چھوٹے ڈبوں میں ڈھنگ سے بند کرنے کے بعد اسے مارکیٹ میں نکال دیا جاتا۔ ذرا تفصیل میں جائیں تو کاروبار میں سے اندازاً صرف ایک چوتھائی کا دارومدار بڑی ریٹیلر کمپنیوں کے لئے پیکیجنگ جیسے سیدھے کام پر تھا۔ زیادہ آمدنی پورٹ پر کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے ضبط کئے ہوئے مال کی نیلامی میں بولی لگانے اور حاصل ہونے پر اسے آگے مارکیٹ میں فروخت کرنے سے ہوتی۔ اندراکانت دراصل اسی کام کے ماہر تھے۔ کون سا مال اٹھانا ہے؟ نیلامی کی بولی کہاں تک لگائی جائے؟ آگے کھپت دیس کے کن بازاروں کے کون سے دکانداروں میں ہوگی؟ پلک جھپکتے میں وہ ان سوالوں کا تجزیہ کر کے عمل میں مصروف ہو جاتے۔ شاید ان کے ذہن کی ساخت ہی ایسی تھی جو کئی معاملات کو بیک وقت سوچنے پر نہیں تھکتی۔ ہفتے کے پانچ دن صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ان کا فون کھلا رہتا، سب باتیں زبانی ہوتیں اور وہ بھولے بغیر گودام مینیجر کو مال پیک کرکے سپلائی کرنے کی ہدایات دیتے۔ اس کے علاوہ اندراکانت مہینے میں دو بار کنڈلا اور مندرا کسٹم نیلامی پر بولی لگانے کے لئے بھی جاتے۔

دوسری طرف گوداموں کے رکھ رکھاؤ کا کام براہِ راست شیخ صاحب کے زیرِ نگرانی تھا۔ اس کے علاوہ وہ پیسے کے لین دین، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، چھٹی، اور اوور ٹائم کا حساب کتاب بھی رکھتے۔ مجموعی طور پر وہ ایک بزرگانہ سی مشفقانہ سرپرستی کے انداز والے ایسے کم گو انسان تھے جو سٹاف سے ان کی کارکردگی سے زیادہ گھر بار کی خیر خیریت پوچھنے کو اپنی کاروباری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ہاں کبھی کبھار جب کسی سودے میں اونچ نیچ آ جاتی تو بتا بھی دیتے، مگر کام ایسا چل رہا تھا کہ سہ ماہی کے حساب میں شاید ہی کبھی خسارے کا سامنا ہوا ہو۔ شیخ صاحب اور ان کی دیکھا دیکھی گودام کا سب سٹاف بھی اندراکانت کا سواگت 'آئیے بھائی' کہہ کر کرتا۔ یہ 'آئیے' کا لفظ شیخ صاحب نے اس کے نام کے پہلے حرفوں 'آئی' اور 'اے' سے تراشا تھا۔ اندراکانت مالک کے گھر جانے سے پہلے گودام چھوڑنے کو اپنی نوکری کے اصول کے خلاف مانتے تھے۔ ادھر شیخ صاحب کو بھی اندراکانت پر بہت اعتماد تھا۔ اکثر شام کو کام کے بعد پکارتے،
'آئیے بھائی ۔۔۔ ہو جائے کوئی چائے وائے'۔
پھر دونوں گودام سے کچھ دور ایک دکان پر دودھ الائچی کی چائے اور ساتھ کبھی سموسے یا مٹھائی پر کچھ کاروبار، کچھ سٹاف، اور باقی ادھر ادھر کی باتیں کر کے اپنے گھروں کو روانہ ہوتے۔

آئیے بھائی کو گودام میں ہنسی خوشی کام کرتے پچیس برس سے کچھ اوپر ہو گئے تھے جب انہوں نے جیسے اچانک ہی جے پور چھوڑ کر دلی میں جا کر رہنے کا فیصلہ کیا۔ شاید وہ نہ ہی جاتے مگر حالات بدل رہے تھے۔ ان کے بیٹے نے یہیں جے پور سے میڈیکل کی ڈگری لی تھی مگر پکی ملازمت اسے دلی میں ملی تھی۔ آئیے بھائی کی بیوی بھی کچھ بیمار رہنے لگی تھیں اور، بقول ان کے، بیٹے کا اصرار تھا کہ آتے بڑھاپے میں علاج معالجے اور نگہداشت کے لئے اس کے قریب ہی کہیں منتقل ہو جائیں۔ لیکن نوکری چھوڑنے کے اس فیصلے کے پیچھے ایک دوسری بڑی وجہ بھی تھی جو وہ کسی سے کہہ نہیں پا رہے تھے۔ اور وہ تھی گودام کے انتظامی ماحول میں آتی ہوئی تبدیلیاں۔ دراصل شیخ صاحب کے بچے بھی بڑے ہو رہے تھے اور گودام کے کاروبار میں ان کے عمل دخل کا بڑھنا وقت کا تقاضا تھا۔ مگر اس کے ساتھ کاروباری حکمتِ عملی کے طور طریقوں کا انوکھے ہو جانا، یہ بات آئیے بھائی کی سمجھ سے بالا تھی۔ انہیں کچھ یقین سا تھا کہ اس اکیسویں صدی میں لوگ مشینی ہوتے جا رہے ہیں۔ صنعتی کارکردگی کے اصولوں میں روپیہ اور وسائل کی بچت کو پہلے سوچتے ہیں اور انسانوں کو بعد میں۔ ان کے نزدیک یہ پاپ تھا اور اپنے کام میں یہ بات انہیں گوارا نہیں تھی۔

آئیے بھائی کی سوچ کو تقویت دینے والی باتیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں تھیں۔ مثلاً دو سال پہلے تک شیخ صاحب کا دفتر گودام کے باہر کے گیٹ سے جڑے ہوئے کمرے میں تھا۔ اکثر صبح شفٹ شروع ہونے کے ساتھ ہی وہ کھڑکی میں آ کھڑے ہوتے۔ کسی کے سر پہ ہاتھ رکھتے، کسی کا کندھا تھپتپاتے اور ان کے پاس کھڑا ٹائم کیپر سٹاف کے نام کے آگے حاضری کا وقت نوٹ کرتا جاتا۔ عید ہو یا دیوالی دونوں موقعوں ہر ایک کے لئے ایک جوڑا سلوانے کے کپڑے شیخ صاحب اسی کھڑکی سے ہاتھ بڑھا کر پکڑاتے اور دعا دیتے۔ مگر اب وہ بات نہیں تھی۔ سٹاف کے آنے جانے کا دروازہ اب ایک کارڈ کو مشین سے چھونے پر کھلتا اور حاضری کے اوقات وہیں سے خود بخود کمپیوٹر میں درج ہو جاتے۔ اسی طرح تہوار پر ہاتھ سے جوڑے اور دعا دینے کی بجائے ایک دن کی فالتو تنخواہ بینک میں جانے لگی تھی۔ اس سے بڑی بات یہ کہ نیلامی کے سامان کا دھندا اب آئیے بھائی کی بجائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے جڑا ایک ماڈل چلانے لگا تھا۔ پورے ملک کے بازاروں میں دکانداروں کے نام پتے، بکاؤ مال کی کمی بیشی اور مانگ، کسٹم کی نیلامیوں کی تفصیلات سب کسی طرح سے اے-آئ اور اس ماڈل کو معلوم ہو جاتیں۔ وہ چند لمحوں میں حساب کتاب کر کے کمپیوٹر کی اسکرین پر خریدے جانے والے مال کی فہرست دکھا دیتا، اور یہ بھی بتا دیتا کہ کس مال پر حد سے حد کتنی بولی لگانی ہے۔ آئیے بھائی کو اب ہر پندھرواڑے کنڈلا یا مندرا پورٹ کے سفر کی ضرورت تھی نہ دکانداروں کو فون کرنے اور گودام مینیجر کو پیکنگ کی ہدایات جاری کرنے کی۔ کاروبار میں سب کچھ آن لائن ہو گیا تھا۔ سو ایسے میں وہ اپنے آپ کو مشین کا ایک فالتو پرزہ سمجھنے میں حق بجانب ہی تھے۔

آئیے بھائی کا ملازمت چھوڑ کر جانا اداسی کی بات تھی۔ ایک بڑی تقریب میں دعائوں اور کچھ آنسوئوں کے درمیان انہیں رخصت کیا گیا۔ مگر اتنا کچھ مشینی ہو جانے کے باوجود بھی ایک عجیب بات یہ ہوئی ہے کہ کاروبار چل رہا ہے اور سٹاف بھی خوش ہے۔ لنچ کا بریک آدھے گھنٹے سے بڑھ کر ایک گھنٹہ ہو گیا ہے۔ کامن روم میں کھانے کی میز کرسیوں کے ساتھ اب ایک ٹی وی اور ٹیبل ٹینس کی میز بھی آ گئی ہیں اور باہر لان میں والی بال کا نیٹ۔ ہر تین مہینے بعد دو گھنٹے کا ایک سوشل شو ہوتا ہے جس میں کبھی کوئی سنگر آتا ہے، اور کبھی سرکس کا کرتب، اور ساتھ میں کسی موضوع پر آدھے گھنٹے کا سنجیدہ لیکچر۔ جیسے پچھلا لیکچر گھروں میں سبزیاں اگانے کے بارے میں تھا اور اس سے پہلے کا حفاظتی ٹیکوں سے متعلق۔ پھر شیخ صاحب کے بچوں میں سے کوئی پندرہ منٹ میں گوداموں سے متعلق کوئی بات بتا دیتا ہے۔

دوسری عجیب بات یہ ہے کہ کاروبار کے اس طرح چمکنے کے ساتھ شیخ صاحب خود کچھ بجھ سے گئے ہیں۔ سٹاف سے ان کا ذاتی میل ملاپ اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ مذہبی تو وہ پہلے ہی تھے مگر اب ہر سال دو مرتبہ چالیس روز کے لئے خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر چِلّے کے لئے چلے جاتے ہیں۔ اور وہاں دلی میں ہر شام وہ اور آئیے بھائی مل کر دودھ اور الائچی والی چائے کس دکان پر پیتے ہیں، یہ کسی کو نہیں بتاتے۔

ریاض اکبر
सब समझते थे कि नासिर शेख साहब के व्यापारिक पुर्ज़ों में से अगर इन्द्रकांत अग्रवाल निकल जाएँ तो गाड़ी मुश्किल से चलेगी। जयपुर के बगरू इंडस्ट्रियल एरिया में शेख साहब के दो गोदाम थे। यहाँ कंडला पोर्ट और मुंद्रा पोर्ट से आए हुए कंटेनर खुलते थे। सामान की जाँच होती और फिर गत्ते के छोटे डिब्बों में ठीक तरह से पैक करके बाज़ार में भेज दिया जाता।

ज़रा विस्तार से देखें तो व्यापार का लगभग एक चौथाई हिस्सा बड़ी रिटेलर कंपनियों के लिए पैकेजिंग जैसे सीधे काम पर निर्भर था। असली आमदनी पोर्ट पर कस्टम विभाग द्वारा नीलाम किए गए माल की बोली लगाने और हासिल होने पर उसे आगे बाज़ार में बेचने से होती थी। इन्द्रकांत दरअसल इसी काम के माहिर थे। कौन-सा माल उठाना है? बोली कहाँ तक लगानी है? आगे देश के किन बाज़ारों के किन दुकानदारों में उसकी खपत होगी? पलक झपकते ही वह इन सवालों का विश्लेषण कर लेते और फिर काम में लग जाते। शायद उनके दिमाग़ की बनावट ही ऐसी थी कि वह एक साथ कई बातों पर सोचने से नहीं थकता था। हफ़्ते के पाँच दिन सुबह सात बजे से शाम पाँच बजे तक उनका फ़ोन खुला रहता। सारी बातें ज़ुबानी होतीं और वह बिना भूले गोदाम मैनेजर को माल पैक करके सप्लाई करने के निर्देश दे देते। इसके अलावा इन्द्रकांत महीने में दो बार कंडला और मुंद्रा की कस्टम नीलाम में बोली लगाने भी जाते।

दूसरी तरफ़ गोदामों की देख-रेख का काम सीधे शेख साहब की निगरानी में था। इसके अलावा वह पैसों के लेन-देन, तनख़्वाहों की समय पर अदायगी, छुट्टी और ओवरटाइम का हिसाब भी रखते थे। कुल मिलाकर वह कम बोलने वाले, मगर बुज़ुर्गाना और हमदर्दी भरे अंदाज़ के इंसान थे। उनके लिए स्टाफ़ की कारगुज़ारी से ज़्यादा उनके घर-बार की ख़ैरियत पूछना भी एक कारोबारी ज़िम्मेदारी थी। हाँ, कभी-कभार जब किसी सौदे में ऊँच-नीच हो जाती तो वह बता भी देते, मगर काम ऐसा चल रहा था कि तिमाही हिसाब में शायद ही कभी घाटे का सामना हुआ हो। शेख साहब और उनकी देखा-देखी गोदाम का पूरा स्टाफ़ भी इन्द्रकांत का स्वागत “आईए भाई” कहकर करता। “आईए” शब्द शेख साहब ने उनके नाम के पहले अक्षरों “आई” और “ए” से गढ़ा था।
इन्द्रकांत मालिक के घर जाने से पहले गोदाम छोड़ना अपने उसूल के ख़िलाफ़ समझते थे। उधर शेख साहब को भी इन्द्रकांत पर पूरा भरोसा था। अक्सर शाम को काम के बाद आवाज़ देते,
“आईए भाई… हो जाए कोई चाय-वाय।”
फिर दोनों गोदाम से कुछ दूर एक दुकान पर दूध और इलायची वाली चाय पीते। साथ कभी समोसे या मिठाई भी होती। वहीं बैठकर कुछ व्यापार की बातें होतीं, कुछ स्टाफ़ की और कुछ इधर-उधर की, और फिर दोनों अपने-अपने घरों को रवाना हो जाते।

आईए भाई को गोदाम में हँसी-ख़ुशी काम करते पच्चीस बरस से कुछ ज़्यादा हो गए थे, जब उन्होंने जैसे अचानक ही जयपुर छोड़कर दिल्ली जाकर रहने का फ़ैसला कर लिया। शायद वह न भी जाते, मगर हालात बदल रहे थे। उनके बेटे ने यहीं जयपुर से मेडिकल की डिग्री ली थी, मगर पक्की नौकरी उसे दिल्ली में मिली थी। आईए भाई की बीवी भी कुछ बीमार रहने लगी थीं और उनके बेटे का ज़ोर था कि बढ़ती उम्र में इलाज और देखभाल के लिए वे उसके पास ही आ जाएँ। लेकिन नौकरी छोड़ने के इस फ़ैसले के पीछे एक और वजह भी थी जिसे वह किसी से कह नहीं पा रहे थे। वह थी गोदाम के माहौल में आ रही धीरे-धीरे बदलती हुई बातें। दरअसल शेख साहब के बच्चे बड़े हो रहे थे और व्यापार में उनका दख़ल बढ़ना वक़्त की माँग थी। मगर इसके साथ व्यापार की नई रणनीतियाँ और तौर-तरीक़े आईए भाई की समझ से कुछ परे लगते थे। उन्हें महसूस होने लगा था कि इक्कीसवीं सदी में लोग कुछ ज़्यादा ही मशीन जैसे होते जा रहे हैं। औद्योगिक कार्यक्षमता के उसूलों में पैसे और संसाधनों की बचत पहले सोची जाती है और इंसानों को बाद में। उनके नज़दीक यह बात कुछ पाप जैसी थी और अपने काम में वह इसे मंज़ूर नहीं कर पा रहे थे।

आईए भाई की इस सोच को मज़बूत करने वाली बातें भी छिपी हुई नहीं थीं। दो साल पहले तक शेख साहब का दफ़्तर गोदाम के गेट के पास वाले कमरे में था। सुबह शिफ़्ट शुरू होते ही वह खिड़की पर आ खड़े होते। किसी के सिर पर हाथ रखते, किसी का कंधा थपथपाते और उनके पास खड़ा टाइमकीपर स्टाफ़ के नाम के आगे उपस्थिति का समय लिखता जाता। ईद हो या दिवाली, दोनों मौक़ों पर हर कर्मचारी को नए कपड़े सिलवाने के लिए कपड़े का जोड़ा शेख साहब उसी खिड़की से हाथ बढ़ाकर देते और दुआ भी देते। मगर अब वह बात नहीं रही थी। स्टाफ़ के आने-जाने का दरवाज़ा अब एक कार्ड को मशीन से छुआते ही खुल जाता और उपस्थिति का समय वहीं से अपने-आप कंप्यूटर में दर्ज हो जाता।

इससे भी बड़ी बात यह थी कि नीलाम के माल का व्यापार अब आईए भाई की जगह आर्टिफ़िशियल इंटेलिजेंस से जुड़ा एक मॉडल चलाने लगा था। पूरे देश के बाज़ारों में दुकानदारों के नाम-पते, बिकाऊ माल की कमी-बेशी और माँग, कस्टम की नीलाम की जानकारी सब किसी तरह ए-आई को मिल जाती। वह कुछ ही पलों में हिसाब लगाकर कंप्यूटर की स्क्रीन पर खरीदे जाने वाले माल की सूची दिखा देता और यह भी बता देता कि किस माल पर ज़्यादा से ज़्यादा कितनी बोली लगानी है। अब आईए भाई को हर पंद्रह दिन में कंडला या मुंद्रा जाने की ज़रूरत नहीं रही थी, न दुकानदारों को फ़ोन करने की और न गोदाम मैनेजर को पैकिंग के निर्देश देने की। व्यापार लगभग पूरा का पूरा ऑनलाइन हो गया था। ऐसे में उन्हें अपने-आप को मशीन का एक फ़ालतू पुर्ज़ा समझना ग़लत भी नहीं लगता था।

आईए भाई का नौकरी छोड़कर जाना उदासी की बात थी। एक बड़ी विदाई सभा में दुआओं और कुछ आँसुओं के बीच उन्हें विदा किया गया। मगर अजीब बात यह हुई कि इतना सब कुछ मशीनों पर आ जाने के बावजूद व्यापार चलता रहा और स्टाफ़ भी ख़ुश दिखाई देता था। लंच का ब्रेक आधे घंटे से बढ़कर एक घंटा हो गया था। कॉमन रूम में खाने की मेज़-कुर्सियों के साथ अब एक टेलीविज़न और टेबल टेनिस की मेज़ भी आ गई थी। बाहर लॉन में वॉलीबॉल का नेट लगा था। हर तीन महीने बाद दो घंटे का एक सामाजिक कार्यक्रम भी होने लगा था जिसमें कभी कोई गायक आता, कभी सर्कस का करतब दिखाया जाता, और साथ ही किसी विषय पर आधे घंटे का एक गंभीर व्याख्यान भी होता। जैसे पिछली बार का व्याख्यान घरों में सब्ज़ियाँ उगाने के बारे में था और उससे पहले का टीकाकरण के विषय में। उसके बाद शेख साहब के बच्चों में से कोई पंद्रह मिनट में गोदामों से जुड़ी कोई बात समझा देता।

दूसरी अजीब बात यह थी कि व्यापार के इस तरह चमकने के साथ शेख साहब ख़ुद कुछ बुझ-से गए थे। स्टाफ़ से उनका निजी मेल-मिलाप अब बहुत कम रह गया था। धार्मिक तो वह पहले भी थे, मगर अब साल में दो बार चालीस दिनों के लिए दिल्ली में ख़्वाजा निज़ामुद्दीन औलिया की दरगाह पर चिल्ले के लिए जाने लगे थे। और दिल्ली में हर शाम वह और आईए भाई मिलकर दूध और इलायची वाली चाय किसी दुकान पर पीते हैं — मगर कौन-सी दुकान है, यह किसी को नहीं बताते।

रियाज़ अकबर
Everyone believed that if Indrakant Agrawal were removed from the moving parts of Nasir Sheikh’s business, the whole machine would struggle to run. In the Bagru Industrial Area of Jaipur, Sheikh Sahib owned two warehouses. Containers arriving from Kandla Port and Mundra Port were opened here. Goods were inspected, then carefully packed into small cardboard boxes and released into the market.

If one looked closely, roughly a quarter of the business depended on simple packaging work for large retail companies. The real profits came from bidding on goods confiscated by the customs department at ports and then selling them onward in the market. Indrakant was the true expert of this trade. Which goods should be purchased? How high should the auction bid go? In which markets of the country would these goods eventually find buyers? In the blink of an eye he would analyse these questions and move into action. Perhaps his mind was built in such a way that it never tired of thinking about several matters at once. Five days a week, from seven in the morning until five in the evening, his phone remained open. Everything was handled verbally. Without forgetting a single detail, he would instruct the warehouse manager which goods should be packed and where they should be dispatched. Besides this, twice every month Indrakant travelled to Kandla and Mundra to place bids at customs auctions.

Meanwhile the maintenance and administration of the warehouses remained directly under Sheikh Sahib’s supervision. He also handled financial transactions, timely payment of salaries, leave, and overtime accounts. Overall he was a quiet man with a somewhat elder-like, affectionate style of leadership. For him, asking about the wellbeing of his staff’s families was as much a business responsibility as monitoring their performance. Occasionally he would point out mistakes in a deal, but the business ran so smoothly that quarterly accounts rarely showed a loss.
Sheikh Sahib, and following his example the entire warehouse staff, welcomed Indrakant by calling out, “Aaiye Bhai!” The word Aaiye had been coined by Sheikh Sahib from the initials of his name — IA. Indrakant believed it was against his principles to leave the warehouse before the owner left for home. And Sheikh Sahib trusted him deeply. Many evenings after work he would call out,
“Aaiye Bhai… shall we have some tea?”
Then the two of them would walk to a small shop a short distance from the warehouse, where over milk tea flavoured with cardamom — sometimes accompanied by samosas or sweets — they talked about business, staff matters, and all sorts of other things before heading home.

It had been more than twenty-five years of cheerful work in the warehouse when, quite suddenly, Aaiye Bhai decided to leave Jaipur and move to Delhi. Perhaps he might not have left, but circumstances were changing. His son had completed a medical degree in Jaipur but had secured a permanent position in Delhi. His wife had also begun to fall ill frequently, and according to Aaiye Bhai, his son insisted that in advancing age they should live closer to him for treatment and care. Yet there was another reason behind his decision to resign — one he could not bring himself to say aloud. Changes were quietly taking place in the warehouse environment. Sheikh Sahib’s children were growing up, and their involvement in the business was only natural. But along with that, the methods of business strategy were becoming unfamiliar to him. He increasingly felt that in the twenty-first century people were becoming mechanical. The principles of industrial efficiency seemed to prioritise saving money and resources first — and human beings later. To him, this felt almost sinful, and it was something he could not accept in his work.

The signs that reinforced his thinking were not hidden. Until two years earlier Sheikh Sahib’s office had been a small room attached to the warehouse gate. Every morning as the shift began he would stand by the window, placing a hand on someone’s head, patting another on the shoulder, while the timekeeper beside him recorded the arrival time of each worker. On Eid and Diwali alike, Sheikh Sahib would extend his hand through that same window and give every worker a pair of cloth pieces for new clothes, along with his blessings. But things were no longer the same. The staff entrance now opened when a card was touched to a machine, and attendance was automatically recorded in a computer. During festivals, instead of personally handing out cloth and blessings, an extra day’s wage was transferred to the workers’ bank accounts.

Even more significant was that the business of auction purchases was now run not by Aaiye Bhai but by a model connected to artificial intelligence. Somehow the AI system obtained information about shopkeepers across the country — their addresses, shortages and demand for goods, and details of customs auctions. Within moments it analysed everything and displayed on the computer screen a list of preferred goods to be purchased, along with the maximum bidding limit for each item. Aaiye Bhai no longer needed to travel every fortnight to Kandla or Mundra, nor to call shopkeepers or instruct the warehouse manager about packaging. The entire business had moved online. In such circumstances he felt justified in seeing himself as nothing more than an unnecessary spare part of a machine.

Aaiye Bhai's departure was a sad moment. At a large farewell gathering, amid prayers and a few tears, he was bid goodbye. Yet strangely enough, despite so much mechanisation, the business continued to run smoothly and the staff seemed happy. The lunch break had increased from half an hour to a full hour. In the common room, alongside the dining tables and chairs, there was now a television and a table tennis table. Outside in the lawn stood a volleyball net. Every three months a two-hour social program was held — sometimes featuring a singer, sometimes a circus performer, followed by a half-hour talk on some useful topic. The last lecture had been about growing vegetables at home; before that it had been about vaccination. Afterwards one of Sheikh Sahib’s children would spend fifteen minutes speaking about matters related to the warehouses.

Another strange thing was that while the business seemed to flourish, Sheikh Sahib himself appeared somewhat dimmed. His personal interaction with staff had become rare. He had always been religious, but now twice every year he spent forty days in spiritual retreat at the shrine of Khwaja Nizamuddin Auliya in Delhi. And during those forty days in the same city, every evening, he and Aaiye Bhai will drink milk tea flavoured with cardamom at some shop — though which shop it is, they never told anyone.

Riaz Akber
Canberra, Australia